Wednesday, March 02, 2011

عرب تحریک کوناکام کرنے کی امریکی کوشش


محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
دنیا کے تاریخ اہم موڑ پرہے ۔ شمالی افریقہ اور عرب ممالک میں عوام غیرجمہوری الم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ تیونیشیا اورمصر کے بعد اب لیبیا، بحرین اور یمن میں لمبے عرصہ سے جاری حکومتوں کے خلاف شدید احتجاج جاری ہیں۔لیبیا کے کئی شہر اوراہم تنصیبات حکومت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ وہاں سابق وزیر انصاف نے بن غازی میں عبوری حکومت قائم کرکے آئندہ تین ماہ میں انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ بحرین اور یمن میں حکومت مخالف احتجاجات میںروز بروز شدت آرہی ہے۔ امریکہ نے واضح اشارہ دے دیا ہے کہ وہ تیونیشیا اور مصر کی طرح ظاہری طور پر بھی عوام کا ساتھ نہیں دے گا بلکہ وہ عوام کے خلاف حکومتوں کے ذریعہ بڑے اسلحے کے استعمال کی بھی حمایت کررہا ہے۔ اب تک خطے میں عوام نے حکومتوں کے خلاف احتجاجات کے دوران کافی حدتک قربانیاں دی ہیں ۔ مغربی ممالک نے اب یہ طے کر لیا ہے کہ ان کے مفادات غیر جمہوری حکومتوں سے وابستہ ہیں اور اب وہ مزید ممالک میں جمہوریت کے مطالبے کی حمایت نہیں کر یں گے۔
امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان فلپ کراولے نے 25فروری کو ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی حکومت کے ذریعہ دئے گئے اسلحے کا یمن کی علی عبداللہ صالح حکومت کے ذریعہ احتجاجیوں کے خلا ف استعمال کرنے کا دفاع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی قانونی طور پر قائم حکومت کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال میںامریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ ان کی حکومت کا یمن سے دفاعی تعاون منقطع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ حالانکہ امریکی فوجی کمک کا استعمال احتجاجیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے لیبیا میں اب تک حکومت کے ذریعہ شدید فوجی کارروائی کے دوران کئی ہزار افراد مارے جاچکے ہیں ۔ اب تک کئی شہروں پر مخالفین قبضہ ہوچکے ہیں۔ کئی وزرا، فوجی حکام اوربہت سے ممالک میں لیبیا کے سفرا نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ لیبیا کے موجودہ صدر کرنل قذافی کے ایک بیٹے سیف العرب قذافی بھی بن غازی میں مخالفین کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ لیبیا میں ہزاروں افراد کے حکومت کے ذریعہ مارے جانے کے بعد بھی امریکہ عوام کی حمایت نہیں کر رہا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے عوام کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد کئی روز بعد کہا کہ لیبیاکے حالات پر امریکہ کو تشویش ہے اور وہ اقوام متحدہ کے تحت لیبیا سے متعلق پالیسی طے کریں گے اور یہ کہ آئندہ کا لائحہ عمل طے ہونے میںابھی وقت درکار ہے ۔ یعنی لیبیا میں عوامی قتل عام کو روکنے کے لئے امریکہ کی کوی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اسے لیبیاکے ساتھ تجارتی معاہدوں کو بچانے میں دلچسپی ہے ۔ یہ تقریباً وہی صورتحال ہے جب عراق کے کویت پر قبضے کے بعد صدام حسین نے جنوبی عراق پر کربلا اور نجف میں بمباری کی تھی اور امریکہ نے اسے روکنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی تھی جبکہ شمالی عراق میں کردوں کو امریکہ نے پورا تعاون اور سیکورٹی فراہم کی تھی۔بحرین کے واقعات پر امریکہ اس لئے خاموش ہے کہ اب تک الخلیفہ حکومت اس کی بہترین اتحادی ثابت ہوئی ہے ۔ بحرین میں امریکہ کا پانچواں فوجی بیڑا ہے ۔ کئی ہزار امریکی فوجی مع سازو سامان کے وہاں موجود ہیں ۔ بحرین میں شیعہ اکثریت ہونے کی وجہ سے امریکہ کو خدشہ ہے کہ خطے میں ایک اور ایران قائم نہ ہوجائے ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آزادی اور حریت ہر انسان کے مزاج میں شامل ہے ۔ اس لئے عرب ممالک میں جہاں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے وہاں اب ظالم حکمرانوں کی امریکہ اور اسرائیل نوازی کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد حالانکہ ابھی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوپائی ہے پھربھی وہاں کی موجودہ حکومت نے ایرانی فوجی جہازوں کو سویز نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اورغزہ کے لوگوں کے لئے سرحدیں کھول کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصر اب اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ خطے کی عوام کے حق میں فیصلے لے گا۔جس وقت یہ مضمون تحریر کر رہا ہوں لیبیا کے حالات مسلسل سنگین ہیں اور ایسامحسوس ہورہا ہے کہ کسی بھی دن معمر قذافی خود کشی کر لیں گے یا ان کا قتل ہوجائے گا یا پھر وہ ملک چھوڑ کر فرار ہوجائیں گے۔البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی ملک قذافی کو اپنے یہاں پناہ دے۔ اب تک فوج کے کچھ بڑے افسران حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر فوج پوری طرح سے کرنل قذافی کو تنہا چھوڑ دے تولیبیا میںحکومت کا تختہ پلٹنا آسان ہو جائے گا۔ یہ طے ہے کہ کرنل قذافی بھی صدام حسین سے کم ظالم ثابت نہیں ہورہے ہیں۔بحرین حکومت نے بظاہر احتجاجیوں کو مناما کے پرل اسکوائر پر احتجاج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ میرا تجزیہ ہے کہ امریکہ نے بحرین حکومت کوصبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کی ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو مظہوروں اور احتجاج سے عاجز و بیزار کر دیا جائے اس طرح ممکن ہے کہ مظاہرین چند ہفتوں کے بعد واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ اس درمیان مظاہرین کو مختلف سازشوں کے ذریعہ تقسیم کرانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ اگر یہ تمام سازشیں ناکام رہیں تو ممکن ہے کہ بحرین کے مظاہرین کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جائے ۔یمن میں بھی مخالفین نے ملک کے کچھ علاقوں پر تقریباً اپنا قبضہ جمایا ہوا ہے ۔ علی عبداللہ صالح نے اپنے عہدہ سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے لیکن جس طرح سے احتجاج روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے اس سے یہ قطعی نہیں لگتا کہ حکومت کی تبدیلی سے پہلے مظاہرین واپس چلے جائیں گے ۔ وہاں عوام بھی مسلح نظر آرہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یمن کی حکومت احتجاجیوں کے خلاف فوجی کارروائی اس لئے نہیں کرا سکتی کیونکہ فوج میں بھی کثیر تعداد میں مخالفین موجود ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بحرین اور یمن میں حریت پسند عوام کے احتجاج کو مغربی میڈیا مسلکی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ابھی حال ہی میں امریکہ کے ایک بڑے اخبار نے یہ افواہ اڑانے کی کوشش کی کہ عرب ممالک میںجاری انقلاب کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دوبڑے مسلکوںکے درمیان کشیدگی پیدا ہوگی ۔یعنی یہ سازش بھی کی جا رہی ہے کہ کسی طرح سے موجودہ تحریک کو مسلکی رنگ دے کر بادشاہتوں کو بچا لیا جائے ۔عراق میں بھی2003کے بعد سے ہی مغربی میڈیا نے شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی کوششیں کیں۔ وہاں سعودی عرب سے گئے ہوے القاعدہ سے متعلق عناصر کے ذریعہ خود کش دھماکے کرائے گئے لیکن اسوقت یہ حقیقت ہے کہ عراق کی موجودہ حکومت میں شیعہ سنی اور کرد سبھی شامل ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران وہاں بم دھماکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ادھر ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے گزشتہ دو ہفتوں میں کئی بار یہ بات دہرائی ہے کہ عرب ممالک میں شروع ہوئی تحریک اسلامی انقلاب ہے اور مغربی طاقتیں اس حقیقت کو جان بوجھ کر تسلیم نہیں کر رہی ہیں ۔ادھر سعودی عرب میں بھی 11مارچ کو یوم غضب منانے کی تیاری ہے جس میں کچھ علاقوں میں بڑے احتجاج ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کے شمال مشرق میں قطیف خطے میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کے حق میں اور بحرین کی عوام سے ہمدردی ظاہر کرنے کی غرض سے احتجاج کرنے کی تیاریاں ہیں۔ جدہ میں بھی نوجوانوں کی تنظیم ’ جدہ یوتھ‘ نے منظم ہونا شروع کر دیا ہے ۔ فی الحال وہ لیبیا کے عوام کی ہمدردی میں مظاہرہ کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیںلیکن ممکن ہے یہی نوجوان بعد میںاپنی حکومت کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔حال ہی میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے اپنی عوام کے لئے اچانک کچھ رعایتوں کا اعلان کیا اور ملازمین کی تنخواہ میں 15فیصد کا اضافہ کیا ،ایک لاکھ 80ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کر دیا گیا اور نجی زمرے کے ادروں میں ملازمتیں کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کی ہدایت جاری کر دی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیونیشیا اور مصر میںحکومتوں کا تختہ پلٹنے اور خطے کے کئی ممالک میں عوامی احتجاجوں کو دیکھتے ہوئے سعودی حکومت عوام کو لبھانے اور پرسکون رکھنے کے لئے یہ احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ اقدامات کر رہی ہے۔ عرب ممالک اور شمالی افریقی ممالک کی بادشاہتوں کو سب سے زیادہ حمایت امریکہ کی رہی ہے وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح سے اس کے تجارتی مفادات اور اسرائیل کے وجود کو کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ اسے اس خطے کی عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہتا تو وہ صدام حسین کے ذریعہ عراقی عوام کے خلاف مظالم پر خاموش نہ رہتا۔ جن ممالک میں بھی اب عوام اپنی حکومتوں کے خلاف اب احتجاج کر رہے ہیں وہاں ہونے والے مظالم پر بھی اس نے پردہ پوشی کی ہے۔ امریکہ نے حالیہ دنوں میں لیبیا ‘ بحرین اور یمن کے حالات پر جس طرح سرد مہری کا اظہار کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہے کہ وہ خطے میں جمہوریت کے قیام کے حق میں نہیں ہے اور اب وہ خطے کی عوام کو بے یارو مدد گار چھوڑنے میںہی اپنی بھلائی سمجھ رہا ہے ۔ میرا تجزیہ ہے کہ آخر کار جیت عوام کی ہوگی ۔امریکہ اور مغربی ممالک کو اس تحریک کے آخر میں کچھ نہیں ملے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بحرین، یمن اور لیبیا میں حکومتوں کا تختہ پلٹنے کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی یہ تحریک جاری رہے گی ۔تیونیشیا اور مصر میں عوام بیداری کا ثبوت دے رہی ہے ۔وہ تیونیشیا میں غنوچی کی حکومت اور مصر میںفوج کے ذریعہ حسنی مبارک کے زمانے کے وزیروں کو بحال کئے جانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ طے ہے کہ عرب اور شمالی افریقی ممالک میں جاری تحریک سے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور دوسری طرف ایران کے حریت پسند انہ نظریہ کو تقویت ملے گی۔یہ ممکن ہے کہ ان ممالک میں فی الحال پوری طرح سے جمہوری نظام قائم ہونے میں وقت لگے لیکن یہ طے ہے کہ عوام کے سیاسی حقوق میں اضافہ ہوگا اور خطے میں کشیدگی میں کمی ہوگی۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا ahmadkazmi@hotmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment