Wednesday, February 23, 2011

نیٹ بال میچ کے دوران جھارکھنڈ کے کھلاڑیوں کے حملے میں آندھرا کے 5کھلاڑی زخمی


دھنباد : قومی کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی نے میدان پر جھگڑا کرنے والے دو کھلاڑیوں پرکھیلوں میں مزید حصہ لینے کی پابندی عائد کر دی اور انہیں کھیلوں سے باہر نکال دیا گیا۔آئی ایس ایم کا لوور گراﺅنڈ اس وقت میدان جنگ میں بدل گیا جب جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش کے کھلاڑی نیٹ بال میچ کے دوران ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ زبانی تکرار ہاتھا پائی اور لات گھونسے میں تبدیل ہو گئی۔اس لڑائی میں آندھرا پردیش کے 5کھلاڑی زخمی ہو گئے جنہیںعلاج کے لیے دھنباد کے سینٹرل اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔تین کھلاڑیوں کو سر اور یگر دو کے سینے میں چوٹیں لگی ہیں۔اس جھگڑے کے بعد تین رکنی جیوری نے جھارکھنڈ ٹیم کے سشیل کمار اور شمشاد کو کھیلوں سے باہر کر دیا اور جھارکھنڈ ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ تحریری طور پر معافی مانگے۔ منگل کو یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش کے درمیان نیٹ بال میچ کھیلا جا رہا تھا اور میچ ختم ہونے میں صر ف 48سیکنڈ ہی باقی تھے کہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے دست بہ گریباں ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔آندھرا پردیش کے کھلاڑیوں کا الزام ہے کہ میچ کے آخری وقت میں انہیں پنالٹی شوٹ کا موقع ملا تھا اور جب ان کا ایک کھلاڑی بال کو شوٹ کرنے پہنچا تو جھارکھنڈ کے ایک کھلاڑی نے گیند باہر پھینک دی جب وہ بال لینے کے لیے سائڈ لائن پر گیا تو وہاں بنچ پر بیٹھے جھارکھنڈ کے کھلاڑیوں نے اس پر حملہ کر دیا۔یہ حملہ ٹی کین اور واٹر کین سے کیے گئے۔جھارکھنڈ کے کھلاڑی انتہائی جارحانہ رخ اختیار کیے ہوئے تھے اور وہ آدھے گھنٹے تک آندھرا کے کھلاڑیوں پر میدان کے اندر اور باہر سے حملہ کرتے رہے جبکہ آندھرا کے کھلاڑیوں کو اپنا دفاع کرتے اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دیکھا گیا جس کی وجہ سے پورا میدان باکسنگ رنگ محسوس ہو رہا تھا۔ اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی سنجے رنجن اور دھنباد تھانہ انچارج پرمیشور شکلا بھی پہنچ گئے اور کھلاڑیوں پر قابو پایا۔اس میں آندھرا کے جو کھلاڑی زخمی ہوئے ہیں ان کے نام جیسی کرن ریڈی،اشوک کمار، شیو رام کرشن، سری نواسن اور وکرم دتیہ ہیں۔آندھرا پردیش ٹیم کے کپتان نے جھارکھنڈ کے کھلاڑیوں کی اس وحشیانہ حرکت پر اظہار تاسف کرتے ہوئے کہا کہ میزبان کی حیثیت سے جھارکھنڈ کے کھلاڑیوں کو ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے تھا اور ہماری مہمان نوازی کرنی چاہئے تھی لیکن اس کے بر عکس انہوں نے ہماری تذلیل و توہین کی اور ہمارے کچھ ساتھی کھلاڑیوں کو کی ہوسپیلیٹی کرنے کے بجائے انکو ہوسپیٹلائز کرا دیا۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest Urdu News, Urdu News


0 comments:

Post a Comment