Thursday, February 03, 2011

لندن میں پہلی ایشیائی خاتون پولس افسر کی یادگار قائم کی جانی چاہئے


Karpal Kaur Sandhu (far right of middle row) among the 
Metropolitan Police's intake in 1971لندن : برطانیہ کی پہلی ایشیائی خاتون پولس افسر کی38ویں برسی کے موقع پر ایک یادگار قائم کرنے کے لئے ہر طرف سے مطالبے شروع ہو گئے ہیں۔ کرپال کور سندھو نے 40سال قبل یکم فروری کو ہی لندن کی میٹروپولیٹن پولس میں شمولیت اختیار کی تھی۔1971میں کرپال کور کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا لیکن دوسال بعد ہی دو بچوں کی ماںکی اس کامیاب زندگی کا اس وقت بڑے دلخراش انداز میں خاتمہ بھی ہو گیا جب ان کے شوہر نے ان کے کیریر پر اعتراضکرتے اور یہ کہتے ہوئے ان کا بے رحمی سے قتل کر دیا کہ یہ ملازمت ایشیائی لوگوں اور عورتوں کے لائق نہیں ہے۔بعد میں ان کے شوہر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ان کے حامیوں نے کہا کہ ان کی یاد اس لئے منائی جانی چاہئے کیونکہ وہ ایک محب وطن تھیں اور اپنی اس ملازمت کی خاطر ہی انہیں اپنی جان قربان کرنی پڑی۔ میٹروپولیٹن پولس سکھ ایسوسی ایشن کے ڈسٹرکٹ سارجنٹ گورپال ویردی نے کہا کہ وہ ڈ یوٹی انجام دیتے ہوئے ختم ہوئی ہیں اور انہیں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ ڈیوٹی کر کے اپنے گھر واپس جا رہی تھیں ۔سارجنٹ گورپال نے کہا کہ انہوں نے ان کی سوانح حیات پر بہت محنت کی ہے اور جب انہوں نے کرپال کور کے حالات زندگی پر ریسرچ کی تو ان کی بے مثال کامیابیاں دیکھ اور سن کر بھونچکا رہ گیا۔ وہ نہ صرف لندن میں بلکہ پوری دنیا میں پہلی ایشیائی خاتون پولس افسر تھیںکیونکہ کرن بیدی بھی ، جو ہندوستان میںپہلی خاتون افسر بنی تھیں ،1972میں بنی تھیں۔ یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ دنیا میں پہلی اور دوسری خاتون پولس افسران نہ صرف ہندوستانی تھیں بلکہ سکھ بھی تھیں۔گورپال نے کہا کہ دنیا بھر میں ایشیائی خواتینکا سر بلند کرنے اور ایشیائی برادری کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرنے والی اس خاتون پولس افسر کو یہ ملازمت کرنے میں کافی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ تو ان کے شوہر اس کے لئے راضی تھے اور نہ ہی ان کے گھر والے یہ پسند کرتے تھے کہ وہ پولس افسر بنیں۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment