Wednesday, March 02, 2011

دہشت گردی کی جغرافیائی حدود ہوتی ہے اور نہ کوئی مذہب


اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے زیر اہتمام حیدرآباد کے سمینار میں مقررین کا اظہار خیال
(رپورٹ سید اجمل حسین، نمائندہ اردو تہذیب)
دہشت گردی کی کوئی جغرافیائی حدود ہوتی ہے نہ اس کا کوئی رنگ نہ نسل اور نہ ہی اس کا کوئی مذہب ہوتا ہے بلکہ وہ ایک ایسا انسانیت دشمن فعل ہے جسے صرف دہشت گردی کا ہی نام دیا جاسکتا ہے اور چونکہ دور حاضر میں یہ کوئی علاقائی دہشت گردی نہیں بلکہ عالمی دہشت گردی ہےجو اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے اتحاد و یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے مشترکہ جد و جہد سے پسپا کیا جائے اور دہشت گردی کوئی ایسا عفریت نہیں کہ اس سے مخلوط تہذیب و ثقافت کے ہتھیارسے پسپا نہ کیا جاسکے ضرورت صرف بلا لحاظ مذہب و ملت و علاقہ و خطہ ہر کس و ناکس کے دل میں روا داری، تحمل ، صبر و استقلال اور باہمی اخوت و محبت کے جذبات کے موجزن ہونے کی ہے۔ Jagjit -Singhعلاوہ ازیں گیت ، گانے، نغمے شاعری اور اجیت سنگھ ست بھامراکا طریقہ کار دہشت گردی سے نجات پانے کا بہترین علاج ہیں۔ یہ وہ خیالات ہیں جو سلطنت قطب شاہی تا سلطانان دکن کی روشن تاریخ سے جگمگاتے و دمکتے شہرحیدر آبادکے ہوٹل دکن تاج میں اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ (urdutahzeeb.net)کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان سمینار میں تقاریر کرنے والی بیورو کریسی، فلمی،تدریسی،کھیل،صحافی، صوفی اور مذہبی ملکی و غیر ملکی شخصیات نے پیش کئے۔لندن سے آئے مہمان مقرر چمن لال چمن نے دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ ممبئی کا ہوٹل ہو یا لاہور کا۔ لندن کی بس ہو یا ورلڈ ٹرید سینٹر وہ دہشت گردی کا تانڈو ناچ دیکھنے کا زندہ ثبوت ہیں جو اس دہشت گردی کو عالمی دہشت گردی ثابت کرتا ہے۔ لیکن پاکستان سے آئے مہمان حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے چیرمین جناب اقبال حیدر کا کچھ اور ہی خیال تھا۔ اقبال حیدر نے سمینار میں اور فرصت کے لمحات میں حیدر آباد کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا نیز کچھ دیگر حاضرین کے ساتھ نجی گفتگو میںکہا کہ یوں تو دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن اس وقت سب سے زیادہ اس موذی مرض کا شکار پاکستان ہے جہاں القاعدہ، طالبان اور تحریک طالبان کراچی سے سوات تک قتل و غارت گری میں لگے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردی ہی ہے جو پاکستان اور بنی نوع انساں کی دشمن بنی ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دشمن ہندوستان نہیں بلکہ خود ہم ہیں اور دشمن ہمارے اندر ہی چھپا ہوا ہے ۔ اسی دشمن کے ہاتھوں آئے روز پاکستان میں خونیں وارداتیں ہوتی ہیں کہیں بم پھٹتے ہیں تو کہیں بے قصوروں کو اندھادھند گولیاں برسا کر موت کی آغوش میں بھیج دیا جاتا ہے۔اسکولوں کو بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ان کے خیالات کی تائید نہ کرنے یا ان کی زبان نہ بولنے والے مساجد کے اماموں تک کو نہیں بخشا جاتا وہ بھی انتہا پسندوں کی گولیوں کا شکار بنتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان دہشت پسندوں اور انتہا پسند تنظیموں کو امریکہ اور سعودی عرب کی زبردست حمایت حاصل ہے وہ ان کی حوصلہ افزائی کے لئے بے دریغ پیسہ خرچ کرتے ہیں جس سے صرف پاکستان ہی نہیں پورا ساﺅتھ ایشیا دہشت گردی کے زلزلہ سے آئے رو زلرزتا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف امریکہ اور سعودی عرب ہی نہیں خود پاکستانی فوج کے کچھ افسران بھی ان کی در پردہ مدد کرتے ہیں جس سے وہ خود کو خدائی فوجدار سمجھ بیٹھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان سے کئی جنگیں ہوئیں لیکن پاکستان کا کوئی فوجی جنرل نہیں مارا گیا لیکن یہ طالبان اور القاعدہ اور ان جیسی انتہا پسند پاکستانی تنظیمیں ہی ہیں جن کے ہاتھوں پاکستانی جنرل مارے گئے جن کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے کچھ ان پاکستانی فوجی افسران کو بے نقاب کرنے کا ارادہ کیا تھا جن کے طالبان اور القاعدہ سے رابط تھے۔ اب سے ٹھیک تین سال قبل اسی مہینے میں 25فروری 2008کو لیفٹننٹ جنرل مشتاق احمد بیگ ایک خود کش بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے اور اس کے ڈھائی سال بعد ہی ایک اور فوجی جنرل میجر جنرل احمد فیصل علاوی کو دہشت گردی مخالف رویہ اپنانے اور طالبان کے جال میں نہ پھنسنے نیز آئی ایس آئی کے افسروں کی طالبان اور القاعدہ کے ساتھ ساز باز کو ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کرنے کی دھمکی دینے کی وجہ سے خود پاکستانی فوج نے ہی ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جس کی توثیق اس سے ہوتی ہے کہ انہیں 9ایم ایم پستول سے 8گولیاں چلا کر مارا گیا تھا اور یہ دہشت گردوں کی کارروائی نہیں تھی۔ mahmood-madaniانہوں نے کہا کہ اس وقت یہی دہشت گردی زبردست پروان چڑھ کر حکومت وقت کے لئے زبردست چیلنج بن گئی ہے اور اس سے نپٹنے کے لئے پاکستان کی کوششوں میں عالمی تعاون کی سخت ضرورت ہے خاص طور پر ہندوستان اس میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان پہلے تو اپنی سرزمین کو دہشت گردی سے پاک کرے جس سے نہ صرف اس کی یکجہتی برقرار رہے بلکہ ہند پاک کشیدگی بھی دور ہو سکے۔ لہٰذادونوں پڑوسی ملکوں ہندوستان اور پاکستان کو پورے جنوب ایشیائی خطہ کو دہشت گردی سے پاک کرنے لئے متحد ہوکر جدو جہد کرنی ہوگی ۔ مشترکہ تہذیب کے امتزاج سے مشترکہ حکمت عملی وضع کر کے اس عفریت کو ایسے پنجرے میں قید کرنا ہوگا جہاں سے وہ صرف ٹکر ٹکر تو دیکھ سکے کچھ کر نہ سکے۔مقررین نے دہشت گردی کی اصل جڑ فرقہ پرستی کو بھی بتایا اور اس ضمن میں میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا گیا کہ وہ کچھ خبروں کو اس طرح نمک مرچ لگا کر پیش کرتا ہے کہ اس سے فرقہ پرستی کی آبیاری ہوتی ہے اور فرقہ پرستی کا جو پودا مرجھانا شروع ہوتا ہے پھر سے سر سبز و شاداب ہو جاتا ہے۔اس سلہ میں ہندوستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کوچ و منیجر عباس علی بیگ نے کہا کہ کھیل بھی دہشت گردی کا شکار بن رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان و پاکستان کے درمیان کرکٹ رابطے نہیں ہیں اور غیر ملکی ٹیمیںجو پاکستان جا کر کھیلا کرتی تھیں اسے بھی دہشت گردی نے اپنا شکار بنا لیا اور سری لنکا کے کھلاڑیوں پر دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے اب کوئی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے کی بھی ہمت نہیں کرتی اور اس کی ٹیم کو کرکٹ سریز کھیلنے کے لئے کسی تیسرے ملک جانا پڑتا ہے اور اسے ہوم سریز کا نام دیا جاتا ہے۔ mahesh-bhattانہوں نے کہا کہ کرکٹ میں بھی فرقہ پرستی کی داغ بیل تو انگریزوں کے دور میں ہی تقسیم ہند سے پہلے ہی اس وقت پڑ گئی تھی جب مسلمانوں، ہندوﺅں ، عیسائیوں اور پارسیوں کی الگ الگ ٹیمیں بنا کر ان کے درمیان میچ شروع کرائے گئے تھے۔ اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود ممبئی سے دہلی جانے کے بجائے سیدھے حیدرآباد پہنچنے والے جمیعتہ العلماءہند کے قائد اور ممبر پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی مختلف انداز میں تشریح کی جارہی ہے کوئی اسے جہاد کا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے آزادی کے متوالوں کی تحریک قرار دینے پر کمر بستہ ہے تو پڑوسی ملک اسے دہشت گردی قرار دینے پر مصر رہتا ہے تو ایسے میں مخلوط اور مشترکہ تہذیب و ثقافت کے ہتھیار سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں انتہائی دانشمندانہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔جس سے ہر شخص دہشت گردانہ واقعات کو انسانیت کے قتل سے تعبیر کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث سے واضح ہو جاتا ہے کہ حق کے لئے لڑنا جائز ہے لیکن ناحق خون بہانے کو ہر گز جہاد نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ زمین پر فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔مولانا مدنی نے کہا کہ اصل جہاد تو نفس پر قابو پانا ہے اور جب نفس پر قابو پالیا جائے گا تو اس قسم کی دہشت گردی ،جس نے آج ایک عالم کا سکون درہم برہم کر رکھا ہے، خود بخود نیست و نابود ہو جائے گی۔
مشہور و معرف بزرگ صحافی مسٹر کلدیپ نیئر نے دہشت گردوں اور پولیس کو ایک ہی تھیلی کا چٹہ پٹہ بتایا وہ دونوں ہی اپنی بربریت کے لئے جانے جاتے ہیں۔iqbal- haider انہوں نے کہا کہ اگر دہشت پسند بموں، فائرنگ اورخودکش حملوں کو اپنا ہتھیار بنائے ہوئے ہیں تو پولس اذیت رسانی اور فرضی مڈبھیڑوں میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں بدنام ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ساری پولس فورس اس زمرے میں نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ یہ پولس کی فرض شناسی ہی ہے کہ آج وہی پنجاب جو کبھی دہشت گردی اور تشدد کا گڑھ تھا سکون کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ساری پولس کو ظالم نہیں کہا جا سکتا اسی طرح سارے مسلمانوں کو بھی دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا لیکن جتنے بھی دہشت گرد ہیں وہ مسلمان ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب مسلمانوں پر سے یہ داغ بھی دھلنے لگا ہے کیونکہ گذشتہ کچھ عرصہ سے بھگوا دہشت گردی بے نقاب ہونے لگی ہے اور یہ ہندوستانی پولس اور اس کی خفیہ ایجنسیاں ہی ہیں جن کی دیانتدارانہ تفتیش اور کھوج نے ملک میں بھگوا دہشت گردی کا پردہ فاش کیا اور اسیما نند جیسے لوگ منظر عام پر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دہشت گردی سرحد پار پاکستان، میانمار اور برما سے داخل ہو رہی ہے اور اس پر قابو پانے کا واحد راستہ ہندوستان اور پاکستان کا پر امن بقائے باہم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے دونوں ملکوں میں امن قائم رکھنے کے لئے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ حیدر آباد کے مشہور صحافی اور روزنامہ سیاست کے نیوز ایڈیٹر نے اخبار کے چیف ایڈیٹر کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار کے لئے اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کا موضوع بحث” کیا مخلوط تہذیب سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے“ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ سنجیدگی سے غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے ۔ aanand-raj-aanandانہوں نے کہا کہ مسلم ملکوں میں دہشت گردی ، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کو اسلام سے جوڑنا اور پھر مسلمانوں کو عتاب کا شکار بنانا نا مناسب ہے کیونکہ انگلینڈ میں آئرش دہشت گردی کو عیسائیت کی دہشت گردی سے کبھی تعبیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام جب تلوار اور بندوق سے نہیں پھیلا تو وہ دہشت گردی کو کیسے جائز قرا ر دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کئی اقسام ہیں۔ امریکی دہشت گردی، عالمی دہشت گردی القاعدہ اور طالبان کی دہشت گردی اور ناتھو رام گوڈسے کی دہشت گردی جیسی قسموں سے ہم دوچار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی اعتبار سے دہشت گردی کا تعلق انسانیت دشمنی سے ہے۔ ہندوستان میں بھی دہشت گردی رہی ہے اور ہندوستان میں پہلی دہشت گردی گاندھی جی کے قتل سے شروع ہوئی۔لیکن چونکہ رواداری اور تحمل و برداشت کا مادہ عنقا ہوتا جا رہا ہے اس لئے فرقہ پرستی جنم لے رہی ہے ۔انہوں نے کلدیپ نائر کی تقریر کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے تو صرف پولس اور دہشت گردوں کو ہی ایک ہی تھیلے کا چٹہ بٹہ بتایا ہے جبکہ سیاست داں بھی اس زمرے میں آتے ہیںجو محض اپنے ذاتی یا پارٹی مفادات کی خاطردہشت گردی کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اسلامی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ اسلام تشدد و فتنہ فساد کی ہر گز اجازت نہیں دیتا ۔ انہو ں نے کہا کہ دہشت گردی کو اسلامی دہشت گردی کا نام دے کر مسلمانوں کو الگ تھلگ کیا جارہا ہے اور اس سے فرقہ پرستی کو ہی فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے مکہ مسجد بم دھماکہ، اجمیر بم دھماکہ، سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ، حیدر آباد کے گوکل چاٹ بم دھماکوں کے حوالے دئے اور کہا کہ ہر مقام کی پولس حرکت میں آگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پولس ہی جب فرقہ پرستی سے کام لے گی تو کیا پولس مظالم سے مسلم نوجوانوں میں انتقامی جذبات جنم نہیں لیں گے کیا اس سے ملک کی سلامتی محفوظ رہ سکے گی؟ انہوں نے کہا کہ جس طرح مشترکہ تہذیب سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے اسی طرح اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے پلیٹ فارم سے یہ میسیج دینا بھی ضروری ہے کہ ہر مکتب فکر کے دانشوروں کو یہ غلط فہمی دور کرنی چاہئے کہ دہشت گردی کا اسلام سے تعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ کرکے اور اس کو دنیا بھر میں پھیلا کر دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان تو خود ہی کثرت میں وحدت اور مشترکہ تہذیب کاکا جیتا جاگتا ثبوت ہے بس ضرورت اس قسم کے مباحثہ سے پیغام محبت دینے کی ضرورت ہے جس کی گونج سے پورا ساﺅتھ ایشیا گونج اٹھے اور دہشت گردوں کے حوصلے پست ہو جائیں۔مشہور فلم سازمسٹر مہیش بھٹ نے کہا کہ اس پلیٹ فارم سے یہ پیغام پوری دنیا کو پہنچنا چاہئے کہ مخلوط تہذیب ہی دہشت گردی کی اصل کاٹ ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہو یا پاکستان دونوں ملکوں میں کچھ ایسی فرقہ پرست تنظیمیں ہیں جو دونوں لکوں کے درمیان نہ تعلقات استوارہونے دینا چاہتی ہیں اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف متحدہ جدوجہد کرنے دینا چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے مہاراشٹر کی شیو سینا کے اس مکتوب کو دکھایا جس میں اس نے ہندوستانی فلم شخصیات کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے پاکستان فنکاروں ے رابطہ رکھا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوںگے اسی طرح پاکستان میں بھی ہندوستانی فلموں کی مخالفت ہوتی ہے اور ” غدر“ اور ” ماں تجھے سلام“ جیسی فلموں کی وہاں نمائش نہیں ہونے دی گئی۔ مسٹر بھٹ نے اردو کو ایک خانہ میں قید کر دینے کے حوالے سے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کے ساتھ نانصافی ہو رہی ہے اور اس کو جو درجہ دیا جانا چاہئے نہیں دیا جا رہا لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اسے صرف مسلمانوں کی زبان بتا کرخود مسلمان اس سے نانصافی کر رہے ہیں جبکہ اردو ایسی زبان ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکتی ہے اور وہ مشترکہ تہذیب کی علمبردار بن کر ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ اjayesh-ranjan-bhamarahسی حوالہ سے شہرہ آفاق گلو کار جگجیت سنگھ نے کہا کہ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو یہ ذاتی معاملہ ہے لیکن جہاں تک زبان کا تعلق ہے تو اس پر کسی ایک فرقہ یا طبقہ کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی اردو نہ صرف سارے ملک کی زبان ہے بلکہ اسی نے ہندوستانی تہذیب کو ایک شناخت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ، سیاسی اور لسانی تنازعات سے اوپر اٹھ کر ہمیں مشترکہ تہذیب کو اس قدر مضبوط کر دینا چاہئے کہ وہ دہشت گردی کا موثر علاج ثابت ہو سکے اور دہشت گردی کا ناسور بلیک بورڈ پر لکھے چاک کے الفاظ کی طرح ایک ہی جھٹکے میں صاف ہو جائے۔ اسی ضمن میں لندن سے آئے چمن لال چمن نے کہا کہ اردو کو خود اردو والے محدود کر رہے ہیں جبکہ یہی اردو تہذیب ہماری مشترکہ تہذیب ہے۔ انہوں اپنی اس بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے کہا کہ اردو مشاعروں کا آغاز قرآن شریف کی تلاوت سے کر کے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اردو صرف اور صرف مسلمانوں کی زبان ہے جبکہ لاتعداد ہندو اور سکھ اردو کی مشہور و مقتدر شخصیات ہیں اور بی اے اور ایم اے کے نصاب میں شامل فراق گوکھپوری ایک ہندو شاعر تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوی سمیلن کا آغاز ہون سے ہونے لگے اور سکھ مشاعروں کا آغاز اکھنڈ پاٹھ سے ہونے لگے تو مشاعرے شروع ہونے میں ہی کئی دن لگ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اردو غیر مسلموں میں بھی کتنی مقبول اور محترم ہے اس کا اندازہ اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے بانی اجیت ست بھامرا کی اردو سے بے پناہ دلچسپی سے لگایا جا سکتا ہے جس کے پرچم تلے وہ محض اردو کی بقا اور دہشت گردی کی سرکوبی کا پے در پے پیغام دے رہے ہیں۔ سمینار میں تمام مقرر ین نے اسی پر اصرار کیا کہ اردو تہذیب ہی در اصل مشترکہ تہذیب ہے جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اور اسے فروغ دے کر ہی دہشت گردی سے چھٹکارہ پا کر آنے والی نسل کو خوش و خرم اور دہشت گردی سے پاک ماحول میں زندگی گذارنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔آئی اے ایس اور محکمہ سیاحت کے اعلیٰ افسر مسٹرجئنش رنجن اپنے افتتاحی خطبہ میں کہا کہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب ہمیں یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نہ صرف ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لئے ناگزیر اور لازم و ملزوم بھی ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں سے جس قسم کے حالات پیش آرہے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے وہ ہمیں اس سے نمٹنے کے لئے کوئی لائحہ عمل وضع کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اور اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ اس جانب جو پیش رفت کر رہا ہے وہ قابل صد آفرین و تحسین ہے۔ اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے چیر مین مسٹر اجیت سنگھ ست بھامرا نے ہوٹل تاج دکن میں ہوئے اس سمینار کے مہمانوں کا تہ دل سے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنے اور ایک دوسرے کے خیالات سننے کے لئے آپ لوگوں نے جو قیمتی وقت دیا اس کے لئے وہ تمام حاضرین و مقررین کے ممنون و مشکور ہیں۔ سمینار دو سیشن میں ہوا ۔پہلا سیشن مقررین کے اظہار خیال کے بعد سوال و جواب سے اختتام کو پہنچا اور دوسرا سیشن لنچ کے بعد مزید کئی اہم شخصیات کی تقریروں اور پھر سوال وجواب کے بعد چو محلہ پیلیس میں شہرہ آفاق گلو کار جگجیت سنگھ کی دلفریب و مسحور کن غزلوں کی گونج کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

0 comments:

Post a Comment