Thursday, January 13, 2011

پاکستان میں ایک امام اور اس کے بیٹے کو توہین رسالت کے جرم میں عمر قید

لاہور: ایک پاکستانی عدالت نے قرآنی آیات کے ایک پوسٹر کو ہٹانے پر ایک مسجد کے امام اور اس کے بیٹے کو اہانت رسولﷺ کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ سزاپنجاب کے ڈیرہ غازی خان کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جسٹس راﺅ ایوب نے 45سالہ محمد شفیع اور اس کے 20سالہ بیٹے محمد اسلم کو سنائی۔ شفیع جو کہ،یہاں سے 400کلو میٹر کی دوری پر واقع مظفر گڑھ کی ایک مسجد کا امام ہے ،اور اس کے بیٹےکو ان کی پنساری کی دوکان کے باہر ایک مذہبی اجتماع سے متعلق چسپاں پوسٹر ہٹانے کے الزام میں گذشتہ سال اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس پوسٹر پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ میلاد النبی کے موقع پر ہونے والے اس اجتماع کے منتظمین نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کہ ان دونوں نے اس پوسٹر کو پھاڑ کر اسے پیروں تلے روندا ہے۔ان دونوں کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر جج ایوب نے دو الگ سزائیں 5سال اور 10سال قید کی سنا دیں۔ان دونوں پر 2لاکھ 10ہزار فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان دونوں کے وکیل نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔بتایا جاتا ہے کہ ان دونوں کودیوبندی اور بریلوی فرقوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے توہین رسالت کا مجرم قرار دیا گیا۔شفیع کے ایک بریلوی مسلک کے حاجی پھول محمد سے اختلافات تھے اور اسی نے شفیع کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment