Wednesday, February 02, 2011

چین نے کرماپا سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی


بیجنگ: چین نے اس امر کی تردید کی ہے کہ تبتی کرما کاگیو فرقہ کے سربراہ کرماپا کا اس سے کوئی تعلق ہے یا وہ اس کا جاسوس ہے۔اس نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلہ میں چین کے خلاف ہندوستان کے الزامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہندوستان کو چین پر اعتماد اور بھروسہ نہیں ہے۔چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے یو نائیٹڈ فرنٹ ورک ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار ژو زیتاﺅ کے مطابق ہندوستانی میڈیا میں کرماپاپر چینی جاسوس ہونے کی قیاس آرائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہندوستان کا چین کے تئیں عدم اعتماد کا رویہ برقرار ہے۔کمپارا کے زیر نگرانی چلائے جانے والے ٹرسٹ کے دفاتر پر چھاپوں کی خبروں پر ابتدائی رد عمل میں ہندوستانی پریس نے کہا تھا کہ 1951میں تبت کی پرامن آزادی کے بعد چین کی جانب سے پہلی بار کسی کرماپا بھکشو کو تسلیم کیا گیا ہے۔اور اس کا مجسمہ بھی لگایا گیا ہے۔ دلائی لامہ اور حکومت چین دونوں نے ہی اسے17واں کرماپا تسلیم کیا ہے۔کرماپا تبتی بدھ روحانیمذہب میں تیسری پوزیشن رکھتے ہیں جبکہ پنچن لامہ کی دوسری پوزیشن ہے۔ اور پنچن لامہ کی دوسری پوزیشن کو دلائی لامہ تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ پوزیشن انہیں چین نے دی ہے۔کرماپا 1999میں مذہبی عمل کی تکمیل کے لئےچین چھوڑ کرہندوستان آگئے تھے ۔ژو نے کہا کہ کرماپا کے مشیر کرما توپدین کی وضاحت ان کی ہند آنے کا سبب بتانے کوکافی ہے کہ چونکہ کرماپا کے مسلک کے تمام بڑے علماءہندوستان میں ہی مقیم ہیں اس لئے وہ اپنی روحانی تعلیم کی تکمیل کے لئے ہندوستان آگئے۔کرماپا نے ، جن کا اصل نام اوگیان ٹرینلی دورجی ہے، کہا کہ ان کا ہندوستان آنے کا مقصد دلائی لامہ کا آشیر واد لینا تھا۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment