Wednesday, March 23, 2011

عرب انقلاب سے مصنوعی طاقتیں کمزوری کی طرف گامزن



محمداحمد کاظمی
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جاری انقلاب فیصلہ کن مراحل میں ہے۔ لیبیا میں قذافی کے فوجی ٹھکانوں پر امریکہ ‘ برطانیہ اور فرانس نے بمباری شروع کر دی ہے۔ عرب لیگ کی اپیل پر اقوام متحدہ کے ذریعہ فضائی پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد بھی معمر قذافی نے آخری مرحلے میںجنگ بندی کے اعلان کے باوجودانقلابیوں کے خلاف فوجی کاروائی جاری رکھ کر تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔حالانکہ آخری وقت تک میں نے مضمون میں تازہ اطلاعات شامل کی ہیں پھر بھی ممکن ہے کہ جب تک قارئین کے زیر نظر آئے معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہو چکاہو۔ البتہ یہ طے ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک نے قذافی حکومت کا خاتمہ یقینی دیکھ کر ہی لیبیا میں مداخلت کی ہے۔
بحرین میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اورعمان کی فوجی کمک پہنچنے اور ایمر جنسی کے نفاذ کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بحرین میں خاص طور سے سعودی عرب کی فوج نے نہتے شہریوں پر گولی باری اور اسپتالوں پرحملے کر کے درجنوں شہریوں کو ہلاک کر دیا اور ملک کے دارالحکومت مناما شہر کے پرل اسکوائر کو عوام کو دہشت زدہ کر کے خالی کراکر وہاں موجود حریت پسندی کے نشان کو بھی ختم کر دیا ہے ۔ یمن میں احتجاجی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال جاری ہے اور وہاں بھی ایک اندازہ کے مطابق سیکڑوں افراد قتل ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں سعودی حکومت کے بحرین فوج بھیجنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج جاری ہےں۔ اردن میں بھی لگا تار 11ویں جمعہ کو( 18مارچ ) ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے جس میں ملک میں آئینی اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ لیبیا میں جہاں گزشتہ دو ہفتو ں میں معمر قذافی نے ہوائی حملوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعہ ہزاروں شہریوں کا قتل عام کیا ہے میرا تجزیہ ہے کہ اب امریکہ کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ قذافی پورے لیبیا پر پھر سے حاکم نہیں ہو سکتا اور مخالفین آخری حدتک جنگ جاری رکھیں گے۔ یہ محسوس کرنے پر کہ عوامی انقلاب کا میاب ہوگا ۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعہ لیبیا کے خلاف فضائی پابندی اور فوجی کارروائی کی قرار داد پاس کراتے ہوے فوجی کاروائی شروع کی ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اب معمر قذافی حکومت چند روز میں ہی برطرف ہوجائے گی۔ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ عوام کے خلاف اس قدر مظالم کے بعد معمر قذافی کو کوئی ملک پناہ دے گا۔ امریکہ اور یوروپی ممالک شاید اتنی ہمت نہ کرسکیں ممکن ہے کچھ افریقی ممالک جن پر قذافی کے احسانات ہیں میں سے کوئی ایک انہیں سیاسی پناہ دے دے ۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ قذافی کو ملک کے اندر ہی کچھ عناصر قتل کر دیں یا پھر وہ خودکشی کرلیں۔
بحرین کے الخلیفہ حکومت کو بچانے کی کوشش میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک جن میں سرکردہ کرد ار سعودی عرب نبھا رہا ہے‘ امریکہ اسرائیل اور مغربی ممالک کے اشاروں پر مسلکی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آخر یہ حقیقت تسلیم کرنے میں انسانی حقوق کے علمبردارامریکہ‘ یوروپی ممالک اور خود کو مسلمان کہنے والے خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی حکومتیں کیوں چشم پوشی سے کام لے رہی ہیں کہ بحرین میں کم از کم 70فیصد شیعہ آبادی ہے جبکہ وہاں سعودی عرب کے نمائندہ اورحمایت یافتہ شاہی الخلیفہ خاندان نہ صرف ظلم اور جبر کے سہارے حکومت کر رہا ہے بلکہ اپنی عوام کے حقوق کوپامال بھی کر رہا ہے ۔ ملک کی اکثریت جن میں سنی اور شیعہ سبھی شامل ہیں اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے بحرین دورہ کے بعد خلیجی تعاون کونسل ممالک کی حکومتیں کیسے متحد ہوگئیں؟ بحرین میں غیر مسلح عوام کو سعودی افواج جس بے رحمی سے قتل کر رہی ہیںوہ دنیا کی حکومتیں اور عوام خاموشی سے دیکھ رہی ہیں۔ بحرین کے انقلاب کو مسلکی رنگ دینے والے عناصر عمان اور یمن میں ہورہے احتجاجات پر خاموش ہیں۔ ان ممالک میں انقلاب کی سربراہی سنی حضرات کر رہے ہیں۔ یعنی ظالم اور مظلومکا کوئی مذہب یا مسلک نہیں ہوتا ۔ محض ظالم کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں ممکن ہو وہ مذہب اور مسلک کا سہارا لے کر اپنی جان بچالے ۔ یہ بالکل ایسا ہے کہ دو افراد میں کسی تنازع پر جھگڑا ہونے کی صورت میں بے ایمان اور کمزور شخص اپنی جان بچا نے کے لئے مذہب اور مسلک کا سہار ا لے ۔ عرب ممالک میں کوشش ہو رہی ہے کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کر کے حکومتیں بچائی جائیں۔ حال ہی میں بحرین کے شیعہ اور سنی علماءنے ایک قرارداد پاس کرکے یہ کہا ہے کہ انقلاب کو مسلکی رنگ دینے والوں کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے متحد اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ایران کے سابق مجلس اسپیکر حداد عادل حال ہی میںہندوستان کے سفر پر تھے۔ انہوں نے نئی دہلی میں واقع ایران کلچر ہاو ¿س میں شیعہ اور اہلسنت علماءسے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر 20ویں صدی کے اوائل اور 21ویں صدی کے اوائل کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقائق سامنے آئیں گے کہ 100سال قبل دنیا کے مسلمان کافی کمزور اورمغربی طاقتوں سے مغلوب نظرآتے تھے جبکہ آج کا مسلم نوجوان مغربی تمدن سے مرعوب نہیں ہے اور اسے مسلمان ہونے پر فخر ہے ۔ مغرب کی سازش تھی کہ اسلام مذہب محض چند دکھا وے کی عبادتوں اور لباس تک محدود رہے جیسا کہ عیسائی مذہب کے ساتھ ہوا ۔ لیکن وہ اس سازش میں ناکام ہونے کے بعد اب دنیا میں مسلکی اختلاف پھیلاکر مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ عرب اور افریقی ممالک میں آرہی اسلامی بیداری کو بھی دشمن طاقتیں مسلکی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں ۔ سنی اور شیعہ علما کو چاہئے کہ عوام کو اس سازش سے آگاہ کریں اور دنیا کے بدلتے حالات کو نزدیک سے سمجھنے کے لئے کوشاں رہیں۔
یمن کی عوام کسی بھی طرح اپنا احتجاج ملتوی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اب تک صدر صالح نے ملک میں نئے آئین پر ریفرینڈم کرانے اور کچھ اصلاحات نافذ کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن عوام اس سب کو سننے کو تیار نہیں ہیں۔
ادھر سعودی عرب کے ذریعہ بحرین میں الخلیفہ حکومت کو بچانے کی غرض سے فوجیں بھیجنے کے خلاف ملک کے مشرقی شیعہ اکثریتی علاقوں میں شدید مظاہرے ہورہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جیسے جیسے سعودی عرب بحرین میں عام شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گا سعودی عرب میں حکومت کے مخالفین کی تعداد بڑھے گی ۔ سعودی عرب کے مختلف شہروں بھی احتجاج پھیلتا جا رہا ہے۔وہاں حکومت کا خوف عوام کے دل سے نکلتے ہی احتجاجوں میں مذید شدت آئے گی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ لیبیا میں امریکہ اور مغربی ممالک کے ذریعہ فوجی کارروائی کے نتیجہ میں حکومت کے گرتے ہی بحرین کے احتجاج میں بھی مزید شدت آئے گی ۔ ایسی صورت میں امریکی حکومت عوام کو کامیاب ہوتا دیکھ کر بحرین اور سعودی عرب حکومتوں کے بھی خلاف ہوجائے گی۔ وہ یہ سب اس لئے کرے گی تاکہ ان ممالک میں عوامی انقلاب کے نتیجہ میں قائم ہونے والی مستقبل کی حکومتوں کو اپنے فریب کے جال میں پھنسا یا جا سکے ۔ لیکن میرا یہ یقین ہے کہ اس خطے میں اب اسرائیل اور امریکہ کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی اور وہاں کی عوام میں امریکہ کے خلاف شدید نفرت کی بنا پر وہ کسی بھی فریب میں نہیں آئیں گی۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا ahmadkazmi@hotmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)
For more news visit our page : Latest Urdu News, Urdu News,Online News



0 comments:

Post a Comment