Friday, January 21, 2011

آدرش ہاﺅسنگ کیس میں سی بی آئی کو ہائی کورٹ کی پھٹکار


Adarsh: Bombay high court asks CBI to decide on FIR in 2 weeksممبئی: ممبئی ہائی کورٹ نے آدرش ہاﺅسنگ گھپلے میں ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر برتنے پر سی بی آئی کو پھٹکارااور حکم دیا کہ وہ دو ہفتہ کے اندر قطعی فیصلہ کر لے۔ جبکہ دوسری جانب حکومت مہاراشٹر مرکزی تفتیشی بیورو سے جانچ کرانے کے حق میں نہیں ہے۔ عدالت عالیہ نے سی بی آئی کے علاقائی جوائنٹ ڈائریکٹر کو بھی سمن جاری کرنے کی ہدایت کی کہ دو ہفتہ بعد جب معاملے کی سماعت ہو تو وہ عدالت میں حاضر ہوں۔آدرش کیس میں ایک عذرداری کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس بی ایچ مارلا پلے اور جسٹس یو ڈی سالوی نے کہا کہ اس کیس کی انکوائری کرتے ہوئے سی بی آئی کو دو مہینے ہو گئے ہیںپھر بھی اب تک اس نے کیوں ایف آئی آر درج نہیں کی۔بنچ نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آخر ایف آئی آر میں دیر کیوں ہوئی۔ جبکہ میڈیا نے عملاً سی بی آئی کی ایف آئی آر کا مسودہ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ملزموں کے ناموں کا انکشاف بھی کر دیا ہے۔ریاستی محکمہ داخلہ نے عدالت میں داخل کردہ اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ آدرش کیس میں تمام معاملات ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور اس سے مرکزی حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہے۔حلف نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی اور ایجنسی کو یا سی بی آئی کو اس معاملے کی تفتیش سونپنا ایک انتہائی اقدام ہے ۔اور نہ اہی ایسے کوئی دائرہ اختیار کی بنیاد ہے کہ کیس سی بی آئی کو سونپا جائے۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment