Friday, January 21, 2011

زندگی میں پہلی مرتبہ کے تمباکو نوشی کے چند کش ہی جینیاتی نقصانات کے لئے کافی


نسیم احمد
ایک نئی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیئے جانے والے سگریٹ کے چند اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق یہی جینیاتی نقصانات زندگی میں پہلی مرتبہ کی جانے والی تمباکو نوشی کے دوران شروع کے چند کشوں کے بعد بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے انسانی جسم پر اثرات اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ انہیں دوران خون میں انجیکشن کے ذریعے ایک دم داخل کیے گئے کسی بھی مضر صحت مادے کی منتقلی کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔دنیا بھر میں ہر روز قریب تین ہزار انسان پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد اموات کی براہ راست وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔محققین کے مطابق سگریٹ کا دھواں بڑھتی ہوئی عمر اور غیر معمولی شور سے بھی کہیں زیادہ انسانوں کی قوت سماعت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ماہرین نے پہلے سے ہی اس بارے میں انتباہ کر رکھا تھا کہ تمباکو نوشوں کے بہرہ پن میں مبتلا ہونے کے خطرات کافی زیادہ ہوتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کا دھواں دوران خون میں انتشار پھیلاتے ہوئے کانوں کے اندر خون کی باریک اور چھوٹی چھوٹی شریانوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے کانوں میں آکسیجن ٹھیک طرح سے نہیں پہنچ پاتی۔ہر 100 اموات میں سے ایک کی وجہ ’پیسیو اسموکنگ‘ بنتی ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والے ایسے افراد تک بھی تمباکو کا دھواں موت کا سبب بن کر پہنچتا ہے، جو سگریٹ پینے والوں کے نزدیک رہتے ہیںاور جنہیں سیکنڈ ہینڈ یا پیسئیو اسموکر یاغیر فعال تمباکو نوش بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پیش کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال چھ لاکھ غیر فعال تمباکو نوشوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تمباکو نوشی کے عالمی اثرات پر کروائی جانے والی پہلی تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ تمباکو کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیابھر میں غیر فعال تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے سبب ایک لاکھ 65 ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی کل تعداد کے دو تہائی حصے کا تعلق افریقہ اور ایشیا سے ہے۔دنیا بھر میں سالانہ51لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہوتے ہیں جب کہ603000افراد سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کا شکار ہوتے ہیں۔چین اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ سگریٹ بنانے اور استعمال کرنے والا ملک ہے اور سب سے زیادہ تمباکو نوشی سے اموات بھی چین میں ہو رہی ہیں۔چین میں تمباکو نوشی سے ہلاکتوں کی تعداد2030تک سالانہ تین گنا ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ چین میں تین سو ملین افراد سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔کیا سگریٹ نوشی صحت کے لئے فائدہ مند بھی ہو سکتی ہے؟ اور کیا کوئی ملک ایسا بھی ہے جہاں لوگوں کو تمباکو نوشی کی ترغیب دی جاتی ہے؟ جی ہاں، بنگلہ دیش میں جگہ جگہ ایسے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں، جوخاص طور پر خواتین کو سگریٹ نوشی کی دعوت دیتے ہیں۔ ’تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے ‘ ویسے تو شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ یہی اشتہار دیکھنے اور سننے میں آتا ہے۔ سینما ہو، ٹی وی یا پھر سگریٹ کے پیکٹوں پر وزارت صحت کے حکم پر لکھی گئی عبارت، ہر جگہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔تاہم بنگلہ دیش میں سگریٹ کے بہت سے اشتہارات گمراہ کرنے والے نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جگہ جگہ ایسے اشتہارات نظر آتے ہیں، جن میں تمباکو نوشی کرنے والوں سے یہ کہا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اسمارٹ، طاقتور اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور ’ سگریٹ بچے کی پیدائش کے عمل کو سہل تر بنا دیتا ہے یا حاملہ خواتین کے لئے سگریٹ نوشی نہایت فائدہ مند ہے کیونکہ جب ایک عورت سگریٹ پیتی ہے تو ا ±س کے شکم میں موجود بچے کا سائز زیادہ نہیں بڑھتا اور اس طرح بچے کی ولادت کا عمل کم تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا دوسرے معاشروں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ یہی رجحان بہت سے دیگر ترقی پذیر معاشروں میں بھی پایا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق بنگلہ دیش میں بالغ خواتین کا 28 فیصد حصہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے جبکہ تمباکو نوشی کرنے والے مردوں اور خواتین دونوں کی شرح 43 فیصد ہے۔ہندستان میں بھی، جہاں بہت بڑی تعداد میں مرد شہری تمباکو نوشی کرتے ہیں، وہیں خواتین میں بھی سگریٹ نوشی کا رجحان حیران کن حد تک زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہندستان اب تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ہندستانی اداکار شاہ رخ خان کو برلن میں خاص طور پر سگریٹ نوشی کی اجازت دی گئی تھی لیکن بس ان کے کمرے کی حدتک۔شاہ ر خ خان گزشتہ دنوں دو مہینے جرمنی ،برلن میں اپنی فلم ڈان ٹو کی شوٹنگ کی تھی اور یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ وہ کسی چمنی کی طرح ہر وقت سگریٹ کا دھواں اڑاتے رہتے ہیں اور جرمنی میں2008سے پبلک مقامات خاص طور پر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں تمباکو نوشی پر پابندی عائد ہے لیکن ہوٹل کی انتظامیہ نے شاہ رخ کی عادت کے پیش نظر انہیں ان کے کمرے سے متصل ٹیرس پر سگریٹ پینے کی اجازت دے دی تھی۔ جرمنی میں شاہ رخ کے مداح بڑی تعداد میں ہیں اور برلن کے مئیر خاص طور پر ان سے ملنے بھی آئے تھے۔ملک میں عوام کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے اچھی طرح آگاہ کرنے کے لئے حکومت نے بڑے پیمانے پر ایک طویل مہم بھی شروع کر رکھی ہے، لیکن اس میں خواتین کو تمباکو نوشی سے پرہیز کا قائل کرنے کے لئے کوئی خصوصی توجہ نہیں دی گئی۔بل گیٹس کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ ان کے اثاثوں کی مالیت کا اندازاً 75 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ کچھ سالوں قبل تک بل گیٹس کی مقبولیت، شہرت اور شناخت محض ان کی دولت تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی مزید عنایت کی۔ انہیں مالی اثاثوں اور مادی دولت کے ساتھ ساتھ دل کی دولت سے بھی نواز دیا۔ بل گیٹس نے اپنی دولت کا بیشتر حصہ فلاحی کاموں کے لئے وقف کردیا۔ بل گیٹس کی فلاحی تنظیم سماجی کاموں کے لئے اب تک 29ارب ڈالر سے زائد کے عطیات دے چکی ہے۔بل گیٹس نے دنیا بھر کے ارب پتی افراد سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کے ساتھ فلاحی کاموں میں شریک ہوجائیں۔ ان کی اپیل کا خاطر خواہ اثر ہوا اور امریکہ اور ہندستان کے دوسرے امیر ترین افراد اپنی دولت بل گیٹس کے فلاحی ادارے کے لئے وقف کررہے ہیں۔ اس مہم میں اب تک دنیا بھر کے 57 ارب پتی افراد شمولیت اختیار کرچکے ہیں جن میں ہندستان کے بھی کچھ ارب پتی شامل ہیں۔بھوٹان د ±نیا کا پہلا ملک ہے، جہاں تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگائی گئی۔ اس حوالے سے قانون سازی 2004 میں کی گئی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے حکام کو اس قانون کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رواں برس کے آغاز سے بھوٹان حکام نے اس قانون کے نفاذ کے لیے زیادہ سخت رویہ اپنایا، جس کے تحت سگریٹ نوشی کرنے والوں اور تمباکو کی مصنوعات کی فروخت میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز نے نئے سال کے موقع پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند افراد کو اس توقع کے ساتھ کہ اس سے لوگوں کو یہ عادت چھوڑنے میں مدد ملے گی، ایک ہفتہ کے لئے نکوٹین پیچز مفت تقسیم کئے تھے ۔ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہاں افراد کو ایک ”کیوٹ کٹ“دی گئی جس میں ایک ہفتہ کے لئے نکوٹین پیچز کے کوپن بھی تھے جنہیں کسی بھی فارمیسی سے حاصل کیا جا سکتا تھا اور اس میں ایسا آڈیو مواد بھی تھاجس کے ذریعے لوگوں کو سگریٹ نوشی کے نقصان اور اسے چھوڑنے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے ۔ان نکوٹین پیچز کے استعمال سے سگریٹ چھوڑنے کے امکانات دوگنا ہو جاتے ہیں۔ہندستان میں حکومت کو ان ہی طرز پر فلاحی اداروں کے ساتھ مل کر تمباکو نوشی کے خلاف موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔(یو ٹی این)
(مضمون نگار سے 09873709977یا naseem987@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)

0 comments:

Post a Comment