Wednesday, February 23, 2011

مبارک کی بے دخلی امریکہ کی حکمت عملی


سید منصور آغا
گزشتہ ہفتہ” مصری عوام سنہرے مستقبل کی تلاش میں“ عنوان سے پیش تجزیہ میں بعض آثار و قرائن کی بنیاد پر ہم نے عرض کیا تھا:”یہ تاثر بڑا ہی مبالغہ آمیزہے کہ مسٹر مبارک عوامی احتجاج کے پیش نظرراضی خوشی اقتدار چھوڑدینے پر آمادہ ہوگئے۔“اور یہ کہ استعفے سے ایک دن قبل ٹی وہی پر مسٹر مبارک کے خطاب کے بعد” پس پردہ کیا ہوا اور کس طرح چند گھنٹے کے اندرمبارک کوقاہرہ چھوڑ کر چلے جانے کےلئے مجبور کیا گیا،یہ ابھی صیغہ راز میںہے۔“اب بعض رپورٹوں سے یہ تصدیق ہوگئی کہ مسٹر مبارک درحقیقت خود اقتدار سے دستبردار نہیں ہوئے بلکہ امریکا کی ہدایت پر فوجی افسران نے ان کوچلتا کیا ۔بقول غالب:
ہیں کواکب کچھ نظرآتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
ممتاز امریکی تجزیہ نگارڈاکٹر ویبس ٹر ترپلے(Webster G. Tarpley, Ph.D.) نے ۶۲ صفحات پر مشتمل اپنی طویل رپورٹ میں ان اسباب کا احاطہ کیا ہے اور ان اقدامات کے عینی یا واقعاتی شواہد کا جائزہ لیا ہے جن کی بدولت مسٹر حسنی مبارک بڑے بے آبرو ہوکر قصر صدارت سے بے دخل کئے گئے۔ ڈاکٹر ترپلے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مصر میں عوامی انقلاب نام کی کوئی چیز رونما نہیںہوئی بلکہ پس پردہ سی آئی اے کی ہدایت پر فوجی افسران نے حسنی مبارک کو چلتا کیا۔اس کاروائی کو سی این این اور سی بی ایس خبررساں ایجنسیوں نے soft coup یعنی”خوش اسلوب فوجی بغاوت“کا نام دیا ہے۔ڈاکٹر ترپلے کے تجزیہ سے اس نظریہ کی بھی تائید ہوتی ہے کہ عوامی مظاہروں سے لیکر مبارک کی قصر صدارت سے رخصتی تک کی ساری منصوبہ بندی سی آئی اے کی تھی۔ سی آئی اے نے مسٹر مبارک کے خلاف عوامی غم و غصہ کا بھر پور فائدہ اٹھایا جو حالیہ عالمی اقتصادی بحران کی وجہ سے او ربھی شدید ہوگیا تھااور بظاہر پڑوسی ملک تیونیشیامیں برپا شورش کی وجہ سے ابل پڑا تھا۔شواہد بتاتے ہیں کہ اس مصیبت کی اس گھڑی میں امریکا نے اپنے دیرینہ حلیف حسنی مبارک کی معاونت کے بجائے ان کی پیٹھ میںچھرا گھونپا ۔ امریکا اور برطانیہ نے جمہوریت کی بحالی کی جو تائید کی وہ بھی سراسر منافقت ہے۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ جب تک وہ امریکاکے اشاروں پر چلتے رہے، اس کو کبھی مصری عوام کے انسانی اور جمہوری حقوق کاخیال نہیںآیا۔تین دہائیوں کے بعد اب جمہوریت کی دہائی دینا عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔
مبارک کے خلاف امریکا کی اس ناراضگی کے متعدد اسباب ہیں، جن پرعموماً نظر نہیںجاتی۔ان سے بیزاری کی سب سے اہم وجہ تو یہ ہے وہ بلا شرکت غیرے تیس سال سے برسراقتدارتھے چنانچہ ان کا قد بہت بڑھ گیا تھا اور ان کو یہ گمان ہوگیا تھاکہ وہ امریکی سامراج کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ خود اپنے بل بوتے پر برسراقتدار ہیں اور امریکی پالیسیوں کے علی الرغم آزادانہ فیصلے لے سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے کچھ ایسے فیصلے لئے ، ایسے بیانات دئے جو امریکی پالیسیوں سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے عالم اسلام، خصوصا ایران، شام، حزب اللہ کے تعلق سے امریکی پالیسیوں سے اتفاق نہیںکیا جس کی وجہ سے اس خطے پر گرفت مضبوط کرنے امریکی و برطانوی عزائم کی راہ میں خلل پڑا۔بھلا کوئی سامراجی نظام ایسے ’باغی تیور‘کیسے برداشت کرسکتا ہے؟
امریکا اور مبارک میں اختلافات کا پہلا نمایاں واقعہ صدر صدام کی پھانسی کا ہے۔حسنی مبارک کورات کے وقت جب مطلع کیا گیا کہ صدر بش کے اشارے پر ان کو کل صبح عین عیدالاضحٰ کے دن پھانسی دی جارہی ہے تو انہوں نے عوامی ناراضگی کے اندیشہ کے پیش نظر اس پرسخت احتجاج کیا اور بعدمیں پھانسی کی ویڈیو ٹی وی پردکھائے جانے پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ یہ ایک طویل کہانی ہے۔ ناراضگی کا دوسراسبب لبنان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کے تعلق سے ہے۔ لبنان کے شیعہ اور سنیوں کے درمیان ایک مفاہمت کے بعد جب فرقہ ورانہ کشیدگی فرو ہوگئی، امن و امان قائم ہوگیا اور ایک مشترکہ حکومت بن گئی تب بھی امریکا کی کوشس یہ رہی کہ یو این او کا قائم کردہ تفتیشی کمیشن ، جو سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کی ’جانچ ‘ کررہا ہے ، کسی طرح حزب اللہ کو موردِ الزام ٹھہرادے تاکہ یہ اتحاد ، جس کی تائید ایران، شام اور سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کررہے ہیں ،پارہ پارہ ہو جائے اور امریکا اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرسکے۔
حسنی مبارک کا امریکاکی نظروں میںسب سنگین جرم یہ ہے انہوں نے اسرائیل کو ساتھ لےکر اس خطے کے مسلم ممالک کا ایک ایسا گٹھ جوڑقائم کرنے کی امریکی تجویز سے اتفاق نہیں کیا ،جس کے تحت یہ سارے ممالک امریکا کی نیوکلیائی چھتری میں آجاتے تاکہ ایران اور اس کے حلیف ممالک شام اور لبنان کو زیر کیا جاسکے۔ امریکا کہتا تو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ ایران کی وجہ سے ہی حل نہیںہورہا ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اس کی نظر میں مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے اسرائیل اپنی جارحیت سے باز آجائے اور فلسطینی مقبوضہ علاقے خالی کردے، بلکہ یہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ کی مخالفت کرنے والا اس خطے میں کوئی نہ رہے۔اس کو سب سے زیادہ ایران(اور اب کسی حد تک ترکی) کھٹکتا ہے جو ان عناصر کامددگار و محور بنا ہوا ہے اور عراق سمیت اس پورے خطے میںامریکی ۔اسرائیلی۔برطانوی استبداد کی راہ میں مزاحم ہے۔ اس کے جواب میں مبارک کی دلیل یہ تھی کہ مشرق وسطٰی کے پیچیدہ مسئلہ کوایران کوساتھ لے کرہی حل کیا جاسکتا ہے۔انہوںنے لبنان اور ایران کے سلسلہ میںان خیالات کا اعادہ برسرعام ایک انٹرویو میں۵ اکتوبر ۰۱۰۲ءکوکیا جس کو العربیہ نے شائع کیا۔مسٹر مبارک نے کہا: "Tehran can become part of a solution to the Middle East crises, rather than being one of the causes of problems."
یو این او سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرانے کے بعد جبکہ امریکا اس مہم میں لگاہے کہ ساری دنیا ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی رابطے منقطع کرلے،مسٹر مبارک نے گزشتہ اکتوبر میں ہی قاہرہ سے تہران کے درمیان گزشتہ 30برس سے منقطع ہوائی سروس کو پھر سے بحال کرنے کا معاہدہ کرلیا۔ جس سے امریکا اوربرطانیہ سخت خفا ہیں۔امریکا کی استعماریت پسند ذہنیت کےلئے یہ کچوکے کم نہیںتھے جس کے بعد اس نے مبارک کو چلتا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
امریکی وزارت خارجہ اور سی آئی اے نے ابتدا میں تو یہ کوشش کی کہ مبارک کو سمجھا بجھا کر چلتا کردیا جائے اس لئے اس نے ان افسران کو مہرہ بنایا جو کٹھ پتلی کی طرح اس کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔اس نے ان کو یہ ہدایت دی کہ مبارک کو اقتدار سے دستبردار ہونے پر آمادہ کیا جائے اور اقتدار کی باگ ڈور وہ خود سنبھال لیں۔اس کےلئے عمر سلیمان کو امریکا طلب کیا گیا اور ساری حکمت عملی تیار کی گئی۔ فوجی افسران میںابتدا میں اس انتہائی اقدام پر اتفاق رائے نہیںتھا، لیکن بعد میں وہ سی آئی اے کے حکم کے سامنے لاچار ہوگئے۔ چنانچہ جمعرات ۹ فروری کو فوجی افسران نے مبارک کویہ پیغام دیدیا کہ وہ فوری طور سے مستعفی ہوجائیں اوراس کا اعلان ٹی وی پر خود کردیں۔مبارک بادل نا خواستہ اس پر آمادہ ہوگئے اور یہ اطلاع امریکی آقاﺅں کو دیدی گئی۔چنانچہ جمعرات کی صبح سی آئی اے کے ڈائرکٹر لیو ¿ن پانے ٹا (Leon Panetta) نے امریکی کانگریس کو مطلع کیا کہ اس بات کا ’قوی امکان ‘ہے مبارک آج رات سے پہلے رخصت ہوجائیں گے۔ صدر بارک اوبامہ نے اسی شام کہا: ’ہم تاریخ بنتے دیکھ رہے ہیں۔‘ مگر اس وقت امریکی حکام تلملا اٹھے جب صدر مبارک نے ٹی وی پر اپنے استعفے کے اعلان کے بجائے ایک دوسری ہی تقریر کرڈالی۔
اسی دن قاہرہ سے ایک رپورٹ میںبتایاگیاکہ جس وقت مسٹر مبارک اپنی تقریر ریکارڈ کرارہے تھے ان کے بڑے بیٹے جمال مبارک نے مداخلت کی اور حسنی مبارک سے ایک دوسری ہی تقریر ریکارڈ کرادی، جس میں ایمرجنسی ہٹانے، جمہوری نظام بحال کرنے ، آئین میں اصلاحات کرنے اور ستمبر تک اقتدارچھوڑ دینے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔مگر ساتھ ہی امریکا کا نام لئے بغیر یہ بھی کہہ دیا کہ وہ کسی بیرونی دباﺅ میں استعفا نہیں دیں گے۔ ان کے اس عندیہ سے امریکی حکمرانوں کو سخت سبکی محسوس ہوئی ۔چنانچہ سی آئی کے طرف سے جمعرات ۹ فروری اور جمعہ ۰ا فروری کی درمیانی شب میں فوجی افسران کویہ پیغام دیا گیا کہ بس بہت ہوچکا۔ اب اگر مبارک خود نہیں جاتے تو زبردستی ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دیدی گئی حکم عدولی کی صورت میں سخت نتائج برامد ہونگے۔ اسی دن مریکی بحریہ کا طاقتور جہاز USS Kearsarge نہر سویز کے دہانے پر واقع بندرگاہ اسماعیلیہ پر لنگر انداز ہوگیا اور پانچواںبحری بیڑا مصری ساحل کی طرف بڑھنے لگا۔جس سے امریکہ کے فوجی عزائم ظاہر ہوگئے۔ایسے واقعاتی شواہد موجود ہیں کہ امریکا نے آبی گذرگاہ نہر سویز کی سیکیورٹی کا بہانا بناکر اس کا کنٹرول فوری طور سے اپنے ہاتھ میں لینے کا اشارہ بھی دیدیا تھا ۔ اس بات کا بھی خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اسرائیل اپنی تیل پائپ لائن کی سیکیورٹی اور خلیج عقابہ تک اپنی رسائی کو یقینی بنانے کےلئے کچھ مصری خطے کو اپنے کنٹرول میں لے لے۔چنانچہ اسرائیلی بحریہ کے جہاز سینائی کے ساحل کی طرف بڑھ گئے۔ ان اقدامات کی بدولت صورت حال انتہائی سنگین ہوگئی جس کے پیش نظر صدر مبارک اور مصری افسران کے سامنے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیںرہ گیاتھا کہ وہ سی ائی اے کے احکامات پر عمل کریں۔
یہ تاثر قطعاً بے اصل ہے کہ عوامی مظاہروں کے دباﺅ میں مبارک مستعفی ہوئے۔ یہ مظاہرین ہرگزایسے منظم اور بارسوخ نہیں تھے کہ نظام حکومت پر قابض ہوجاتے۔حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کی آڑ میں سی آئی نے مصری فوج اور انتظامیہ پر اتنا شدید دباﺅڈالا کہ مسٹر مبارک پولس ، فوج اورافسر شاہی کی پشت پناہی سے محروم ہوگئے۔ مبارک کے خلاف اس تحریک کو شروع سے ہی امریکا اور برطانیہ کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ اسرائیل نے ضرورابتداءمیں کچھ اندیشوں کا اظہار کیا تھا، لیکن وہ جلد ہی مخالفت سے دستبردار ہوگیا ۔ اس کو یہ بات سمجھا دی گئی کہ مبارک کی جگہ جن مہروں کو فٹ کیا جارہا ہے ان سے اسرائیلی۔ امریکی۔ برطانوی سامراجی عزائم کو کسی گزند کا اندیشہ نہیں ہے۔ امریکی حکام کا واضح نظریہ ہے کہ مبارک کے ہٹ جانے سے مصری نظام حکومت نہیں بدل جائے گا بلکہ اسی افسر شاہی کے ہاتھوں میں رہے گاجو 1952 کی فوجی بغاوت کے بعد سے حکومت چلا رہی ہے ۔اب چاہے کوئی عمر سلیمان صدر نشین ہوں، چاہے حسین طنطاوی آئیں، یا سمیع عنان ہوں یا کوئی امر موسیٰ،ایمن النور، اسامہ الغزالی الحرب یا البرداعی آئیں ، وہ سب مبارک کی بہ نسبت کمزور حیثیت کے ہونگے ۔ان میںکئی تو سی آئی اے کے ایسے خاص ہیں جومصر کا نظم نسق مصریوں کے لئے نہیں بلکہ امریکا کےلئے چلاتے رہیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ مبارک جمہوری اور انسانی حقوق کی سخت پامالی کے سخت مرتکب تھے جس سے عوام سخت آزار میں مبتلا تھے۔لیکن انسانی حقوق کےلئے سب سے زیادہ شور مچانے والے امریکا نے گزشتہ30 سال کے دوران عالم عرب میں اپنے سب سے قریبی حلیف کواس طرف متوجہ کرانے کی کبھی ضرورت نہیںسمجھی۔ کیوں؟ اس لئے کہ بوقت ضرورت مبارک کے خلاف شورش برپا کرانے کےلئے ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔مبارک نہ صرف مصری عوام میںبلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میںایک نا پسندیدہ شخصیت بن گئے تھے اسی لئے ان کی برطرفی پر کہیں ماتم نہیں ہوا، کسی آنکھ سے آنسو نہیں گرا۔ ہرطرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مگر اس کا المناک پہلو یہ ہے کہ اس سے خطے میں برطانوی اور امریکی استعماریت اور مضبوط ہوئی ہے۔
(email: syyedagha@hotmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے )

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment