Tuesday, January 25, 2011

تیونیشیا کی طرز پر مصر میں بھی حکومت مخالف مظاہرے


قاہرہ: تیونیشیا میں عوامی مظاہروں کی کامیابی سے ترغیب پا کر مصرمیں بھی حکومت مخالفمظاہروں نے دستک دینی شروع کر دی ہے اور گذشتہ دس روز سے دبے پاﺅں آگے بڑھنے کے بعد آخرکا ر منگل کو فیس بک گروپ میں ملک کے90ہزار سے زائد افراد نے حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کرنے کا اعلان کر دیااور اپنی فیس بک پر اسکندریہ کے ایک سماجی کارکن کے نام پر، جسے پولس نے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا، اپنا نام رکھتے ہوئے خود کو ” ہم سب خالد سعید ہیں“بتایا اور عزم کیا کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوں گے۔اگرچہ اپوزیشن نے منگل کو حکومت مخالف مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن حکومت نے اس مجوزہ مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم سیکورٹی ایجنسیاں ممکنہ مظاہروں سے نمٹنے کے لئے کیل کانٹے سے لیس ہو رہی ہیں۔مصر کے وزیر داخلہ نے انتباہ دیا ہے کہسیکورٹی ایجنسیاں ان مظاہروں میں شرکت کرنے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کی اہل ہیں۔ انہوں نے گلی کوچوں میں نوجوانوں کے مظاہروں کو بھی غیر موثر بتایا۔ حکومت مخالف مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مشاہرے کی کم سے کم حد میں اضافہ کیا جائے،وزیر داخلہ کو برطرف کیا جائے،صدارتی مدت دو میعادی کی جائے اور مروجہ ایمرجنسی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ان ایمرجنسی قوانین سے عوام اور ملک پر پولس کاکنٹرول ہے۔پولس کرپشن کو بے نقاب کرنے اور عوام کو اس سے آگاہ کرنے کے لئے احتجاجیوں نے مظاہرے کے لئے 25جنوری کی تاریخ اس لئے چنی ہے کیونکہ یہ یوم پولس ہے اور اس روز قومی تعطیل ہوتی ہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment