Wednesday, February 16, 2011

مصر یوں نے اپنی تقدیر بدل لی


ایم جے اکبر
صلاح الدین ایوبی کو،جو صلادین کے نام سے زیادہ جانے جاتے ہیں،اس بات کو بھانپ چکے ہوں گے کہ 2011میں قاہرہ میں کیا ہونے والا ہے۔ جب 8 صدیوں پہلے وہ یروشلم کو واگذار کرانے کےلئے دمشق سے روانہ ہوئے تو عرب ایشیاءکے نقشہ پر موجود کسی عیسائی ریاست کی جانب انہوں نے پیش قدمی نہیں کی بلکہ مصر کی ظالم و جابر حکومت کی، جس نے مصر کو انتہائی کمزور کر دیا تھا، سر کوبی کے لیے قاہرہ کی جانب کوچ کیا۔صلادین اس بات سے واقف تھے اور انہوں نے کہا بھی تھا کہ عالم عرب کے قلب کو جھنجوڑے اور متحرک کیے بغیر عربوں کی جیت نا ممکن ہے۔ سلطنت عباسیہ کے زوال کے بعد مرکز بغداد سے منتقل ہو چکا تھا۔جب یوروپ نے اپنا نو آبادیاتی نظام شروع کیا تو نیپولین نے اسکندریہ کی جانب پیش قدمی کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے قسطنطنیہ اور برٹش انڈیا کا راستہ مصر سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔ جب برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ یہی وقت مداخلت کا ہے تو انہوں نے لارڈ کرومر کو قاہرہ بھیجا۔
جب بھی قاہرہ میں کسی ڈکٹیٹر کا زوال ہوتا ہے تو اس کے حالی موالی بوکھلا اٹھتے ہیں اور تمام بادشاہوں کے گھوڑے اور مطلق العنان حکومت کے وفادار انہیں متحد نہیں کر سکتے۔ یہ وقت کی بات ہے اور وقت کی دیوی نے اپنی نگاہیں بدل لی ہیں اور اب اس کی مہربانیاںجابر و ظالم فرمانروا کے بجائے جمہوریت نوازوں پر نچھاور ہونے لگی ہیں۔اپنی ہی کسی تصنیف کا حوالہ دینا اگرچہ بڑا معیوب سا محسوس ہوتا ہے لیکن 2002میں شائع ہوئی کتاب ”شیڈ آف سوورڈز“ ) Shade of Swords) کا مرکزی خیال یہی تھا کہ زیادہ تر عرب ممالک میں 10تا 15سال میں فرانسیسی انقلاب آ جائے گا۔خوش قسمتی سے اب سر قلم کرنے کا رواج نہیں ہے کیونکہ 21ویں صدی نے گاندھی کے عدم تشدد کی طاقت دوبارہ دریافت کر لی ہے ۔ دریائے نیل خون سے لال نہیں ہوا اور نہ ہی ابولہول پر(ہزاروں برس پرانا ایک مجسمہ جس کا دھڑ عورت کا اور سر شیر کا ہے) خون کی کوئی چھینٹ آئی اور قاہرہ پر عوام کا تسلط قائم ہو گیا۔ سچائی تو یہ ہے کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل ابھی جاری ہے اس ادھوری فتح کو اصل جیت قرار دے دینا خود فریبی ہوگا۔تیونیشیا میں ابھی غبارچھٹانہیں ہے جہاں پرانی حکومت عوام سے کئی دہائی سے چھینی ہوئی حکومت کے تحفظ کے لیے ہاتھ پیر مار رہی ہے۔ ایسی ہی طمع و لالچ بلا شبہ مصر میں بھی نظر آئے گی۔اگر اکابرین نے مصر کو تانا شاہی سے آزاد نہ ہونے دیا تو آج جو ناراضگی ہے وہ غیض و غضب میں تبدیل ہو جائے گی۔ جمہوریت اکیلی نہیں چلتی ۔ قوم پرستی ہمیشہ اس کے ساتھ چلی ہے۔ جمہوریت کے بغیر قوم پرستی ہو سکتی ہے لیکن قوم پرستی کے بغیر جمہوریت نہیں ہو سکتی ۔ اصل میں مغرب کو اخوان المسلمین کے ڈکٹیٹروں کے متبادل کے طور پر ابھر نے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ وہ ایک سماجی سیاسی تحریک ہے جسے ایک جھٹکے میں قابو کیا جا سکتا ہے۔ اسے تو ان سرکاروں میں دھماکے کی فکر ہے جو ملک کے اور ملک سے باہر اپنے معتمد طبقے پر مبینہ سامراجوں سے اوپر لوگوں کے مفادات کو رکھتی ہیں۔ یہی وہ تشویش تھی جس نے مغرب کو اس وقت بھی مداخلت سے روکے رکھا جب ڈکٹیٹر اپنے ہی ممالک کو لوٹ رہے تھے ہمیں ابھی نہیں پتہ کہ حسنی مبارک نے سوئس اور دوسرے بنکوں میں کتنی رقم اکٹھی کر رکھی ہے لیکن افوا ہیں اسے ایک حیران کن اعدا و شمار بتا رہی ہیں۔تیونیشیا کے زین العابدین بن علی کے کنبہ کی دولت سے سب واقف ہیں۔ زیادہ تر کمپنیاں ان کے کنبہ والوں کی ہی ہیں جو سرپرستی کی طاقت و اختیارات کا ثبوت ہیں۔ سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ زین العابدین کی فیملی ہی بینک کاری کے سارے نظام پر قابض تھی۔ اس کا برادر نسبتی بالحسن طرابلسی بینک آف تیونیشیا کا مالک تھا اس کی بیٹی نسرین زیتونا بینک اور التجاری بینک کی مالک تھی اس کی دوسری بیٹی شیریں عرب انٹرنیشنل بینک آف تیونیشیا کی مالک تھی اور اس کی تیسری بیٹی غزوہ دی میدیو بینک کی مالک تھی۔ جب کسی کے اپنے ہی بینک ہوں تو اسے سوئزر لینڈ جانے کی کیا ضرورت ہے۔
ایک ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت کے درمیان کا فرق کوئی زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ پہلے کے معاملے میں سرکاروں کو چوٹ پہنچنے کا امکان ہوتا ہے لیکن ملک آزاد مستحکم ہوتا ہے۔ ڈکٹیٹر مستحکم دکھائی دیتے ہیں لیکن ملک میں اندر ہی اندر لاوا پکتا رہتا ہے۔ آپ کب تک جو الامکھی کے نیچے لاوا کو ابلتا رکھ سکتے ہیں۔ کیا موجودہ دور کے قاہرہ اور کولکاتہ کے درمیان کوئی یکسانیت ہے۔ دونوں شہروں جن میں سے ایک دریائے نیل کے پہلو میں آباد ہے اور دوسرا گنگا کے قدموں میں ہے جہاں کے باشندے 3دہائیوں سے بر سر اقتدار حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔ بنگال کے کمیونسٹوں نے ایک جمہوریت میں حکومت کی ہے جب کہ قاہرہ میں فوج کی پشت پناہی والی حکومت
خوف، دھوکے اور ظلم کے امتزاج سے پھلی پھولی ہے۔ قاہرہ کے نوجوان ان لوگوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے جنہوں نے لمبے عرصے تک ان سے دھوکہ کیا ہے اور اب وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ کولکاتہ کے نوجوانوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ وقت کے منتظر ہیںوہاں بغاوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جمہوریت ایک مسلسل پر امن سیاسی انقلاب ہے، مصر کی تقدیر بدل گئی ہے اوراس کی تقدیر اس کے گرد و نواح کی دنیا کو بدل دے گی۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment