Wednesday, February 23, 2011

ڈیوس کیس نے حکومت پاکستان کو زبردست آزمائش میں ڈال دیا

نسیم احمد
کسی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت اور قوت فیصلہ سے عاری قیادت نہ صرف ملک و قوم کو بحران میں مبتلا کر دیتی ہے بلکہ خود قیادت کو بھی خجالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ اس کی زندہ مثال ہے جس کا معاملہ الجھتا چلا جارہا ہے۔27جنوری سے لے کر آج تک حکومت پاکستان کا دوٹوک موقف سامنے نہیں آرہا۔ وہ گو مگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔ صدر، وزیراعظم اور وزارت خارجہ سے لے کر عدالت تک سب نے ہی اس معاملے کی پرتیں اٹھانے کے بجائے الجھنیں ہی پیدا کی ہیں۔ ان سب کو ایک طرف امریکی آقاﺅں کا خوف دامنگیر ہے تو دوسری جانب ڈیوس معاملے میں مذہبی و انتہا پسند جماعتوں کے اتحاد و ہم آہنگی کی وجہ سے اقتدار سے بے دخلی اور فوجی بغاوت کے اندیشے لاحق ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صدر امریکہ بارک اوبامہ او روزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے ہی نہیں اس کے عام اراکین پارلیمنٹ تک سے آنکھیں چار کرتے گھبراتے ہیں اور ان لوگوں کی ایک اچٹتی سے نگاہ سے ہی ان پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور دوسری جانب ڈیوس کورہا کرنے سے متعلق غور و فکرکرتے ہوئے جب یہی حکمراں ایوان اقتدار کے جھروکے سے عوام پر نظر ڈالتے ہیں تو ان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ تذبذب کا شکار حکومت تانے بانے بننے ،سوچنے اورحکمت عملی وضع کرنے میں ہی مصروف رہی اور معاملہ الجھتا چلا گیا۔آج بھی متذبذب حکومت پر رعشہ طاری ہے۔وزارت خارجہ نے ریمنڈ ڈیوس کی سفارتی حیثیت کے تعین کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے جو وقت مانگا ہے اس سے یہ حساس معاملہ نہ صرف غیر ضروری طو رپر لٹکا رہے گا بلکہ اس میں مزید پیچیدگیاں جنم لیں گی رہی سہی کسر مقتول محمد فہیم کی بیوہ کی خودکشی اور اس کے نزاعی بیان نے پوری کرتے ہوئے اس معاملے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا۔گرچہ اس معاملے میںاعلی سطح پر پہلے روز ہی طے کر لیاگیا تھا کہ ریمنڈ کو سفارتی مراعات کا مستحق قرار دے کر امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکل جانے کے لئے کہا جائے گا۔خانہ پری کے ایک دو اور اقدامات کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کی جانب سے یہ بیان کہ ریمنڈکو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور اسے آزاد کیا جانا چاہئے درحقیقت وہ تیر تھا جو عوامی رائے اور ردعمل سے واقف ہونے کیلئے چھوڑا گیا تھالیکن جتنی تیزی سے تیر نہیں گیا تھا اس سے کہیں زیادہ سرعت سے یہ جواب ملا کہ اگر ڈیوس کو رہا کیا گیا تو پاکستان کا حشر مصر جیسا ہو جائے گا حکومت پھر گھبرا گئی اور عوام کے غصے کو دیکھتے ہوئے اسے یہ کہنا پڑا کہکہ فوزیہ وہاب کا بیان ذاتی حیثیت میں تھا اور یہ حکومت یا پیپلز پارٹی کا موقف نہیں تھا ۔بعد میں فوزیہ وہاب اپنے پارٹی عہدے سے مستغفی ہوگئیں۔ فوزیہ وہاب نے بھی چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق وضاحت کی کہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پرانہوں نے ذاتی حیثیت سے بیان دیا ،اس بیان کا پارٹی
کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔لیکن اس معاملے میں حکومت پنجاب نے ضرورت سے زیادہ پھرتی دکھاکر تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ ادھر شاہ محمودقریشی نے ڈیوس کو امریکی سفارت خانے سے وابستہ سفارت کار قراردینے سے انکار کردیا۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اب بھی مصر ہیں کہ لاہور کے واقعہ میں گرفتار امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو وہ مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے جس کا دعویٰ امریکا کر رہا ہے اورانہیں اس معاملے میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیاتھا۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ ریمنڈ کے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں تحریری طو رپر کچھ دینے کی بجائے حکومت واشنگٹن کی جانب سے خون بہا دینے کیلئے متاثرہ خاندانوں سے رابطے کی کوشش کر رہی ہے اگر متاثرہ خاندانوں سے معاملہ طے پا گیا تو کیس حل ہو جائے گا کیونکہ پاکستان میں مروجہ اسلامی قوانین کے تحت مقتول کے رشتہ داروں کو اگر دیت کی ادائیگی کر دی جائے تو عدالتیں ملزم کو چھوڑ دیتی ہیں ۔پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ملک میں دیت اور قصاص کا قانون موجود ہے جس کے تحت مقتول شخص کے ورثا خون بہا لے کر قیدی کو رہا کروا سکتے ہیں تاہم اس قانون کے نفاذ میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے یہ صرف مقتول کے ورثا کی رضا مندی سے ہی ممکن ہے۔لیکن وزیر داخلہ رحمن ملک کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نہ ہی دیت دباو ڈال کر دی جا سکتی ہے اور نہ ہی دیت کسی دباو کے تحت لی جاتی ہے۔ پاکستانی تاجروں کے ایک گروہ نے دیت قبول نہ کرنے پر ان خاندانوں کو مدد کی پیش کش کی ہے۔ مختلف حلقوں کی طرف سے مقتول ذیشان اور فہیم کے خاندانوں پر دباو ڈالنے کی خبریں ہیں مگر وہ خون کے بدلے خون کے مطالبہ پر قائم ہیں۔ فیصل آباد کے تاجر اور صنعتکار متاثرہ خاندانوں کی اس شرط پر مدد کے لئے تیار ہیں کہ وہ امریکیوں سے کوئی معاوضہ وصول نہیں کریں گے۔پاکستانی حکومت پر یہ بھی الزام عاید کیا جارہا ہے کہ ڈیوس معاملے کے خاتمے کے لئے اس نے اپنے ایک وزیر کو یہ ذمہ داری سپرد کی ہے اور وہ وفاقی وزیر پنجاب پولیس کے بعض افسروں کی ملی بھگت سے امریکی شہری ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوانوں کے خاندانوں کو بلیک میل کر رہاہے کہ وہ اپنے عزیزوں کے قتل کے عوض رقم قبول کرلیں اور عدالت کے روبرو ان کا خون معاف کرنے کا بیان دیں اور ریمنڈڈیوس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں۔ ایک اور نکتہ نظریہ ہے کہ وزارت خارجہ اس امید میں وقت حاصل کر رہی ہے کہ اگرآئندہ اس سے بڑے کسی معاملے نے سرابھارا تو یہ معاملہ سرد پڑ جائے گا ہائی کورٹ سے اتنا لمبا وقت مانگنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت نے ریمنڈ کو استثنیٰ دینے یا اس سے انکار کرنے کا ابھی تک ذہن نہیں بنایا تاہم وزارت خارجہ کیلئے یہ معاملہ اتنا آسان نہیں کہ ریمنڈ کے عہدے پر کوئی فیصلہ کرسکے ۔ایک اور پاکستانی رہنما بابر اعوان عافیہ صدیقی سے اس کا تبادلہ چاہتے ہیںجبکہ عافیہ صدیقی کے کیس کا موازنہ ریمنڈ ڈیوس سے نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے منجدھارمیں پھنسنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ عوام کی سنیں تو دنیا ساتھ نہیں دیتی اور دنیا کی مان لیں تو عوام ناراض ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا گیا تو سخت مزاحمت کی جائیگی۔وزیراعظم کے مطابق ریمنڈ کے معاملے کے تین حل ہیں، ورثاءاسے معاف کریں، بدلہ لیں یا پھرعدالتیں فیصلہ کریں۔لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ہی ریمنڈڈیوس کوبیرون ملک بھجوانے پر پابندی عائد کردی ہے اور حکم دیا ہے کہ امریکی شہری جس کا نام جو بھی ہوعدالتی کارروائی مکمل ہونے تک کہیں بھی نہیں جاسکتا۔حکم میں مزید کہا گیا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس کے عہدے کے بارے میں یہ درست بھی ہو تو پھر بھی وہ ویانا کنونشن کے تحت سفارتی استثنیٰ کا حقدار نہیں ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت آنے پر بھی سنگین نوعیت کے جرائم میں اسے کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی شہری نے کسی بیرون ملک جرم کیا ہو یاکسی امریکی شہری کو بیرون ملک سزا دی جانی ہو اس سے قبل 1860 سے اب تک 150 برس میں کم از کم 6 امریکی شہریوں کو بیرون ملک گرفتاری کے بعد سزائے موت دی جا چکی ہے اور سینکڑوں امریکی شہریوں کو ان کے جرائم پر بیرون ملک قید و جرمانے کی سزائیں سنائی گئی ہیں جن میں سے زیادہ تر پر بغاوت یا قتل کرنے کا الزام تھا۔ بیرون ملک جرائم کرنے والے امریکیوں کے خلاف مقامی قوانین غیرموثر ہونے اور قانون کے لمبے ہاتھ بے بس رہنے کا تصور غلط ہے۔ نومبر 2007 میں لاس اینجلس ٹائمزنے ان 10 غیر ممالک کی فہرست جاری کی جہاں امریکی شہری سب سے زیادہ پکڑے جاتے ہیں، سینکڑوں امریکی شہریوں کو ان کے جرائم پر بیرون ملک قید و جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں سے چند مثالیں درج ذیل ہیں۔ 1994 میں 18 سالہ امریکی شہری مائیکل فے کو توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں سنگاپور کی عدالت نے کوڑے مارنے کی سزا دی۔ اسے 4 ماہ قید اور 22 سو ڈالر جرمانہ بھی ہوا۔امریکی صدر بل کلنٹن کے احتجاج پر 6 کوڑوں کی بجائے 4 کوڑے مارے گئے۔ فروری 2007 میں ایک امریکی شہری 27 سالہ صحافی ایرک وولز کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ زیادتی اور بعدازاں قتل کرنے کے جرم میں 30 سال قید کی سزا دی گئی۔ 5 جولائی 2010کو شائع ہونے والے دی اکانومسٹ کے مطابق چین میں ایک امریکی جیالوجسٹ ”زوئی فینگ“ کو آئل انڈسٹری کے متعلق خفیہ معلومات حاصل کرنے کے جرم میں 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔سزا دیئے جانے کے وقت امریکی سفیر بھی بیجنگ کی عدالت میں موجود تھے۔ 2009 اور 2010 میں چین سے غیرقانونی طور پر شمالی کوریا داخل ہونے والے کم از کم 4 امریکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے 3 صحافی تھے، ایک صحافی کو 8 سال قید اور 7 لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا دی گئی جبکہ 2 خاتون صحافیوں کو بارہ بارہ سال قید کی سزا ہوئی، ان دونوں کی رہائی کی درخواست کرنے کے لئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن خود شمالی کوریا گئے جس کے بعد ان خواتین کی رہائی ممکن ہوئی۔
اب تک پاک امریکا اقتصادی تعلقات پر امداد کا غلبہ رہا ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ امداد پر انحصار کرنے والا ملک ہے۔پاکستان میں گزشتہ سال امریکی سرمایہ کاروں نے چار سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور اب امریکہ نے نہ صرف پاکستان کی سول اور فوجی امداد کو امریکی شہری اور 2 پاکستانیوں کے قتل کے ملزم ریمنڈ ڈیوس کی باعزت رہائی سے منسلک کر دیا ہے بلکہ اس امداد میں خاطر خواہ اضافہ کا بھی لالچ دیا ہے۔ 5 سالوں کے لئے کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد کو امریکہ نے
7.5 ارب ڈالر سے 100 فیصد بڑھا کر 15 ارب ڈالر کر دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کیلئے امریکی امدادپرانحصارختم کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہو گا یاپاکستانی حکمراں امدادکونشے کے طورپر استعمال کرتے رہیں گے ۔
(مضمون نگار سے 09873709977یا naseem987@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment