Wednesday, February 16, 2011

مصری انقلاب کے اصل ہیرو ٹوئٹراور فیس بک


سہیل انجم
فراعنہ مصر کے موجودہ جانشین حسنی مبارک کا تخت زرنگار عوامی انقلاب کے تند وتیز طوفان میں خس وخاشاک کی مانند بہہ گیا۔ حسنی مبارک جو اب اپنے ہی عوام کے لیے نامبارک بن گئے ہیں بڑی بے شرمی کے ساتھ شرم الشیخ میں جاکر جم گئے ہیں۔ اس سے قبل وہ تیس سال سے مصری حکومت پر قابض رہے ہیں لیکن وقت نے ان سے ایسا انتقام لیا ہے جسے وہ اب اپنی باقی ماندہ زندگی میں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ یہ ایسا انقلاب تھا جسے امریکی صدر براک اوبامہ نے گاندھیائی انقلاب کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انقلاب کی تاریخ خاک وخون سے نہیں لکھی گئی ہے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔ دنیا میں آنے والے بیشتر انقلابوں کی تاریخ انسانی لہو سے رقم کی جاتی رہی ہے۔ یہ انقلاب ان چند انقلابوں میں شامل ہے جن میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا اور انسانی کشتوں کے پشتے نہیں لگے۔ یہ اپنے آپ میں انوکھا انقلاب تھا۔ اسے گاندھیائی انقلاب اسی لیے کہا جا رہا ہے کہ عدم تشدد کے اصول پر چل کر اسے منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے۔ اس انقلاب کے ہیرو ،یوں تو وہ دبے کچلے اور مظلوم عوام ہیں جو تیس برسوں سے ظلم وزیادتی کی چکی میں پسے جا رہے تھے اور جنھوں نے کبھی اُف تک نہیں کی۔ لیکن تیونیشیا میں آئے ”انقلاب یاسمین“ نے مصری عوام کو بھی گہری نیند سے بیدار کر دیا اور وہ بھی سڑکوں پر نکل آئے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو اس انقلاب کے اصل ہیرو ٹویئٹر اور فیس بک ہیں۔ یہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہیں اور ان سائٹوں نے در اصل عوام کو ایک ڈور میں باندھ دیا تھا۔ امارت کے خلاف اٹھے اس انقلاب کی عمارت میں یہ دونوں سائٹیں بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہی بنیادوں پر انقلاب کی تعمیر کی گئی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ موجودہ عہد انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عہد ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے پوری دنیا کے عوام کو ایک سائبان کے نیچے جمع کر دیا ہے۔ جہاں وہ ایک دوسرے سے ٹویئٹر، فیس بک اور انٹرنیٹ سے رابطہ کرتے ہیں اور آج کے عہد میں یہ رشتہ اتنا مضبوط ہو گیا ہے کہ اس نے ہماری زندگی کی شکل وصورت ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔
قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ ٹویئٹر اور فیس بک کیسے اس انقلاب کے ہیرو بن گئے۔ دراصل تیونیشیا میں بھی یہی ہوا تھا۔ وہاں بھی انہی دونوں سائٹوں نے عوام کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا۔ تیونس میں ایک تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان معاش کے لیے پریشان تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ تمام راستے بند ہو گئے ہیں تو اس نے ایک ٹھیلا خریدا اور اس پر سبزی بیچنے لگا۔ لیکن کرپشن اور بدعنوانی نے اس سے اس کا یہ روزگار بھی چھین لیا۔ ایک کرپٹ پولیس افسر نے رشوت نہ دینے کی پاداش میں اس کا ٹھیلا اٹھا لیا اور وہ نوجوان جس کا نام محمد بوازیزی تھا پھر بے روزگار ہو گیا ۔ وہ اس واقعے کے بعد انتہائی مایوس ہو گیا۔ لہذا اس نے خود سوزی کر کے اپنی زندگی ہی ختم کر دی۔ اس واقعے کو فلما لیا گیا تھا اور پھر اسے فیس بک پر ڈال دیا گیا۔ فیس بک پر اس منظر کو دیکھنے کے بعد عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ۔ اس طرح وہاں کے صدر زین العابدین کو جو کہ 23سال سے برسر اقتدار تھے حکومت چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا۔ مصر میں بھی تقریباً یہی ہوا ہے۔ وہاں چار نوجوانوں نے جو غریبی، بھکمری، بے روزگاری، بدعنوانی اور مہنگائی سے تنگ آگئے تھے، خود سوزی کر لی۔ اس منظر کی بھی فلم بندی کر لی گئی اور اسے بھی فیس بک پر ڈال دیا گیا۔ ایک دوشیزہ نے جس کا نام اسماءمحفوظ ہے اسے فیس بک پر ڈال کر اپنا ایک پیغام بھی ریکارڈ کرکے ڈال دیا۔ جس میں اس نے کہا تھا کہ میں نے یہ ویڈیو آپ کے لیے اس لیے بنائی ہے کہ میں آپ کو ایک عام سا پیغام دے سکوں۔ ہم اس حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے 25جنوری کو تحریر ااسکوائر پر جا رہے ہیں۔ ہم وہاں حکومت سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں گے۔ ہم اپنے بنیادی حقوق حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ وہ ہمیں با عزت زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرے جو کہ ہمارا حق ہے۔ یہ پوری حکومت بد عنوان ہے، کرپٹ ہے۔ سیکورٹی فورسز بھی کرپٹ ہیں۔ اگر آپ اپنے آپ کو ایک آدمی، ایک انسان سمجھتے ہیں اور آپ بھی آبرومندانہ اور باعزت زندگی جینے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس بدعنوان حکومت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ بھی تحریر چوک پر آئیے، ہم سے ہاتھ ملائیے، قدم سے قدم ملائیے اور اس حکومت کے خلاف پُرزور مظاہرہ کیجئے۔ اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد مصری عوام کے اندر ایک آتش فشاں پھٹ پڑا اور اس سے جو لاوا نکلا اس نے حسنی مبارک کی حکومت کو جلاکر خاکستر کر دیا۔
حالانکہ مصر میں انٹرنیٹ کا استعمال زیادہ نہیں ہے۔16جنوری سے 24 جنوری تک ایک لاکھ بائیس ہزار ٹوئیٹ ہی اپ لوڈ کیے گئے تھے۔ لیکن 25جنوری سے جو کہ مصری انقلاب کا روز اول تھا، ٹویئٹس کی تعداد میں گیارہ گنا اضافہ ہو گیا اور 1.35ملین سے زیادہ لوگوں نے ٹویئٹس اپ لوڈ کیے۔ یہ وہ تعداد ہے جس نے مصر میں حکومت کی تبدیلی کا بگل بجا دیا۔ مشرق وسطی کے حکمرانوں کو بھی اس اہم ذریعے کی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے۔ انھوں نے محسوس کر لیا ہے کہ فیس بک اور ٹویئٹر بہت ہی موثر اور طاقتور ذرائع ہیں۔ حسنی مبارک نے بھی کچھ ایسا ہی سمجھا اور اسی لیے انھوں نے ان دونوں ذرائع پر پابندی لگا دی اور پھر بعد میں انٹرنیٹ کو بھی ممنوع قرار دے دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گوگل کے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے مارکیٹنگ افسر وائل سعید عباس غنیم کو قید کر دیا۔ لیکن گیارہ دنوں کے بعد ان کو رہا کرنا پڑا۔ رہائی کے بعد وہ تحریر اسکوائر گئے جہاں عوام نے ان کا انتہائی والہانہ استقبال کیا۔ انہوں نے وہاں ایک پُرسوز اور شعلہ بیاںتقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کے ہیرو وہ نہیں ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو اپنی جانوں کی قربانی دینی پڑی ہے اور جو اس انقلاب کے لیے گولیاں کھاکر خاموش ہو گئے ہیں۔ ان کی اس تقریر نے لوگوں کے دلوں کو گرما دیا اور ایسی حرارت پیدا کی کہ مظاہرین کا یہ اجتماع انقلاب کے تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔
اس انقلاب نے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں ایک زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اور متعدد ملکو ںمیں حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا بگل بج گیا ہے۔ ان حکمرانوں کو بھی اس کا احساس ہے اسی لیے وہ اپنی حکومتوں کو بچائے رکھنے کے لیے متعدد مراعات کے اعلانات کر رہے ہیں کہیں تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ کا لالچ دیا جارہا ہے تو کہیں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی سول و فوجی عہدوں میں ترقی اور دیگر مراعات کا اعلان ہو رہا ہے لیکن عوام ہیں کہ اب کسی جھانسے میں نہ آنے کا تہیہ کر چکے ہیں اور انہوں نے سر سے کفن باندھ لیا ہے۔ فی الحال جن ملکوں کو سب سے زیادہ فکر ستا رہی ہے ان میں اردن، یمن، الجیریا، لیبیا، مراکش اور شام ہیں۔ شام میں تو خیربادشاہت ہے لیکن دوسرے ملکوں میں شخصی حکومت ہے۔ کرنل معمر قذافی چالیس سال سے زائد عرصے سے حکومت پر قابض ہیں۔ یمن میں بھی اس طوفان کی آمد آمد ہے۔ وہاں بھی ایک آمر علی عبد اللہ صالح 32برسوں سے قصر صدارت کے مالک بنے ہوئے ہیں ۔ تیونیشیاکی بغاوت کے بعد یمن کے دار الحکومت صنعا اور ایک دوسرے اہم شہر عدن میں عوام نے سڑکو ںپر نکل کر مظاہرے کیے ہیں۔ یمن عالم عرب کا سب سے مفلوک الحال ملک ہے جہاں کی نصف آبادی یومیہ دو ڈالر سے کم آمدنی پر بھی گزارہ کرتی ہے۔ وہاں کے صدر نے مسلح فوجیوں کی تنخواہوں میں اس خیال سے اضافہ کر دیا ہے کہ وہ عوام کی بجائے ان کے تئیں وفاداری دکھائیں گے۔ حکمراں جنرل پیپلز کانگریس پارٹی نے اپوزیشن کے سامنے مذاکرات کی پیشکش رکھی ہے۔ لیکن عوام تبدیلی کے علاوہ کسی اور بات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اردن میں بھی مظاہرے جاری ہیں۔ شاہ عبد اللہ دوم نے اپنی کابینہ برطرف کر دی ہے اور سابق وزیر اعظم سمیر رفاعی کے جگہ پر معروف باخِت کو وزیر اعظم نامزد کر دیا ہے۔ لیکن اسلام پسندوںنے اس تقرری کومسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے مکمل تبدیلی اور تازہ انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت اردن کے معاشی حالات انتہائی دگر گوں ہیں۔ حکومت نے قیمتو ںمیں کمی کے لیے کئی اعلانات کیے ہیں اور سول سرونٹس کی تنخواہیں بڑھا دی ہیں۔الجیریا میں بھی احتجاج کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ الجیریا تیونیشیاکے مغرب میں واقع ہے ۔ وہاں بھی گرانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لازمی اشیا کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔ وہاں بھی لوگ سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں۔ الجیریا میں 1992 سے ہی ایمرجنسی نافذ ہے اور دارالحکومت میں احتجاج اور مظاہرو ںپر پابندی عائد ہے۔ ابھی تک ملک کے دوسرے حصوں میں ہی مظاہرے ہو رہے تھے لیکن اب تقریباً تمام شہرو ںمیں ہونے لگے ہیں ۔ لیکن وہاں بہر حال ویسی صورت حال نہیں ہے جیسی کہ تیونیشیا اور مصر میں دیکھی گئی ہے۔ حکومت کچھ اقدامات کر رہی ہے تاکہ قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ مراکش میں بھی اقتصادی مسائل ہیں اور حکمراں طبقے پر بد عنوانیوں کے الزامات ہیں۔ وکی لیکس کے انکشافات کے بعد شاہی خاندان کی لوٹ کھسوٹ بے نقاب ہو گئی ہے اور عوام شاہ محمد ہفتم اور ان کے اہل خانہ کی بدعنوانیوں سے پوری طرح واقف ہو گئے ہیں۔ لیکن مراکش میں ابھی حالات اتنے خراب نہیں ہوئے ہیں جتنے دوسری جگہوں پر ہوئے ہیں۔ وہاں کسی نہ کسی حد تک عوام کو اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے۔ اردن کی مانند یہاں بھی بادشاہت ہے لیکن شاہی خاندان کو عوام کے بہت بڑے طبقے کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ادھر لیبیا کے صدر کرنل معمر القذافی بھی اپنے ملک میں اپوزیشن جماعتوں کے متحرک ہوجانے پر کافی برہم ہیں۔ ان کو اندیشہ ہے کہ کہیں ان پر بھی مبارک کا نامبارک سایہ نہ پڑ جائے۔ کرنل قذافی 41سالوں سے برسر اقتدار ہیں اور افریقہ اور مغربی ایشیا میں سب سے زیادہ مدت تک حکومت کرنے والے فرما روا بن گئے ہیں۔ لیبیا میں مظاہرو ںاور احتجاجوں پر سخت پابندی عائد ہے۔ وہ ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس کے اور مصر کے مابین جو امن معاہدہ ہوا تھا وہ کہیں کھٹائی میں نہ پڑ جائے۔ حالانکہ مصر کی نئی گورننگ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ تمام قومی وبین الاقوامی معاہدے برقرار رہیں گے۔ در اصل مصر میں جو نئی حکومت آئے گی اس پر بہت ذمہ داری عائد ہوگی۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی حکومت بھی امریکہ اور اسرائیل کے اثر سے نکل نہیں پائے گی۔ یہ دونوں ملک مصر کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد دیتے ہیں۔ لہذا نئی حکومت کو اسے گنوا دینا آسان نہیں ہوگا۔ بہر حال مصر میں ایک آمر کی آمریت کا تو خاتمہ ہو گیا ہے لیکن اندیشہ ہے کہ کہیں وہاں عدم استحکام نہ پیدا ہو جائے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے ایسا کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بھی مصری عوام کی بد نصیبی ہی ہوگی۔ فی الحال ایک ڈاکٹیٹر سے تو نجات مل گئی ہے لیکن دوسری نوعیت کی آمریت کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ (یو۔ ٹی۔ این)۔
s_anjum11@yahoo.com- یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment