Wednesday, February 23, 2011

دہشت گردی سے مقابلہ کے لئے سر زمین دکن پر اردو تہذیب کی پکار


اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے سمینار سے مسٹر مہیش بھٹ خطاب کرتے ہوئے ، تصویر میں نیوز ایڈیٹر ”سیاست“ مسٹر عامر علی خاں ، مسٹر کلدیپ نیئر، مسٹر جگجیت سنگھ ، مسٹر آنند راج آنند اور مسٹر چمن لال چمن کے علاوہ دوسری تصویر میں سامعین میں جناب سید عزیز پاشاہ ، مسٹر اقبال حیدر، مسٹر اجیت سنگھ ست بھمبرا کے علاوہ دیگر دیکھے جا سکتے ہیں بہمنی سلطنت اور پھر سلطانان دکن کے شہر حیدر آباد کی تہذیب میں اس وقت چار چاند لگ گئے جب اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے زیر اہتمام گذشتہ روز وہاں کے مشہور ہوٹل تاج دکن میں ایک سمینار اورپھر چو ماہلا پیلیس میں شہرہ آفاق گلوکار جگجیت سنگھ کی دلوں کو چھونے والی غزلوں کی جھنکار سے پورا حیدر آباد گونج اٹھا۔اس موقع پر ملکی و غیر ملکی دانشوروں،فلم شخصیات، سیاستدانوں،صحافیوں اور سابق کرکٹ کھلاڑیوں غرضیکہ مختلف شعبوں کے ماہرین و اکابرین نے اپنے خیالات کا اظہار کر کے ”دہشت گردی کے حملے سے مشترکہ تہذیب کو بچانے“ کی راہیں اور سمتیں دکھائیں اور اپنے خوبصورت طرز بیان سے اس سمینار کے ذریعہ امن کا ایک ایسا پیغام بھیجا جس پر چل کر مشترکہ تہذیب کے ذریعہ دہشت گردی کا مقابلہ ہی نہیں بلکہ اسے پسپا بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے پرچم تلے عام خیال یہ ظاہر کیا گیا کہ ہندوستان کی سالمیت کی بنیاد فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جمہوریت پر منحصر ہے ، ہندوستانی عوام کو ناامید یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہر صبح کو گھٹا ٹوپ تاریکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہندوستانی عوام نے فرقہ پرستی کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستانی تہذیب و تمدن کی برقراری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ا س موقع پر ممتاز و بزرگ صحافی کلدیپ نیر نے اس ضمن میں اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندو اور مسلمانوں کی تہذیبوں کا حسین امتزاج مشترکہ تہذیب ہے، جسے عرف عام میں گنگا جمنی تہذیب بھی کہا جاتا ہے، جو کسی بھی تخریب کاری کا منھ توڑ جواب دینے کی اپنے اندرایسی زبردست طاقت رکھتی ہے جس سے دہشت پسندوں کے حوصلے ایسے پست ہوجائیںگے کہ وہ کوئی دہشت پسندانہ حرکت کرنے یا واردات انجام دینے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے اور انہیں اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں سجھائی دے گی کہ وہ دہشت گردی کی راہ ترک کر کے انسانیت کی خدمت میں لگ جائیں۔
” کیا ہمہ جہتی کلچر دہشت گرد حملوں کا مقابلہ کر سکتا ہے“ کے عنوان کے تحت اس سمینار سے معروف غزل گلوکار مسٹر جگجیت سنگھ ، پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن کے چیر مین جناب اقبال حیدر،جناب عامر علی خان نیوز ایڈٹیر ” سیاست“ حیدرآباد اور ممتاز فلم ہدایت کار مسٹر مہیش بھٹ ، جناب سید عزیز پاشاہ، مسٹر آنند راج آنند اور سابق ٹیسٹ کرکٹر عباس علی بیگ خطاب کرنے والوں میں شامل تھے۔مسٹر جیئش رنجن آئی اے ایس پرنسپل سکریٹری محکمہ سیاحت نے افتتاحی کلمات ادا کئے۔ مسٹر کلدیپ نیئر نے دہشت گردوں اور پولیس کی کارروائیوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی بے وجہ ظلم کرنے کے عادی بن چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں جب دہشت گردی منظر عام پر آنے لگی تھی تو یہ کہا جاتا تھا کہ تمام مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں لیکن جتنے دہشت گرد ہیں وہ مسلمان ہیں مگر گزشتہ چند ماہ کہ دوران حالات بکسرتبدیل ہو چکے ہیں اور ملک میں زعفرانی دہشت گردی کے فروغ کا پردہ فاش ہوا۔ کلدیپ نیئر نے دہشت گردانہ کارروائیوں اور پولس کے فرضی انکاو ¿نٹرس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات طویل عرصہ تک معرض التوا میں پڑے رہنے کے سبب حصول انصاف میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ انہو ںنے فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور ہمہ جہت تہذیب کے فروغ کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مہذب معاشرہ کی تشکیل کے لئے صحافت اہم کر دار ادا کر سکتی ہے۔ انہو ںنے مہذب معاشرہ کی تشکیل کے لئے آزادی صحافت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحافت کو حاصل آزادی کسی کی ولآزاری کا ذریعہ نہیں بننی چاہئے۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں دہشت گردی کے متعلق تبدیل ہو رہے نظر یہ کو دیکھتے ہوئے اس بات کی ضرورت ہے کہ مشترکہ تہذیب کو پیش کرتے ہوئے متحد ہونے کی کوشش کریں۔ مسٹر مہیش بھٹ نے اس موقع پر بتایا کہ آزادی ہند کے بعد اردو کو ملک کی تقسیم کی ذمہ دار زبان تصور کیا جانے لگا ہے جو کہ انتہائی لغو ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی ملک کی تاریخ اس کے رہنے والے عوام کی تاریخ ہوتی ہے اسی لئے ہندوستانی عوام کو چاہئے کہ وہ اپنی مشترکہ تہذیب کے ذریعہ ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمہ کی کوشش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ شیوسینا جیسی بعض کم ظرف جماعتیں دہشت گردی جیسی بیماریوں کے علاج میں رخنہ پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہند-پاک تعلقات بہتر بنانے کے لئے بالی ووڈ کی جانب سے کی جا رہی کوششوں پر اعتراض کرتے ہوئے شیوسینا نے دھمکی دی ہے کہ کوئی پاکستانی اداکاروں یا دیگر فنکاروں کو ملازمت فراہم نہ رکریں۔ انہوں نے بتایا کہ ” غدر“ اور ” ماں تجھے سلام“ جیسی مخالفت پاکستان فلمیں عوام نے مسترد کردی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کہ دہشت گردی ایک ایک ناسور ہے اس سے نجات کے لئے تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر بھٹ نے اردو کے ساتھ رواسلوک کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے ذریعہ دلو ںمیں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اردو کو ایک مذہب کی زبان بنا کر محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسٹر بھٹ نے بیماری کی تشخیص کے لئے مرض کی نشاندہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مشترکہ تہذیب کے علمبردار کی حیثیت سے اس ملک میں فرقہ واریت کی دیواریں گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جبکہ بعض مفاد پرست عناصر ان حالات میں ملک کو دھکیل رہے ہیں جس سے نہ صرف ملک کے عوام بلکہ ملک کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ مسٹر جگجیت سنگھ نے مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردو سارے ملک کی زبان ہے اور اردو نے ہندوستانی تہذیب کو جلا بخشی ۔ انہوں نے مذہب اور سیاست سے بالاتر ہو کرہمیں اپنی تہذیب کے فروغ کے لئے عملی کوششیں کرنی چاہئے۔ مسٹرجئنش رنجن آئی اے ایس نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد ملک کے ان چنندہ شہروں میں سے ہے جہاں کے عوام ایک دوسرے سے باہم جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری عظیم تہذیب ہمیں یہ تصور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کسی سے الگ نہیں ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کو حاصل ہور ہے فروغ نے ہمیں لائحہ عمل تیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جناب عامر علی خاں نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سب سے پہلے دہشت گردی کی نشاندہی ضروری ہے۔ انہو ںنے دہشت گردی کے موضوع کو انتہائی حساس اور توجہ طلب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں فی الحال تین طرح کی دہشت گردی عروج پر ہے جن میں دوکا تذکرہ مسٹر کلدیپ نیئر نے اپنے خطاب میں پولس اور دہشت گردوں کی ہی نشاندہی کی ہے جب کہ سیاسی دہشت گردی کی شکل میںتیسرا گروپ بھی موجود ہے جو اپنے مفادات کے لئے دہشت گردی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشترکہ تہذیب کے ذریعہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ضرور ہے لیکن اس کے لئے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیام کو پیش نظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کا عہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام واحد آفاقی مذہب ہے جس میں تشدد سے منع کیا گیا ہے اور امن کی تعلیم دی گئی ہے۔ جناب عامر علی خاں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سب سے بہترین مثال ہے۔ انہوں نے مسلم بادشاہوں کی تاریخ کو اسلام سے جوڑ نے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان بادشاہوں کی تاریخ اسلام سے منسوخ کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ جناب عامر خاں نے بتایا کہ موجودہ سیاسی نظام میں ایسے افراد داخل ہو رہے ہیں جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے لئے سیاسی پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیاستدانوں فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کو منقسم کرتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ انہو ں نے ہندوستان کو امن کا گہوارہ قراد یتے ہوئے اپنے کہا کہ اس ملک میں پہلا دہشت گرانہ حملہ آزادی ہند کے انقلابی رہنما گاندھی جی پر کیا گیا۔ انہو ںنے مکہ مسجد ، گوکل چاٹ و دیگر دہشت گردانہ حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں کے فوراً بعد پولس نے قطعی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے 100نوجوانوں کو حراست میں لے لیا اور ان پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے گئے۔ جناب عام خاں نے استفسار کیا کہ اگر ان 100نوجوانوں میں پولس کے بیجا ظلم وجبر کے سبب بدلہ کے جذبات ابھر نے لگیں تو کیا ملک کی سلامتی محفوظ رہ سکتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بہترین تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہوئے عالمی بھائی چارہ کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا جا سکتا ہے۔ جناب عامر خاں نے حیدرآباد پولس کی جانب سے ایک نوجوان کو بنگلہ دیش روانہ کئے جانے اور واپسی کے موقع پر گرفتارکرتے ہوئے اسے بیرونی درانداز تربیت یافتہ دہشت گرد قرار دیئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نوجوان نے باضابطہ پریس کانفرنس کے ذریعہ اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس نے اسے بنگلہ دیش روانہ کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ پولس کی اس طرح کی کارروائیاں دہشت گردانہ کارروائیوں کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔ جناب عامرخاں نے اسلا م کو دہشت گردی سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو کہ مسلمان قرآن اور سیرت پر عمل کے ذریعہ بہ آسانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے جوہری ہتھیاروں کے پھیلا و کو بھی دہشت گردی کا پہلو قرار دیا۔ اور کہا کہ ہندوستانی تہذیب مشترکہ تہذیب کی عکاسی ہے او رہمیں یہ تہذیب ورثہ میں ملی ہے جس کے ذریعہ ہم سماج میں تبدیلی رونما کر سکتے ہیں۔مسٹر جئنش رنجن نے بتایا کہ کہ مسائل کے حل کے لئے مسائل پر مباحث ضروری ہیں اسی لئے ہمیں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ جناب سید عزیز پاشاہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی معاشرہ یا مشترکہ تہذیب پر دہشت گردی کی ضرب بڑی حد تک ناممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مفادات حاصلہ کی کارروائیاں ملک کے سیکولرازم کے لئے خطرہ بن رہی ہیں۔ جناب پاشاہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سیاسی سطح پر عزم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کے حوصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پنڈت نہرو کبھی اپنے مفادات کے لئے ملک کے سیکولرازم کو خطرہ میں نہیں ڈالا جب کہ آج ہر معاملہ میں مفاہمت اور مصلحت سے کام لیا جا رہا ہے۔ مسٹر چمن لال چمن نے بتایا کہ اسلام امن کا گہوارہ ہے ، پیغمبر اسلام نے کبھی تشدد کا درس نہیں دیا اس کے باوجود بعض نوجوان گمراہی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان نوجوانوں کی گمراہی کی وجہ اور انہیں اکسانے والی طاقتوں کا پتہ چلایا جائے۔ مسٹر چمن نے ماحول کو زہر آلود کرنے والوں کے خلاف امن پسندوں کو آگے آنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مسٹر آنند راج آنند نے بتایا کہ دہشت گردی کے کوئی جغرافیائی حدود نہیں ہیں، ہمیں دہشت گردی کے خاتمہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دلوں سے نفرت کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ مسٹر آنند راج نے بتایا کہ اردو تہذیب ہی در اصل مشترکہ تہذیب ہے جسے فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہو ںنے نسل نو کو ملک کے معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آج ہم ان کوششوں کا آغاز کریں تو آئندہ ہماری نسلیں خوش و خرم رہ سکتی ہیں۔ اردو تہذیب ڈاٹ نیٹ کے ذمہ دار مسٹر اجیت سنگھ سات بھمرا نے ہوٹل تاج دکن میں ہوئے اس سمینار کے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ سمینار کی دوسری نشست میں جناب اقبال حیدر معاون صدر نشین حقوق انسانی کمیشن پاکستان ، جناب میرا یوب علی خاں، مسٹر مہیش بھٹ اور دیگر نے مخاطب کیا۔ اس سمینار میں شہر کی ممتاز شخصیتوں نے شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں معاون صدر نشین حقوق انسانی کمیشن پاکستان جناب اقبال حیدر، میجر قادری ، محترمہ صباءقادری ، جناب غلام یزدانی ایڈوکیٹ کے علاوہ دیگرشامل تھے۔

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment