Saturday, February 12, 2011

پاکستانی کرکٹرز کو سزا دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لئے سخت وارننگ

نسیم احمد
آئی سی سی کے 3 رکنی غیر جانبدار اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسکینڈل میں ملوث پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ پر 10 سال، فاسٹ بالر محمد آصف پر 7 سال اور فاسٹ بالر محمد عامر پر 5 سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت اس جرم کی کم از کم سزا 5 سال ہے ، دوبارہ جرم نہ کرنے کی شرط پر سلمان بٹ اور محمد آصف کی پابندی کی مدت میں بالترتیب پانچ اور دو سال کی کمی کا امکان موجود ہے ، اگر ان کھلاڑیوں پر مزید کوئی الزام نہ لگا تو سلمان بٹ اور محمد آصف کی پابندی 5 سال بعد ختم کی جاسکتی ہے۔ تاہم نوجوان فاسٹ بالر محمد عامر کو اپنی سزا پوری کرنا ہوگی۔ سزا کے دوران ان کی نقل و حرکت پر نظررکھی جا ئے گی ۔ سزا کے دوران اگر یہ کھلاڑی دوبارہ ملوث پائے گئے تو انہیں تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب پاکستانی کھلاڑی اس سزا کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ 26 سالہ سلمان بٹ پر 10 سال کی پابندی لگائی گئی ہے انہیں پانچ سال کی معطل سزا دی گئی ہے۔ 28 سالہ محمد آصف پر 7 سال کی پابندی لگائی گئی ہے ان پر دو سال کی معطل سزا ہے جبکہ 18 سالہ محمد عامر کو 5 سال کی سزا بھگتنا ہوگی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرپاکستانی کھلاڑی مجرم ہیںتوان پرتاحیات پابندی لگنی چاہیے تھی اوراگربے گناہ ہیں توانہیں اپناکیریئرجاری رکھنے کاموقع ملناچاہئے تھا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں پرجرم ثابت ہونے کے باوجودانہیں جلد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کاموقع بھی دیاگیاہے۔اس فیصلے سے ایسالگتاہے کہ آئی سی سی نے کرکٹرزکودھوکہ دہی کے کھلے لائسنس دے رکھے ہیں۔آصف اور عامر کا سزا کے بعد کرکٹ میں واپس آنا مشکل ہے۔ کیس کی جیوری تجربہ کارتھی جس نے بہت متوازن فیصلہ سنایا، ٹھوس ثبوتوں پر فیصلہ دیا ۔آئی سی سی کومیچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ میں فرق کو سمجھنا چاہیے،میچ فکسنگ کم ہوگئی ہے،اسپاٹ فکسنگ زور پکڑ گئی۔ اسپاٹ فکسنگ سے متعلق قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔اس معاملے میں جج نے خوداعتراف کیا کہ اسپاٹ فکسنگ پرقانون نہیں بنا، اس میں ترمیم کی ضرورت ہے اس لئے اگر قانون میں ترمیم ہو گی تو سزا کم ہو سکتی ہے۔
سابق پاکستانی کپتان سلیم ملک کرکٹ کی تاریخ کے پہلے کھلاڑی تھے جن کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگی11سال قبل فاسٹ بالر عطا الرحمن کو بھی ان کے ساتھ ہی سزا دی گئی ،سلیم ملک کی طرح اظہر الدین پر بھی تاحیات پابندی لگی جس کے بعد انہوں نے سیاست اختیار کی ۔ کرکٹ میں میچ فکسنگ اس وقت منظر عام پر آئی جب 2000 میں دہلی پولیس نے مقامی سٹے باز اور سابق جنوبی افریقی کپتان ہنسی کرونئے کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کر لی۔ہنسی کرونئے نے عدالت کے سامنے تسلیم کر لیا کہ اس نے پیسوں کی خاطر میچ ہارا ہے جس کے فوراً بعد ان پر پابندی لگ گئی۔ تفتیش کے دوران کرونئے نے ہی اظہر الدین ، اجے جڈیجہ اور سلیم ملک کے متعلق بتایا کہ وہ بھی اس غیر قانونی کاروبار میں شریک ہیں۔آسٹریلین کھلاڑی مارک وا اور شین وارن پربھی الزام لگا تھا کہ انہوں نے پیسے لے کر جان نامی سٹے باز کو موسم اورپچ کے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ تاہم انہیں ان کے کرکٹ بورڈ نے معمولی سا جرمانہ ادا کرنے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔میچ فکسنگ کے الزام میں سزا پانے والوں میں ہرشل گبز ، ہنری ولیمز ، مارلن سیموئل بھی شامل ہیں۔سلیم ملک ، محمد اظہر الدین ، مورس اوڈمبے اور ہنسی کرونئے کے بعد سلمان بٹ دنیائے کرکٹ کے پانچویں کپتان ہیں جن کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کی جانب سے پیسوں کے لالچ میں میچ ہارنے پر سزا دی گئی ہے محمد آصف واحد کھلاڑی ہیں جن پر سات سال کی پابندی لگی ہے جب کہ مورس اڈومبے ، اجے جڈیجہ اور منوج پربھاکر کے بعد محمد عامر چوتھے کھلاڑی ہیں جن کے کرکٹ کھیلنے پر پانچ سال کی پابندی لگی۔لیفٹ ہینڈ بیٹسمین اور سابق کپتان سلمان بٹ 7اکتوبر 1984 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ستمبر 2003کو ملتان میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ سے کیا جبکہ آخری ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلا تھا۔ انہوں نے 33ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ پاکستان کی جانب سے 78ون ڈے اور 24ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل چکے ہیں۔ ون ڈے ڈیبیو انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 22ستمبر کو کیا جبکہ آخری ون ڈے ہندستان کے خلاف دمبولا میں کھیلا۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی میں اپنا پہلا میچ 2 ستمبر،2007کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا جبکہ آخری ٹی ٹوئنٹی آسٹریلیا کے خلاف 6جولائی 2010کو برمنگھم میں کھیلا۔سلمان بٹ نے ٹیسٹ میں 3سنچریوں کی مدد سے1ہزار8سو 89اور ون ڈے میں 8سنچریوں کے ساتھ 2ہزار 7سو25رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے 90فرسٹ کلاس میچوں میں 6ہزار سے زائد رنز بنائے ہیں۔رائٹ ہینڈ فاسٹ بالر محمد آصف 20 دسمبر 1982کو شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 23ٹیسٹ، 38ون ڈے اور 11ٹی ٹوئنٹی میچوں میں نمائندگی کی۔ وہ ٹیسٹ میں 106، ون ڈے میں 46اور ٹی ٹوئنٹی میں 13وکٹیں لے چکے ہیں۔انہیں ٹیسٹ میں 7مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ آصف نے ٹیسٹ ڈیبیو جنوری 2005میں آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں کیا، انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ معطلی سے قبل ان کا آخری ٹیسٹ تھا جس میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آیا۔ ون ڈے ڈیبیو دسمبر 2005میں انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی میں کیا جبکہ آخری ون ڈے بنگلہ دیش کے خلاف دمبولا میں کھیلا۔ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کا پہلا میچ 2006میں انگلینڈ کے خلاف جبکہ آخری میچ بھی انگلینڈ ہی کے خلاف مئی 2010میں کھیلا۔لیفٹ آرم فاسٹ بالرمحمد عامر 13اپریل 1992 میںگو جر خان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو 4جولائی 2009کو سری لنکا کے خلاف گال میں کیا۔ اب تک انہوں نے کیریئر میں 14 ٹیسٹ میچ کھیل کر 51وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ انگلینڈ کے خلاف اگست 2010 میں لارڈز کے گراونڈ پر کھیلا تھا۔ محمد عامر نے ون ڈے ڈیبیو بھی سری لنکا کے خلاف 30جولائی 2009کو کیا، ون ڈے میں ان کی وکٹوں کی تعداد 25ہے۔ انہوں نے 15ون ڈے میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ کیریئر کا آخری ون ڈے انڈیا کے خلاف دمبولا 19جولائی 2010 کو کھیلا تھا۔ فاسٹ بولر محمد عامر نے اپنے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کا آغاز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2009میں انگلینڈ کے خلاف میچ سے کیا۔انہوں نے 18ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 23وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ عامر نے 28فرسٹ کلاس میچوں میں 120وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ محمد عامر کو اس وقت مقبولیت ملی جب ان کا موازنہ وسیم اکرم کے ساتھ کیا جانے لگا۔
سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف سزائیں سخت ضرور ہیں لیکن اگلی نسل ان سخت سزاوں سے سبق حاصل کرے گی۔ آئی سی سی کے پاس ٹھوس شواہد تھے۔ ان کھلاڑیوں نے غلط حرکتیں کرکے اپنی زندگیاں خراب کرلی ہیں، باصلاحیت کھلاڑیوں نے اپنا سب کچھ ختم کرلیا۔ کھلاڑیوں نے غلط کام کرکے اپنے کیریئر ختم کرلئے ہیں، تینوں باصلاحیت کھلاڑی ہیں لیکن ان سزاوں کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ کرکٹ صاف ستھری کھیلنی چاہئے، کھلاڑیوں کیلئے ایک اور مشکل فیصلہ یہ ہے کہ انہیں اسکاٹ لینڈ یارڈ کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ محمدعامر کا سب سے زیادہ افسوس ہوا ہے، محمدعامر وسیم اکرم کے نقش قدم پر چل رہا تھا،شائقین اس کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن کھلاڑیوں کی حرکتیں ان کو لے ڈوبیں۔ محمد عامر کو کم سزا ملنی چاہئے تھی یا اس کو معافی دی جاسکتی تھی۔
پاکستانی کرکٹرز کو سزا دیکر آئی سی سی نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو سخت وارننگ دی ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی غلط کام کرے گا تو اس کو معافی نہیں ملے گی۔ یہ سزائیں پاکستان کرکٹ پر دھبہ ہیں اور مسائل میں گھری پاکستان کرکٹ کے لئے ایک اور دھچکہ ہے، اس سے پاکستانی کرکٹ مزید پستی کی طرف جائے گی، امید ہے کہ ان سزاوئں سے کھلاڑی سبق حاصل کریں گے، اس سے پاکستان کرکٹ کے ساتھ ساتھ عالمی کرکٹ سے بھی کرکٹ کرپشن کی لعنت ختم ہوگی۔(یو ٹی این)
(مضمون نگار سے 09873709977یا naseem987@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment