Wednesday, February 02, 2011

مصر ی بحران کے نتائج پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں

اسلام آباد: تیونیشیا کے بعد یمن اور خاص طور پر مصر میں جو بحران پیدا ہوا ہے اس کے اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ایک پاکستانی اخبار نیوز انٹرنیشنل نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ مصر میں تبدیلی کے نتائج پاکستان پر بھی مرتب ہوںگے ۔ جو پاکستان کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ جو حکمراں اپنی عوام کی آوازوں پر کان نہیں دھرتے اور ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتے تو اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ مصر میں اتنی تیزی سے تغیرات ہو رہے ہیں کہ عالمی سفارتی برادری بھی اتنی تیزی سے حرکت میں نہیں آسکتی اور نہ ہی اس کی رفتار کا مقابلہ کر سکتی ہے۔اخبار رقمطراز ہے کہ صدر حسنی مبارک نے ان کی معزولی کا مطالبہ کرنے والے عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔یہکہتے ہوئے کہ اکثر مقامات سے پولس غائب ہو گئی فوج بھی صورت حال پر قابو پانے کے لئے میدان میں تو ہے لیکن وہ بھی مظاہرین کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کر رہی ۔ اداریہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابھی تک یہ مظاہرے سیکولر نوعیت کے ہیں اور اس میں کوئی مذہبی رنگ آمیزی نہیں ہوئی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انقلاب رہے یا نہ رہے حسنی مبارک کے اقتدار کے دن ضرور پورے ہوتے نظر آرہے ہیں۔چونکہ مصر کا سیاسی بنیادی ڈھانچہ کمزور پڑ رہا ہے اس لئے فوج اقتدار سنبھال سکتی ہے اور موجودہ حالات اس بات کے مظہر ہیں کہ فوج حسنی مبارک کی ساتھ نہیں دے گی۔یہ کہتے ہوئے کہ مصر عرب دنیا کا یک اہم ملک ہے اور عالم عرب میں تبدیلی کی بنیاد ہے۔ اور اس قسم کی تبدیلیاں و تغیرات کا لامحالہ پاکستان پر بھی اثر پڑے گا اور تیونیشیا، یمن اور اب مصر سے یہ پیغام آہی چکا ہے کہ جو حکمراں اپنی عوام کی آواز کو نقار خانے میںطوطی کی آواز بنا دیتے ہیں ان کا کیا حشر ہوتا ہے اور اس کے کتنے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔اسرائیل بھی مصر کے حالات کو تشویش بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے اورمتعجب ہے کہ 1978کے بعد سے مصر میں جو استحکام آیا تھا کیا وہ داﺅ پر لگ گیا ہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment