Wednesday, February 02, 2011

جھارکھنڈ کے ایک گاﺅں کے نوجوان کو دیکھتے ہی ہر سانپ مر جاتا ہے


رانچی: سانپ بچھو اور چوہے کھانے کے بارے میں تو سب نے ہی بہت کچھ سنا ہوگا لیکن سانپ کسی انسان کو دیکھتے ہی مر جائے یا اسکا سایہ دیکھتے ہی ڈر کر کہیں دبک جائے ایساواقعہ نہین سنا ہوگا لیکن اپنی نوعیت کی یہ حیرت انگیز داستان چائباسہ کے نووا منڈی کے ایک ا یسے نوجوان کی ہے جو چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے یا چھپکلیاں اور کاکروچ جیسی معمولی چیزیں نہیں کھاتا بلکہ بچھو اور سانپ اس کی مرغوب غذا ہیں اور سانپ کو کاٹ لیتا ہے تو سانپ مر جاتا ہے۔اس نوجوان کا نام بامیا بوبونگا ہے وہ ابھی صرف 16برس کا ہی ہے ۔ ایک بار اس نے ایک سانپ کو دوڑا کر زندہ پکڑ لیا اور قبل اس کے کہ سانپ اسے کاٹتا اس نے سانپ کو کاٹ لیا اور سانپ نے فوراً ہی دم توڑ دیا۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس نوجوان کے پورے جسم میں زہر پھیل گیا ہے اور یہ کسی کو اگر تھپڑ بھی مار دیتا ہے یا اس کے ناخن سے کسی کو خراش آجاتی ہے تو وہ بیہوش ہو جاتا ہے۔ سانپوں کا یہ عالم ہے کہ وہ اس کا سایہ دیکھتے ہی جہاں ہوتے ہیں وہیں دبک جاتے ہیں اور اس وقت تک وہاں رکا رہتا ہے جب تک کہ یہ نوجوان اس سے دور نہ چلا جائے۔سنپیرے کی تو بین پر سانپ رقص کرتے ہیں لیکن یہ لڑکا بغیر بین کے ہی سانپوں کو اپنے اشاروں پر نچاتاہے اور سانپ اس کے کہنے پر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ایک بار اس نوجوان نے سانپ پر نظریں گاڑیں تو سانپ وہیں مر گیا۔یہ لڑکا نووا منڈی سے تقریباً 35کلو میٹر دور واقع گاﺅں بڑا پاسویا میں رہتا ہے۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ جب یہ لڑکا تین سال کا تھا تب ہی اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا اور چھ سال بعد باپ بھی مر گیا۔ جس کے بعد یہ اکیلا سا ہو گیا یہ چرواہا بن گیا۔ اسی دوران جنگل میں رہنے اور غربت کی وجہ سے وہ سانپ چوہے سمیت کئی جنگلی جانور کھانے لگا جس کی وجہ سے وہ زہریلا ہو گیا۔

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment