Wednesday, February 02, 2011

دارالعلوم کا آشوب اور ایمان کے تقاضے


سید منصور آغا
مولانا غلام محمد وستانوی سے منسوب ایک بیان پر، جسے یگنیش مہتہ نام کے ایک رپورٹر نے خبر بنایا اور ٹائمز آف انڈیا نے چھاپاہے، بعض ’قاسمی‘ حضرات نے جو آشوب اٹھایا ہےاس پرمجھے 16ویں صدی کے معروف عالم، فقیہ ، مفسر اوربرگزیدہ ہستی شیخ احمد رحیم اللہ ملا جیون ؒامیٹھوی کا ایک واقعہ یاد آگیاجو جامعة الرشاد اعظم گڑھ کے ترجمان ’الرشاد ‘ میںاس کے بانی مدیر مولانا مجیب اللہؒندوی کی زندگی میں شائع ہوا تھا ۔ مولانا بلند پایہ ثقہ عالم تھے ۔ مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندوی ؒان کے بڑے قدر دان تھے۔ اس واقعہ کو مولانا نعیم صدیقی ندوی نے قلم بند کیا اور اپنی کتاب ’ایمان کے تابندہ نقوش ‘ میں ’لیکن مسلمان جھوٹ نہیں بول سکتا ‘عنوان سے شامل کیا ہے۔مولانا نعیم مدظلہُ کا آبائی وطن قصبہ بوڑھانہ ہے۔ ان کی والدہ کیرانہ (ضلع مظفَّرنگر)سے تھیں۔ خود ان کی پرورش اعظم گڑھ میں ہوئی جہاں ان کے والد ماہ نامہ’ معارف‘ سے وابستہ تھے۔ مولانا کامسلکی تعلق علمائے دیوبند سے اور خاص تعلق حضرت تھانوی ؒکے خلیفہ اجل شاہ ابرارالحق حقی ؒسے ہے۔ وہ بڑے محتاط اہل قلم میں سے ہیں۔ یہ تعارف اس لئے لکھدیا کہ روایت کا مستند ہونا ظاہر ہوجائے۔
ملا جیونؒ ا ورنگ زیب عالم گیرؒ کے اتالیق تھے اور بادشاہ ان کی بڑی قدر کرتا تھا۔ عجب نہیں اورنگ زیب ؒمیں جو اوصاف حمیدہ تھے وہ ملاصاحب کی نظر کا ہی فیض ہوں۔ ان کی تصنیف ’نورالانوار‘ اصول فقہ کی مستند کتاب ہے۔یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ جونپور میں مقیم تھے ۔ ایک دن ان کا ایک شوخ شاگرد پریشان حال حاضر ہوا اور کہنے لگا حضرت آج تو غضب ہونے والا تھا۔ ملا صاحب نے تشویش کے ساتھ پوچھا کیا ہونے والا تھا۔طالب علم نے کہا یہ جو گومتی ندی پر پل ہے ، وہ بہت ناراض ہے۔ کہتا ہے کہ لوگ مجھے پامال تو کرتے ہیں مگر کوئی پوچھتانہیں، میں تو جونپور چھوڑکر جارہا ہوں۔ ملاصاحب نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا؟ طالب علم نے کہا: حضرت وہ ایک سو روپیہ نذرانہ مانگتا ہے، میں اس کو بڑی مشکل سے روک کرآیا ہوں۔ نذرانہ نہ ملا تو چلا جائےگا۔ ملا صاحب نے فرمایا: یہ تو بہت بڑی رقم ہے،، تم اس کو کم پر راضی کرو۔ مکار طالب علم چلا گیا اور آکر بولا وہ پچاس روپیہ پر راضی ہے۔ ملاجیون ؒنے فرمایا یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ الغرض کئی مرتبہ کے بعد طالب علم نے کہا دس روپیہ سے کم نہیں ہونگے۔ ملا صاحب نے کہا ہاںیہ ٹھیک ہے اور طالب علم کو دس روپیہ فراہم کردئے۔ طالب علم نے آن کر خوشخبری سنادی۔ پل راضی ہوگیا۔ ملا جیونؒ نے یہ واقعہ اس طالب علم کی موجودگی میںاپنی مجلس میں سنایا تو ایک شخص نے کہا: حضرت بھلا کہیںایساہوتا ہے،کیا آپ سمجھتے ہیں پل بھی اس طرح کی باتیںکرتا ہوگا؟ملا جیون ؒ نے فرمایا، ہاں بھائی یہ بات تو میں بھی سمجھتا ہوں مگر یہ کیسے یقین کرلوں کہ ایک مسلمان طالب علم اور جھوٹ بولے؟اس لئے میںنے طالب علم کو سچا جانا اوراپنے گمان کو غلط سمجھ لیا۔‘
آپ حیران ہونگے کہ اس واقعہ کا مولانا وستانوی کے معاملہ سے کیا تعلق ہے؟ملا جیون علیہ رحمہ کے علم دین اور ایمان کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایک مسلمان کو، اس کے فریب کو بھانپتے ہوئے بھی، جھوٹا نہ کہیں اور اس کی بعید از قیاس بات کو بھی اس لئے قبول کرلیں کہ مسلمان ہے،جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اب یہ عالم ہے کہ طالب علم نہیں،ایک عالم دین ،جو اپنے کردار، گفتار اورعمل کی بدولت لاکھوں میں محترم ہے، ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ ’مہمانان رسول‘ کا مربی و سرپرست، متعدد مدارس کا معاون اور نگراں، دارالعلوم دیوبند کی مجلس شورٰی کا ۲۱ سال رکن ہے ،جس نے خود کو ہمہ وقت قال اللہ اور قال رسول کا غلغلہ بلند کرنے،کرانے کےلئے وقف کردیا ہے ،یہ کہہ رہا ہے کہ اخبار میں اسکا بیان جس طرح شائع ہوا ہے،ہرگز اس کی منشاءوہ نہیںتھی، مگر دارالعلوم کے کچھ خود ساختہ پاسپانوں کااصرار ہے ، ہم تو نہیں مانیں گے۔ ہماری نظروں میں انگریزی اخبار اور اس کا رپورٹر یگنیش مہتہ توسچا ، پاکباز، خدا شناس ہے اور عالم فاضل مولانا وستانوی جھوٹا ہے۔ اب اگر خود چھوڑ کر نہیںجائیگا، تو فتنہ فساد کا مقابلہ کرنے کےلئے تیاررہے کہ ہم اسے ٹکنے نہیں دیں گے۔استغفراللہ۔دیکھئے کردار میںکیسا فرق آگیا ہے؟ ان واقعات کے پس منظر میں مذکورہ ’قاسمی ‘ حضرات کی روش پر جس قدر غور کیا جائے ، یہ بات سمجھ میںآتی چلی جاتی ہے کہ امت کے خلفشار اور انتشار کےلئے ہم خود کتنے ذمہ دار ہیں۔ اچھا ہوتا ، یہ صاحبان جو اپنی تصویروں کے ساتھ (جس کا کوئی جواز شرعی نہیں) اشتہارات شائع کروارہے ہیں وہ مولانا وستانوی کا محاسبہ کرنے کے بجائے خود اپنا احتساب کرتے۔
مولانا وستانوی سے ناراضگی کی تین وجوہ ظاہر کی جارہی ہیں۔ اول یہ کہ انہوں نے مبینہ طورسے مودی کی تعریف میںکچھ کلمات کہے دوسرے یہ کہ کسی تقریب میں ان سے کسی وزیرکو جوسپاس نامہ دلوایا گیا اس پر کسی دیوی دیوتا کی تصویر بھی تھی۔ تیسرا شوشہ یہ چھوڑا گیا ہے وہ باہر کے آدمی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی کے راج میں اور گمان غالب یہ ہے کہ ان کی شہ پر مسلمانوںکا بدترین قتل عام ہوا۔انہوں نے وزیر اعلا کا’ راج دھرم‘ نبھانے کے بجائے ، سنگھ سے اپنی وفاداری اور سیوم سیوک کے دھر م کو ترجیح دی، جس کا مقصد وجود ہی مسلمانوں کا قتل و غارت ہے۔ مودی کے گجرات میںمسلمان آج بھی شدید مشکلات اور عصبیت سے دوچار ہیں۔ اس کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔وستانوی صاحب نے بھی کیا ہے۔ لیکن گستاخی معاف یہ مودی کی شخصیت کا مہیب پہلو ہے۔ اس کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو اس کی انتظامی صلاحیت اور اس کے ترقیاتی کام ہیں۔ اگر کوئی شخص اس دوسرے پہلو کاذکر کرتا ہے تو اس پر آپے سے باہر ہوجانا اوراس کو جھوٹاکہنا قرین انصاف نہیں۔ یہ بات سمجھنے سے آج ہماری ملت اس لئے قاصر نظرآتی کہ ہم نے حیف صد حیف اللہ اور اس کے رسول کی رہنمائی سے روگردانی کو اپنے لئے جائز کرلیا ہے اور اپنے ہوائے نفس کو عین اسلام سمجھ لیا ہے۔
یہاں پھر سیرت رسولﷺ کا ایک زریںباب یاد آتا ہے۔ اوائل اسلام میں، جب ابھی مسلمانوں کی تعداد ۶۲ یا ۷۲ تھی ابو جہل اور عمر بن الخطاب کا شمار اسلام کے بدترین دشمنوں اور مسلمانوںکو اشد ترین اذیتیں پہنچانے والوں میں ہوتا تھا۔ البتہ ان کے کردار کا ایک پہلو ایسا بھی تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی : اللہم اعزالاسلام باحب ا لرجیلن الیک بعمر بن الخطاب اوبابی جہل بن ہشام“۔ (یعنی اے اللہ عمر بن خطاب یا ابو جہل بن ہشام میں سے جو تجھے پسند ہو، اس کو اسلام کی توفیق دے اور اس کے ذریعہ اسلام کو عزت و قوت عطا فرما)۔ ہمارے لئے اس دعا میں بڑی نصیحت ہے۔وہ نصیحت یہ ہے کہ دشمنوں کی دشمنی ہمیں ان کی شخصیت کے صالح پہلوﺅں کا منکر نہ بنادے۔ ہم ان کو کوسنے کے بجائے اسی صبر و تحمل اور بردباری پر چلنے کی کوشش کریں جس کے نقش آقائے نامدار نے ہمارے لئے چھوڑے ہیں۔ جناب عمر وہ شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے قتل رسول ﷺکا ارادہ کیا اور اعلان کے ساتھ کیا ۔اور جب وہ اللہ کے رسول کے قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے اور شمشیر برہنہ دار ارقم پہنچے تو آپ نے کس کردار کا نمونہ پیش فرمایا ؟ ان کو دھتکار نہیںدیا ۔ بلکہ خود بڑھ کر ان کی پذیرائی کی اور سوال کیا : عمر کس ارادے سے آئے ہو۔‘کتب سیر میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ کے اس رویہ کا عمر پر کیا اثر ہوا؟ ان کے وجود میںلرزہ طاری ہوگیا اور انہوں نے خود کو اسلام کی خدمت کےلئے پیش کردیا۔ اللہ کی رحمت یوںجوش میں آئی کہ جو بدترین دشمن تھا وہ اسلام کی اور مسلمانوںکی طاقت بن گیا۔ہم نریندر مودی سے ہرگز خوش گمان نہیںہیں، البتہ اللہ کی مصلحت اور رحمت سے بدگمانی کو کفر سمجھتے ہیں۔ ہمارایمان ہے کہ ہرگز ہرگز رحمت الٰہی کے سوتے خشک نہیں ہوگئے ہیں۔ ابھی آپ نے دیکھا اللہ نے سوامی اسیمانند کے ضمیر کو کس طرح بیدارکیا ہے؟ہماری تو اللہ کے حضور یہ دعا ہونی چاہئے کہ کوئی دوسرا کلیم ہم میں پیداکر جو مودی کے مردہ ضمیر کو بھی اسی طرح جگادے۔ میں بہت ہی لجاجت کے ساتھ ان قاسمی حضرات سے، جو دارالعلوم میںشورش برپا کرنے پر آمادہ ہیں گزارش کرتا ہو ںکہ وہ اپنی روش کا محاسبہ کریں کہ آیا وہ سیرت رسول کا عکس پیش کرتی ہے یا ان بدبختو ں کا جن کی تلواریں حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓورحضرت علیؓ کی خون سے آلودہ ہیں؟
سپاس نامے پر تصویر کا معاملہ واقعی سخت ہے۔ لیکن بخاری شریف کی پہلی ہی حدیث، جو حدیث قدسی بھی ہے اور ایمان اور اسلام کی جامع ترین تعریف پیش کرتی ہے، اسکے جزو: ’انما الاعمال بالنیات‘ کا کیا مطلب ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی وضاحت فرمادی ہے۔ہم خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہیں، اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ معترض جھوٹ کہتے ہیں کہ کعبہ کوسجدہ کیا۔ وہ صرف ظاہر پر قیاس کرتے ہیں، نیت کو نہیںدیکھتے۔ جو شخص پونے دولاکھ بچوںکو علم دین سے آراستہ کرنے میںلگا ہے، اس کے بارے میں بغیر شیطان کے ڈالے کسی کے دل میں یہ گمان کیسے سما سکتا ہے کہ ایک تصویر چھپا ہوا کاغذ ہاتھ میںلینے یا کسی کو دینے سے وہ شرک کا مرتکب ہوگیا؟مورتی کی پوجا کا بھی ایک ظاہرطریقہ ہے، جس کا اس واقعہ میںشائبہ تک نہیں۔تصویر چھپے کاغذوں کا لین دین توہم ہر وقت کرتے ہیں۔ ہر نوٹ پر کوئی نہ کوئی تصویر چھپی ہوتی ہے جن کو الگ کئے بغیر ہم نماز پڑھتے ہیں۔جو اخبار ہم خرید تے ہیں بسا اوقات اس میںبھی قابل اعتراض تصویر ہوتی ہے۔ کوئی نہیںسمجھتاکہ تصویر خریدنے یا گھر میںرکھنے کا مرتکب ہوگیا۔یقینا ایسے مواقع سے گریز کیا جانا افضل ہے۔ لیکن بسا اوقات ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس میں زیادہ سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ہوتا اور مروّت غالب آجاتی ہے۔ایسے مواقع پر مصلحتا گریز ( فقہ جعفریہ کے مطابق تقیہ)کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ہمارا گمان یہ ہے کہ اگر مولانا وستانوی کو پہلے سے یہ معلوم ہوتا کہ سپاس نامہ پر کوئی قابل اعتراض تصویر چھپی ہے تو وہ کسی طرح اس سے بچنے کی راہ نکال لیتے۔ اب غیرارادی طور پرجو ہوگیا اس کو نظرانداز کیا جانا چاہئے ۔ اس سے ان کی انتظامی صلاحیتیں توزائل نہیں ہوگئیں، جس پر اسقدر ہنگامہ ہے۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ مولانا وستانوی دیوبند ی نہیں ہیں۔ ہمیںاندیشہ ہے کہ یہ اعتراض نسلی اور خاندانی عصبیت کے اس زمرے میں سے ہے جس کی نفی اللہ کے رسولنے اپنے خطبہحجةالوداع میں کردی ہے۔ اگر کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیںتو کسی دیوبند ی فاضل کو کسی غیر دیوبندی پر فضیلت کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ انداز فکرصریحاً اسلامی مزاج کے منافی ہے۔ مولانا وستانوی12 سال سے دارالعلوم کی شورٰی کے رکن کی حیثیت سے اس کے اہتمام سے وابستہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوگیا ہے اب اس کے صدر نشین ہوگئے ہیں۔ اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں۔یہ تصور بھی باطل ہے کہ دارالعلو م دیوبند کاانتظام و انصرام صرف ان لوگوںسے وابستہ رہنا چاہئے جو اس کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ یہ ادارہ صرف دیوبندیوں یا قاسمیوںکی میراث نہیںہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ کی امانت ہے۔چنانچہ اخلاقا ً ، قانوناً یہ دلیل گمراہ کن اور روح اسلام کے منافی ہے۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جن قاسمی حضرات نے اخباروں میںاپنے پیسے خرچ کرکے اپنی تصویریںچھپوائیں اور اس طرح خود دارالعلوم کے فتوے کی پامالی کے مرتکب ہوئے، وہ اس کی روایتوں کے امین ہونے کا دعواکیونکر کرسکتے ہیں؟
یہ ہنگامہ قرآن کی تعلیمات کے بھی سراسر منافی ہے۔ اجتماعی معاملات کےلئے قرآن میں واضح ہدایات موجود ہےں۔ فرمایا گیا: و امرہم شورٰی بینھم۔(وہ اپنے معاملے باہم مشورے سے طے کرتے ہیں) ۔شوریٰ نے غور و فکر کے بعد ایک فیصلہ صادر کردیا ۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ اس پر ہنگامہ آرائی نہ کی جائے بلکہ اسے قبول کیاجائے۔ البتہ اگر اس پر دلجمعی نہیں ہورہی تو پھر احسن طریقے سے ارکان شوریٰ سے رجوع کیا جاتا۔ اللہ کا حکم ہے : اطیعواللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم ۰ دارالعلوم کے تعلق سے اولی الا مر اس کی شوریٰ ہے۔ اس سے وابستہ ہر شخص پر لازم ہے کہ اس کے فیصلہ کو قبول کرے۔ اس پر ہنگامہ آرائی اور اشتیار بازی کرکے ملت میں انتشار اور غیروں کومضحکہ اڑانے کا موقع فراہم کرنا اور دعوٰی کرنا کہ ہم ہی اصلاً دین مبین کے اور دارالعلوم کے سچے امین اور محافظ ہیں، بڑا مغالطہ ہے۔جو نفوس اللہ کی،اس کے رسول کی اور اولی الامر کی پیروی نہیںکرتے وہ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اوراپنے نفس کی پیروی باجماع امت شرک کے زمرے میںآتی ہے، جیساکہ شیخ سیدابوالحسن علی ہجویریؒ (داتا گنج بخش) نے ’کشف المحجوب ‘میں، امام غزالی ؒ نے’ کیمیائے سعادت ‘میں، شاہ محمد اسمٰعیل شہید نے ’تقویة الایمان‘ میں اور تسلسل کے ساتھ جملہ مفسرین اور شناوران شریعت اور طریقت نے واضح فرمادیا ہے ۔ اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھردے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اورکرم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کےلئے توبہ و استغفار کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور اس میں جلدی کرنی چاہئے۔


For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment