Tuesday, January 25, 2011

Lebanon: Tensions mount as Hezbollah promotes PM candidate


بیروت: لبنان میں منگل کو بھی ملک بھر میں زبردست مظاہرے ہوتے رہے اور ملک کا سیاسی مستقبل ابھی تک غیر یقینی بنا ہوا ہے۔ویسے بھی منگل کا دن تاریخی دن بننے کے قریب ہے کیونکہ اس روز وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں حزب اللہ کی کامیابی یقینی ہو گئی ہےاور اگر حزب اللہ جیت گئی تو حزب اللہ کے سب سے بڑے حریف قائم مقام وزیر اعظم سعد حریری کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ تقریباً 2000مظاہرین شمالی لبنان کے طرابلس میں النور چوراہےپرجمع ہو گئے مظاہرین نے ہلبہ اور العبدیہ میں سڑک کے کنارے ٹائر جلائے۔ملک کے اگلے وزیر اعظم کے لئے حزب اللہ ملک کے دولتمند ترین بیوپاری نجیب میکاتی کے لئے اب تک 59ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے جبکہ حریری صرف 49اراکین کی ہی حمایت حاصل رک سکے ہیں۔یہ اندازےلگائے جارہے ہیں کہ نجیب کے وزیر اعظم بننے کے لئے باقی ضروری ووٹ بھی شیعہ گروپ حزب اللہ جیت لے گا۔ حکومت سازی کے لئے پارلیمنٹ کی 128میں سے 65سیٹیں جیتنی ضروری ہیں اور حزباللہ اس نشانے سے صرف 6سیتیں دور ہے۔پیر کو شمالی لبنان میں اس وقت تشدد بھڑک اٹھا تھا جب سنیوں نے میکاتی کی امیدواری کے خلاف ٹائر نذر آتش کیے۔پیر کو ہی سنی اراکین پارلیماں نے یہ کہتے ہوئے پورے لبنان میں یوم اشتعال و غصہ منانے کا فیصلہکر لیا تھا کہ حزب اللہ وزیر اعظم کے دفتر کو ایران کے کنٹرول میںدینے کی کوشش کر رہی ہے۔حریری کے کیمپ کے ایک ممبرپارلیمنٹ مصطفیٰ الوش نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ جو بھی حزب اللہ کے امیدوار کو وزیر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کرے گا اسے غدار وطن سمجھا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سنی لبنان میں ایرانی سرپرستی نہیں چاپتے۔دریں اثنا حریری نے دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول امیدوار کے حق میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہو جانے سے انکار کر دیا ہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment