Wednesday, February 02, 2011

دیوبند پر تسلط کے لئے ایک اور جنگ


ایم جے اکبر
عصری دنیا میں فاش غلطیوں اور زبردست قسم کی نادانیوں میں سے ایک کسی بھی مذہب کے عالم یا رہنما کو کارٹونی شکل میں پیش کرنا ہے۔اور اسی لئے ایک امام کا خاکہ لمبی اور پھیل ہوئی ڈاڑھی اور ترچھی نگاہ کے ساتھ، پنڈت کوبالوں کے الجھے گچھے اور بڑی سی توند کی شکل میں اور کسی پادری کو ایک لمبے چوڑے ہوا دار جبا پہنے ترچھی نظروں سے دیکھتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔مذہبی رہنماﺅں کے اس انداز میں خاکے بنانے کی بیہودگیاں در اصل دور حاضر میں ہماری زوال پذیر اخلاقی قدروں کی مظہر ہیں اور کچھ مذہبی رہنماﺅں کے طبقے میں انقلابی کیفیت کے پیدا ہو جانے کی وجہ سے بھی ہے جو تشدد کو ایک محترم اور بڑی طاقت کے نام سے موسوم کر کے اسے حق بجانب قرار دیتے ہیں۔
مذہب ، مسجد ، مندر یا گرجا گھر زیادہ تر انہی افراد کی روایتی پناہ گاہ رہے ہیں جو مطلق العنان حکمرانوں اور ڈکٹیٹرشپ کی متعدد اقسام کے خلاف جہد مسلسل کے شکار رہے چکے ہیں ، جوکہ انسانی تاریخ کا ایک بڑا لمیہ رہا ہے۔ خدا کا تصور انسان کے لئے مصیبت کی اس گھڑی میں اکثر راحت کا ذریعہ بنتا ہے، جب اسے انسانوں کے ہاتھوں دکھ وتکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ مذہب اکثر مزاحمت کی ہی علامت ہوتا ہے، جیسا کہ مطلق العنان عرب حکمراں اب محسوس کر رہے ہیں جب کہ وہاں کے گلی کوچے اس وقت ڈکٹیٹرشپ کے خلاف زبردست عوامی احتجاج ومظاہروں کے نعروں سے گونج ر ہے ہیں اور خفیہ ایجنسیوں کو ان کی ناکا می کااحساس دلا رہی ہیں ۔
قابل حکومتیں خواہ وہ ڈکٹیٹروں کی ہوں یاجمہوریت پسندوں کی ، مذہبی رہنماوں کی طاقت کو اچھی طرح پہچان چکی ہیں اور اس کے لئے وہ دوہری حکمت عملی اپناتی ہیں ، جس کے تحت انتہاپسندی کے نظریات کو سختی کے ساتھ کچل کر وہ مذہبی رہنماوں کو چاپلوسی اور رشوت کے ذریعہ مسلسل اپنی حمایت میں رکھتی ہیں۔ مذہبی رہنماوں کی آزمائش امن وامان کے حالات کے تحت نہیں، بلکہ ان کا اصل امتحان سماجی وسیاسی زیادتیوں کے دور میں ہی ہوتا ہے۔
اگر ہم ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں اور بالخصوص شمالی ہند میں علماکے اثرات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس معیاری کردار پر نظر ڈالنی ہوگی، جو کہ 19ویں صدی کے زوال کے دور میں ان علماءنے اداکیا ہے۔ اس پر آشوب دور میں امن واستحکام کے تقریباً سبھی ستون یا توگر گئے یا انہوں نے برطانوی سا مراج کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔ اس وقت ایک مذہبی رہنما ہی تھا جس نے ملت کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا اور اسے متحد رکھاجب شاہ ولی اللہ کے مدرسہ کے طلبا یا طالبان کا انقلابی گروپ سیاسی اختیارات کی بحالی کے لئے جہاد کے لئے نکل پڑاتھا ، یہی مذہبی رہنماتھے، جو پورے فرقے کو متحدرکھ پائے تھے۔ وہ جنگ تو ناکام ہو گئی تھی، تاہم جو لوگ جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے انہو ںنے مسلم فرقے کے سب سے نچلے طبقے کی ، جو کہ اس وقت نہ صرف زبردست اقتصادی و سماجی دباو کا شکار تھا، بلکہ اسے اپنے وجود اور زبان و ثقافت کی بقا کا خطرہ بھی لاحق ہو گیا تھا، غیر معمولی قائدانہ خدمات انجام دی تھیں۔ اس طرح کے اتھل پتھل اور پرُفتن حالات میں ہی تقریباً ڈیڑھ صدی قبل دارالعلوم دیو بند کی شکل میں ایک ادارہ وجود میں آیا تھا۔
اس ادارے کے بانیان نے برطانوی سامراج سے ایک روپیہ بھی عطیہ کے طور پر لینے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے اساتذہ اور طلبا وہی معمولی کھانا کھاتے تھے جو مقامی لوگ انہیں صبح پہنچایا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے اس ادارے کی صرف مذہبی اہمیت کو ہی تسلیم نہیں کیا تھا، بلکہ وہ ان اثرات سے بھی بخوبی واقف تھے، جو اس کے اساتذہ و طلبا عوام الناس پر رکھتے تھے۔ دیوبند کی، 20ویں صدی کے اوائل کی ان نوابوں اورجاگیر داروں کے تسلط والی مسلم سیاست کے لئے ایک متضاد حیثیت تھی۔
مغربی اثرات کے تحت دیوبند کی تصویر اکثر ایک خراب ادارے کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہاں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں، جنہوں نے اپنے اعلانات کے ذریعے اسے ایک فتویٰ فیکٹری میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کے اثرات کو مسخ کر کے تشدد کی راہ کا جواز فراہم کرنے کی بھی کوشش کی ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ کسی بھی عظیم تعلیمی مرکز میں کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو اپنے والدین کی علم ودانش کی وراثت کی بدنامی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے لئے دیوبند کی حیثیت ایک بے مثال تعلیمی وسیلے کی ہے۔ یہ ادارہ صرف ان طلبا کی امید اور خوابوں کی تعبیر کا ہی مرکز نہیں ہے۔ جو اسے باری تعالیٰ کی حمدو ثنا کا ایک ذریعہ بنانا چاہتے ہیں ، بلکہ اس کی اہمیت ان طلبا کے لئے بھی ایک بے مثال تعلیمی ادارے کی ہے جو اپنے مستقبل کی تعبیر کے لئے میں اسے ایک بہترین ذریعہ مانتے ہیں۔ مسلمانوں کے دل میں اس ادارے کے لئے پائے جانے والے عقیدت و احترام کے جذبات نے اسے ایک طاقتور مرکز کی شکل دے دی ہے اور جہاں طاقت ہوتی ہے وہاں سیاست کا ہونا لازمی ہے۔ اس وقت جس طرح کی رسہ کشی ہمارے سامنے ہے، وہ مختلف گروپوں اور مفاد پرستوں کے درمیان دیوبند کے کنٹرول کے لئے جاری ایک سیاسی جنگ ہی ہے۔
مولانہ غلام وستانوی کی مہتم یا وائس چانسلر کے طور پر تقرری سے پیدا شدہ بے چینی کی کئی وجوہات ہیں۔ وستانوی ایک غیر معمولی شخصیت ہیں ، جنہوں نے 1979میں گجرات و مہاراشٹر کے سرحدی قبائلی علاقے میں ایک جھونپڑی میں 6طلبا کے ساتھ ایک اسکول کی ابتداءکر کے اسے ایک ایسے ادارے کی شکل دے دی تھی جس میں ملک کے مختلف علاقوں کے تقریباً 2لاکھ طلبا اب زیر تعلیم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یوپی سے باہر والے ایسے پہلے شخص ہیں جنہیں اتنا بڑا عزاز و ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ادارے میں ان کی موجودگی ان اصلاحات کی علامت ہے، جس کے لئے وہاں کے طلبا تر ستے رہے ہیں۔ تاہم ان کی موجودگی سے کچھ ایسے عناصر کو بھی خطر ہ لاحق ہو گیا تھا جو دیوبند کا استعمال دہلی اور بیرونی ممالک سے حاصل ہوے والے ذاتی فوائد کے لئے کرتے رہے ہیں۔ ان عناصر نے اپنے ذاتی مفادات کے تحت مولانا وستانوی کو کسی نے کسی بہانہ سے چیلنج تو کرتا ہی تھا۔ اتفاق سے طاقت کے بھوکے کچھ صحافیوں کی وہاں موجودگی کی وجہ سے ان کو ایک آسان جذباتی بہانہ مل بھی گیا۔
دیوبند جیسا کہ اس سے قبل بھی وہاں ہو چکا ہے، فی الحال ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر دیوبند اس مذہبی گروپ کی ملکیت بن گیا جو اپنی طمع وہوس کے تحت اس کے عظیم نام نامی کا استحصال کرنا چاہتے ہیں تو مولاناوستانوی کو وہاں سے باہر کا راستہ دکھا دیا جائے گا لیکن اگر دیوبند اپنے بانیوں کی ان اعلیٰ اقدار اور اصولوں کے تئیں ایماندار رہتا ہے تو وہاں ضرور اس تعلیمی اصلاح وآزاد افکار و نظریات کی راہ ضرور ہموار ہوگی جس کے تحت کمزور مسلم طبقات کے بچے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ایک معزز اور مراعات یافتہ شہری بن جاتے ہیں۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment