Thursday, February 03, 2011

حسنی مبارک نے ستمبر میں اقتدار سے دستبردارہونے کا اعلان کیا


قاہرہ: مصر کے صدر حسنی مبارک نے حکومت مخالف عوامی احتجاج کے سامنے کافی حد تک گھٹنے ٹیکتے ہوئے منگل کی شب اعلان کیا کہ وہ ستمبر میںانتخابات کے بعد اقتدار سے دستبردار ہو جائیں گے۔ لیکن بلا لحاظ مسلک، فرقہ و جماعت و رنگ و نسل لاکھوں کی تعدا میں دارالحکومت کے طاہر چوک پر جمع ہو کر حکومت کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرنے والوں کے لئے یہ یقین دہانی کافی نہیں ہے اور ان کا احتجاجی مظاہرہ جاری رہا۔رات دیر گئے امریکی صدر بارک اوبامہ نے بھی کہا کہ مسٹر مبارک کی یہ پیشکش کافی نہیں ہے بلکہ مصر میں اقتدار کی منتقلی ابھی اور اسی وقت سے شروع ہو جانی چاہئے۔مسٹر اوبامہ نے مسٹر مبارک کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل انہیں فون کر کے کہا تھا کہ مصر میں تیزی کے ساتھ اقتدار کی منتقلی ہونی چاہئے۔مسٹر مبارک نے یہ اعلان طاقتور مصری فوج کی جانب سے بتدریج ختم ہوتی حمایت اور مزید برسر اقتدار نہ رہنے کے لئے امریکہ کی تلقین کے مدنظر اپنی دس منٹ کی تقریر کے دوران کیا۔ اپنی جذباتی تقریر میں انہوں نے ستمبر کے صدارتی انتخابات تک عہدے پر برقرار رہنے کی خواہش کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ کبھی مصر سے نہیں جائیں گے اور مصر میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔مسٹر مبارک کا یہ اعلان احتجاجیوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ ان کا تو یہ مطالبہ ہے کہ ایک تو صدر مبارک فوری طور پر کرسی صدارت چھوڑ دیں اور ان پر مقدمہ بھی چلایا جائے۔ ان کے اس اعلان سے احتجاجیوں کا ان کے خلاف جوش اور بڑھ گیا جو مصر کی عصری تاریخ میں اب تک کے سب سے بڑی بغاوت میں بڑی شدت سے آگ بھڑکانے کا سبب بن جائے گا۔اس وقت پوری عرب دنیا احتجاجی نعروں سے سے گونج رہی ہے اور تیونیشیا امریکی حمایت والی حکومتوں کے خلاف مظاہروں کا پہلا شکار بنا ہے۔ یمن میں بغاوت کی چنگاری سلگ رہی ہے اور اردن نے بھی پیشگی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ عوامی احتجاج سے پہے ہی وہاں ایک نئی حکومت قائم ہو جائے جو سیاسی اصلاحات کرے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment