Wednesday, March 02, 2011

اسکولوں کے توسط سے جنک فوڈ کی تشہیر

نسیم احمد
خوراک ایک بنیادی انسانی حق ہے مگر بھوک دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ جو ہنوز حل طلب ہے۔ بہت سے معاشروں میں مسئلہ محض غذا کی قلت کا نہیں ہے بلکہ کون سی غذا کھائی جا سکتی ہے کون سی نہیں یہ امر بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے-ان دنوں جنک فوڈ پر زبردست ہنگامہ ہے۔ ایک جانب عالمی ادارہ صحت چھوٹے بچوں کو بازاری غیر صحت بخش کھانے پینے کی اشیا کے استعمال سے بچانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے جبکہ دوسری جانب بڑے بڑے اسکولوں کے توسط سے جنک فوڈ کی تشہیر کی جارہی ہے۔راجدھانی دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ میل ٹوڈے نے اپنے 25فروری کے شمارے میں انکشاف کیا ہے کہ قومی راجدھانی خطہ دہلی کا ایمیٹی انٹر نیشنل اسکول بچوں کی صحت سے کھلواڑ کرتے ہوئے چھوٹے بچوں میںسنرجی کارڈ(SYNERGY CARD) تقسیم کر رہا ہے جس سے بچوں کو مختلف جنک فوڈ آو ٹ لیٹ سے رعایتی شرح پر جنک فوڈ مل سکے گا۔
برطانیہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنک فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے بچوں میں بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بیماری سامنے آنے لگی ہے،جو پہلے صرف بالغ افراد کو لاحق ہوتی تھی۔صرف برطانیہ میں اس وقت2.8 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار ہیںجب کہ2007 سے اب تک اس بیماری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بچوں میں غذائیت کے بارے میں کی جانے والی 60 سے زیادہ تحقیقات کے تجزیے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنک فوڈ کھانے سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور بچے صحت کے خطرات کی زد پر ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے بھی چھوٹے بچوں کو بازاری غیر صحت بخش کھانے پینے کی اشیا کے استعمال سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ غیر صحت بخش خوراک والی اشیا بچوں میں غیر متعدی امراض کا باعث ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے شعبہ غیر متعدی امراض کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ایلا الوان کے مطابق بازاری اشیا میں چینی‘ نمک اور چکنائی زیادہ مقدار میں استعمال ہوتی ہے جوکہ بچے ٹیلی ویڑن پر اشتہارات اور کھانے پینے کی اشیا کی مارکیٹنگ سے متاثر ہو کر استعمال کرتے ہیں جن سے بچوں کو بعد ازاں دل کے امراض‘ ذیابیطس‘ کینسر اور کئی دیگر امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے بچوں کو غیر متعدی امراض سے محفوظ رکھنے کے لئے صحت بخش غذاوں کا استعمال کروانے اور انہیں کھانے پینے کی بازاری اشیا سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کسی نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ کھانے کے بہترین اوقات کون سے ہیں؟ ”ڈاکٹر نے جواب دیا کہ امیر آدمی کو جب بھوک لگے اور غریب آدمی کو جب بھی مل جائے“۔ عام تاثر یہ ہے کہ انسان ایک مکمل مخلوق ہے غذائیت کی مشین نہیں کہ اسے وہی کھلایا جائے جو اس مشین کو ٹھیک ٹھاک انداز میں چالو رکھ سکے انسان کے اپنے حواس خمسہ بھی ہوتے ہیں اور ان کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔ صحت مند جسم کیلئے زندگی سے پوری طرح لطف اندوز ہونا اور مثبت انداز فکر اختیار کرنا ضروری ہے ہمیں وہی کچھ کھانا چاہئے جو ہماری زندگی ہے اسے قواعد و ضوابط کا پابند کرنا عقل مندی نہیں۔اس کے علاوہ آج کے دور میں اتنی فرصت بھی نہیں کہ سکون سے اور وقت پر کھانا کھا یا جائے بلکہ زیادہ تر لوگوں کو بھرے پرے گھر میں جلدی جلدی سینڈوچ یا برگر قسم کی کوئی چیز کھاکر اپنے کام میں مصروف ہو نا پڑتا ہے۔اکثر لوگ یہ نہیں سوچتے کہ وہ بھوکے ہیں،ان کے لئے اب یہ پیٹ کے بجائے ذہن کا معاملہ بن چکا ہے۔ آج کے دور میں ہمیں خوراک یا غذا کے معیار کا حقیقی مطلب سمجھنا چاہئے کہ ہماری خوراک میں کولیسٹرول کی سطح کتنی ہے یا ہمیں مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے والی چربی یا روغنیات کی کتنی مقدار ہے یا پھر وہ کیمیائی اجزا جو کینسر کا سبب بنتے ہیں کتنے ہیں ۔ہمیں کیلوریز، وٹامن ، معدنی اجزااور صحت بخش اجزاپرخاص دھیان دینا چاہئے۔ یہ سب کچھ ہمیں اس لئے کرنا چاہئے کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ غذائی صفت قدرتی غذا کو کس طرح مسلسل برباد کئے جارہی ہے اور ہمارے کسان اور کاشت کار اپنے فارموں اور کھیتوں میں جراثیم کش دوائیںا سپرے کرکے سبزیوں اور فصلوں کا کس طرح ستیاناس کررہے ہیں۔یہ حقیقت بھی ہے اور اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ یہی وہ اثرات ہیں جن کے باعث ہمارے کھانے کا عمل لذت کے حصول کا سبب نہیں بن پاتا۔ ماضی میں ہم غذا سے جس طرح لطف اندوز ہوا کرتے تھے وہ دور تو کب کا ختم ہوچکا اور اب کھانا کھانے کا عمل محض ایک بوجھ کی شکل اختیار کرگیا ہے جس کو اتارنے کیلئے ہم جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور جنک فوڈ کی جانب راغب ہوتے ہیں جبکہ یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی گئی ہے کہ فاسٹ فوڈ بچوں کیلئے ایک کشش اور جادوئی اپیل رکھتی ہے ۔ غیرمتوازن خوراک یا غذا کو ہم اپنے کھانوں کا ہرگز جزو نہ بننے دیں اپنے کھانے کے ساتھ قدرتی انداز میں انصاف کریں۔ ڈائٹنگ کے نام پر ہونے والا یہ شور و غل اور ہنگامہ اپنی جگہ درست ہے کیونکہ یہاں معمولی مفاد کے لئے بچوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ لیکن کھا نے کے معاملے میں سائنس اور طبی تحقیقات نے بھی کافی ابہام پیدا کئے ہیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اس فکر میں دبلے ہوئے جارہے ہیں کہ ان کیلئے کون سی غذا اچھی ہے اور کون سی بری، لیکن ان کا یہ رجحان یا کریز عرصہ گزر جانے کے بعد اس وقت غلط ثابت ہوگا یا ہوا جب جب سائنس اور طبی تحقیق کے ذریعے بہت سی ان اشیا کو جو مدتوں سے بلیک لسٹ تھیں اچانک ان کو منظوری مل گئی اور ان کی افادیت بحال ہوگئی۔ انڈا، چاکلیٹ ،ریڈ میٹ یا کافی کی مخالف تحریک نے جو شدت اختیار کررکھی تھی اس کا اچانک خاتمہ ہوگیا۔ انڈے اب کولیسٹرول بم نہیں رہے یہی حال کافی کا ہے اور چاکلیٹ کو تو کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں اصل ہتھیار کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔
ملک میں چھوٹے اور نومولود بچوں اور حاملہ خواتین میں شرح اموات پہلے ہی دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔2008 میں ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 18لاکھ بچے، جن میں سے دس لاکھ بچے چار ہفتے یا اس سے بھی کم عمر کے تھے، اور 68 ہزار مائیں ناکافی طبی سہولتوں کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہی نہیںملک میںنقص تغذیہ کے شکار بچوں کی تعداد بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ 5کروڑ20لاکھ ہے۔اس لئے جنک فوڈز پسند کرنے والے بچے ہوشیار ہوجائیں ،یہ فوڈز آپ کو بیمار بھی کر سکتے ہیں ،اس لئے احتیاط کیجئے۔والدین اس جانب خصوصی توجہ دیں۔
(مضمون نگار سے 09873709977یا naseem987@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment