Wednesday, February 23, 2011

ماﺅ باغیوں نے اغوا انجینئر کو رہا کر دیا


بھوبنیشور:ماﺅ باغیوں نے سات روز تک قید میں رکھنے کے بعد جونیر انجینیر پبیترا ماجھی کو رہا کر دیا جبکہ ملکان گیری کے ڈسٹرکٹ کلکٹر کی رہائی کے لیے کوششیش جاری ہیں اور اس ضمن میں نکسلی مطالبات پر عمل آوری کے لیے نکسلیوں کے منتخب کردہ ثالثوں اور حکومت اڑیسہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ملکان گیری کے دور دراز جنگل سے ماجھی کی رہائی کے فوراً بعد ماجھی کو کو مقامی گاﺅں والے ایک موٹر سائیکل پر چتر کونڈا لے گئے۔ چتر کونڈا کے تحصیلدار ڈی جی گوپال کرشنانے بھی اس کی تصدیق کر دی کہ گاﺅں والے ماجھی کو ان کی تحصیل میں لے آئے ہیں۔گوپال کرشنا نے مزید بتایا کہ اگرچہ ماجھی تھکے ہوئے لگ رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر وہ مکمل صحتیاب نظر آرہے ہیں۔ چترکونڈا میںان کی آمد کے فوراً بعدانہیں تحصیل دفتر لے جایا گیا جہاں سرکاری افسران نے ان سے ملاقات کی اور انکی خیریت دریافت کی۔ ماﺅ باغیوں کے چنگل سے آزادی پانے والے انجینیر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے تحصیلدار کے دفتر کے باہر ہجوم امڈ پڑا۔بعد میں مسٹر ماجھی کو بالیمیلاڈیم پراجکٹ کے کے گیسٹ ہاﺅس میں منتقل کر دیا گیا۔حکام کے مطابق ڈسٹرکٹ کلکٹر کرشنا کو بھی جلد رہائی نصیب ہو جائے گی۔ ان دونوں کو ماﺅ باغیوں نے الگ الگ مقام پر رکھا تھا۔وزیر اعلیٰ نوین پٹنائیک نے اسمبلی کو مطلع کیا کہ مذاکرات کاروں کے وعدے کے مطابق کرشنا کو بھی جلد ہی رہائی مل جائے گی۔اڑیسہ حکومت نے ماﺅ باغیوں کے تمام 14مطالبات مان لیے جن میں پانچ نکسلیوں کے خلاف کیس واپس لینے کا بھی مطالبہ ہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment