Wednesday, January 12, 2011

چھٹی کلاس کا بچہ سائنسداں بن گیا

STUDENT OF CLASS 6th BECOME SCIENTISTرانچی : یہاں کے پہاڑی ٹولہ کی جھونپڑ پٹی میں رہنے والے ایک غریب و نادار کنبہ کے ایک کمسن بچہ کے پاس ایسی صلاحیت ہے جو کسی بھی والدین کا سر فخر سے بلند کر سکتی ہے۔اس انتہائی باصلاحیت بچے ساجد کے والد کلیم انصاری جو پیشہ سے ٹیلر ہیں ، بتاتے ہیں کہ ساجد ہمیشہ ہی کچھ نیا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اسی کوشش میں اس نے رائس فلٹر مشین بنا ڈالی۔ اس مشین سے گندے چاول صاف ہو سکتے ہیں۔ اس چھوٹی سے مشین سے ایک گھنٹے میں تین کلو چاول صاف کئے جا سکتے ہیں ۔ یہ معلوم کئے جانے پر کہ اس کو ایسا کرنے کی کس سے تحریک ملی ساجد نے بتایا کہ آٹا چکی کو دیکھ کر یہ خیال اس کے دل میں آیا۔ حالانکہ یہ آغاز ہے لیکن وہ اس سے بھی بہتر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ساجد ابھی گرو نانک اسکول رانچی میں چھٹی جماعت کا طالبعلم ہے۔ یہاں اس کی پڑھائی سابقگورنر سید سبط رضی کی ہدایت پر مفت ہو رہی ہے۔ اس مشین کو بنانے میں ساجد نے 220واٹ کے دو ٹرانسفارمر، آئی کارڈ لٹکانے والا فیتہ، دو سی ڈی کیسٹ، دو بڑی بوتل کے ڈھکن، لکڑی کا ڈبہ، چاول کی دھول کو اڑانے کے لئے بہت چھوٹا پنکھا، لوہے کے دو چوڑے چھڑ کو نٹ بولٹ سے جوڑ کر ٹائٹ کیا جس میں پلی سیٹ کر دیا جس سے مشین گھومتی ہے۔ یہ مشین بجلی سے چلتی ہے۔

0 comments:

Post a Comment