Wednesday, February 23, 2011

ڈیوس کو سزائے موت دینے کا مطالبہ، امریکہ و پاکستان کی پریشانیاں بڑھیں


اسلام آباد: گذشتہ دنوں ایک امریکی شہری کے ہاتھوں لاہور میں دو پاکستانیوں کی ہلاکت نے نہ صرف مبینہ قاتل ریمنڈ ڈیوس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا کر اسے قانونی الجھنوں میں گرفتار کر دیا ہے بلکہ حکومت امریکہ کو بھی پریشانیوں میں ڈال دیا ہےکیونکہ پاکستان میں ڈیوس کی رہائی کے خلاف تمام پاکستانی مذہبی و دہشت گرد تنظیمیں متحد اور ہم آہنگ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے ڈیوس اس قدر مشکلات میں پھنس چکا ہے کہ اب اس کی رہائی آسان نظر نہیں آ رہی۔ایسا نہیں کہ صرف ڈیوس اور امریکہ کی ہی الجھنیںبڑھی ہیں بلکہ خود حکومت پاکستان ایسی پریشانی میں پھنس گئی ہے کہ اس کے لیے نہ نگلے چین نہ اگلے بنے کی صورت حال پید ہو گئی ہے کیونکہ ایک طرف پاکستان کے دہشت پسند گروپ جماعت الدعویٰ نے ڈیوس کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری جانب امریکہ نے ڈیوس کو سفارتکار بتاتے ہوئے اس کے تحفظ کیذمہ داری پاکستان پر ڈال دی ہے اور صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ سفارت کار ہونے کے ناطے ڈیوس کی حفاظت کرنا پاکستان کا فرض ہے۔واضح رہے کہ 27جنوری کو لاہور میں ڈیوس نے دو پاکستانی نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا تھا اب یہ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے عدالت کے آگے اب سب بے بس ہیں کیونکہ اب اس کا کیس کا فیصلہ عدالت ہی کر سکتی ہے حکومت اگر اس کی رہائی کے اقدامات کرتی ہے اور عدالت کو نظر انداز کر دیتی ہے تو اسے اس بات کا اندیشہ ہے کہ خود وہی نہیں بلکہ اس میں شامل پارٹیاں اور ان کے اراکین پارلیمنٹ بھی عوامی عتاب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ڈیوس کی گرفتاری سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment