Monday, February 07, 2011

مذاکرات پراپوزیشن کے اظہار عدم اطمینان سے مبارک مزید پریشانیوں میں گھرے


قاہرہ:مصر کے صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے لیے سب سےبڑا خطرہ حزب اختلاف نے یہ کہہ کر حسنی مبارک پر فوری مستعفی ہو جانے کا دباﺅ اور بھی بڑھا دیا کہ مذاکرات میں دی گئی مراعات ناکافی ہیں۔حکومت مخالفین کے مظاہرے کے 14ویں روز بھی میدان التحریر مظاہرین سے کھچا کھچ بھرا ہے ۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن گروپوں کے ساتھ مذاکرات مسٹر مبارک کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ان کی مہم کو راستہ سے نہیںبھٹکا سکتی۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا کہ مصر میں ہمیشہ کے لیے ایک تغیر آگیا ہے اور عوامی حکومت کا قیام عمل میں آنا چاہئے لیکن حسنی مبارک کو فوری طور پر مستعفی ہو جانے کو نہیں کہا۔یہ معلوم کیے جانے پر کہ مسٹر مبارک کب مستعفی ہوں گے، مسٹر اوبامہ نے کہا کہ صرف وہی جانتے ہیں وہ اس سلسلہ میں کیا کریں گے ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ مصر میں اب پرانی صورت حال واپس نہیں آسکتی۔ مبارک دوبارہ الیکشن نہیں لڑیں گے اور اس سال ان کی صدارتی عہدے کی میعاد ختم ہو جائے گی۔نائب صدر عمر سلیمان نے اپوزیشن گروپوں کے ساتھ اتوار کو مذاکرات کیے لیکن فوری طور پر نہ توکو ئی نتیجہ بر آمد ہوا اور نہ ہی تعطل ٹوٹا۔ اس بات چیت میں اخوان المسمون کے لیڈران بھی موجود تھے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment