Friday, January 21, 2011

ہم سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں شامل ہو جاﺅ


ڈاکٹر شبیر چودھری
یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت جوں کی توں حالت نہیں چاہتی۔وہ زبردستی کی اس تقسیم، انتہا پسندی،تشدد،منافرت اور خوف و دہشت اور اشتعال انگیز ماحول کا خاتمہ چاہتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کی پریشانیاں اور تکالیف دور ہوں۔
کچھ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آزادی دینے سے کشمیریوں کی تکلیفیں دور ہو سکتی ہیں تو انہیں آزادی دے دی جائے۔لیکن یہ ان لوگوں کا نظریہ نہیں ہے جو دیگر پالیسیوں کی طرح کشمیر پالیسی بھی چلاتے ہیں۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستانی حکومتیں ان کی ایجنسیاں اور مذہبی رہنما جموں و کشمیر کے لوگوں سے آئے روز کہتے رہتے ہیں کہ اس مسئلہ کا واحد حل یہی ہے کہ وہ ان کے ملک پاکستان میں شامل ہو جائیں ورنہ پھر یہ صعوبتیں برداشت کرتے رہیں کیونکہ یہ حالات برقرار رہیں گے ۔
جموں و کشمیر کے عوام مختلف سروے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے لیکن پاکستان کے کان پر جوں نہیں رینگتی اور لیپا پوتی کر کے نئی بوتل میں پرانی شراب کی طرح وہی گھسی پٹی پالیسیاں جاری رکھی جاتیہیں۔کشمیری جدو جہد نہ تو مذہبی جد و جہد ہے اور نہ ہی الحاق کے لئےکی جا رہی ہے۔اس کے باوجود آیئے دیکھیں کہ پاکستان ہم جموں و کشمیر کے باسیوں کو کیا پیش کش کرنا چاہتا ہے۔ذیل میں ”پاک انٹرنیشنل فرینڈ شپ فورم“ نام کی ایک پاکستانی تھنک ٹینک کے چیف کو آرڈینیٹر کے آرٹیکل کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔اس کے پاکستانی حکومت کے ساتھ بھی گہرے روابط ہیں۔ وہ لکھتا ہے:
”ملک کے باقی حصے میں بھی امن و قانون کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے، دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر دندناتے پھر رہے ہیں اور عوام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف خوف و دہشت اور عدم تحفظ کا دور دورہ ہے۔ با اثر شخصیات اور حکومتی افسران میٹروپولیٹن شہروں میں رہتے ہیں انہوں نے اپنی رہائش گاہوں کے اطراف قلعے تعمیر کر رکھے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پھر قبائلی دور میں واپس چلا گیا ہے، جہاں ہر خاندان کو اپنی حفاظت کے لئے ہتھیار بند رہنا پڑتا تھا۔بم دھماکے، خود کش حملے ، ٹارگٹ کلنگ، فدیہ وصولنے کے لئے اغواکرنے کی وارداتوں، لوٹ پاٹ،آتشزنی اور غارت گری ہر طرف ہو رہی ہے۔“
کیا اس حوالے کی روشنی میں کوئی بھی خود کو اس معاشرہ کا ایک حصہ کہلانا پسند کرے گا۔میں جانتا ہوں کہ اس ملک میں رہنے والے بیشتر لوگ ملک سے چلے جانا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں اپنا یا اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔بہر کیف اگر آپ کشمیری ہیں اور اب بھی سوچ رہے ہیں کہ پاکستان میں شامل ہوجان چاہئے تو اپنی رائے دینے سے پہلے درج ذیل کوپڑھ لیں۔
”بجلی کی قلت،گیس کی لوڈ شیدنگ، قیمتوں میں اضافہ، بے روزگاری اور عوامی احتجاج و مظاہرے روز مرہ کا معمول ہیں۔شائد ہی کوئی دن ایسا جاتا ہے جب گھریلو صارفین کو گیس سپلائی بند کر دینے اورکئی کئی گھنٹے تک غیر اعلان شدہ بجلی لوڈ شیدنگ کے خلاف عوام کے مظاہرے تشدد میں نہ بدل جائیں۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ہیں کہ ہر گھنٹےبڑھ جاتی ہیں اور حکومت منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں اور غیر قانونی طور پر قیمتیں بڑھانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی اور نہ اس کا ان پر کوئی کنٹرول ہے۔اس وقت پاکستان میں ہر شخص روزانہبڑھتی قیمتوں، افراط زر، نئے نئے ٹیکسوں، گیس نہیں ، چینی نہیں، پیٹرول نہیں، بجلی نہیں ، آٹا نہیں ، پیاز نہیں، نا قابل گرفت عدلیہ کرپشن، نا انصافی، بڑھتی بے روزگاری، بجلی شرح میں بے پناہ اضافہ، فیکٹریوں میں تالہ بندی یا دیوالیہ کا شکار ہونے، بلا سبب ہلاکتوں، عوام کی محافظ پولس کے ہاتھوں روزانہ بے قصور عوام کی خونریزی، ملاﺅں کے کہنے پر عمل نہ کرنے والوں کو قتل کردینے پر اکسانے،بلیک میلنگ، اور خود اپنی مدد کرنے والا میڈیا جسے صرف اپنی ریٹنگ بڑھانا مقصودہے، زخٰرہ اندوزی، لوٹ پاٹ، کالا بازاری،اور سب سے اہم یہ کہ امن و قانون کی مکمل بد حالی سے دوچار ہے۔
پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز(پی آئی پی ایس) کی رپورٹ کے مطابق 2010میں پاکستان میں 3393دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 10003افراد ہلاک اور 10283دیگر زخمی ہوئے۔
2011میں پاکستان میں صورت حال اور بھی بد تر ہونی ہے ہم صرف دعا کر سکتے ہیںلیکن میں تمام متعلقہ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان حالات میں دعا بھی قبول نہیں ہوتی ملک کو چلانے والے افراد کو ہی امن و یکجہتی قائم کرنے کے لئے مناسب پالیسیاں بنانی ہوں گی۔(یو ٹی این)
Read In English

0 comments:

Post a Comment