Wednesday, January 12, 2011

معاملہ اب رائے عامہ کی عدالت میں

ایم جے اکبر
ایک ایسے موڑ پر جب زخم رسنے شروع ہو جاتے ہیں تو کسی بھی گھپلے کی کہانی بھی ایک منفرد انداز اور عجیب و غریب موڑ اختیار کر لیتی ہے اور ہر ایک کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس پوری داستان میں تبدیلی ایک ایسے وکیل کی حرکت ہے جو خود ہی جج بھی بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
کسی بھی وکیل کی ٹریننگ موکل سے اس کی وفاداری سے مشروط ہو تی ہے۔ مگر ہر جج کو اپنے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے پیسے کے بجائے قانون کا غلام اور وفادار ہو نا چاہئے۔ جمعہ کو کپل سبل نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کے پیش رو ، اے راجا پارلیمنٹ کو مفلوج اور ملک کو دہلادینے والے ٹیلی کوم گھپلے میں قطعی اور غیر متنازع طور پر بے قصور اور معصوم ہیں۔ اسے ستم ظریفی ہی کہیں گے کہ دہلی میں ہی اسی روز ایک دوسرے جج نے کھلی عدالت میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ راجا کے خلاف شکا یت داخل کرنے کے لئے و افرشو اہد موجود ہیں۔ سی بی آئی کے خصوصی جج پر دیپ چڈھا نے سبرامنیم سوامی کی راجا کے خلاف مقدمہ کی درخواست کو داخل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا:” میں اس شکایت اور اس کے ساتھ لگائے گئے کا غدات کی جانچ پڑتال کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ شکایت قابل سماعت ہے اور اس پر مقدمے کی کارروائی شروع کی جائے گی ‘ ‘ ملک کی اعلیٰ اور خصوصی عدالتیں بھی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی اس فیصلے پر پہنچی ہیں کہ اس مقدمے کی کارروائی کو جاری رکھے جانے کا جواز موجود ہے۔ سبل کو جوکہ جدید گاندھیائی فلسفہ ر کھتے ہیں ، نہ تو برائی نظر آتی ہے نہ سنائی دیتی ہے اور نہ ہی ان کے منھ سے کوئی برا کلمہ نکل سکتا ہے شرط صرف اتنی ہے کہ وہ بات اپوزیشن کی جانب سے نہ آئی ہوکیونکہ اگر اس بات کا تعلق حزب اختلاف سے ہوگا تو نوبت گالی گلوچ تک پہنچ سکتی ہے۔
لائسنسوں کو پہلے آو۔ پہلے پاو کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے پہلے سے کئے گئے انتظام کے سلسلے میں سبل محض اتنی ہی رعایت دے پائے ہیں کہ ہو سکتا ہے اس سلسلے میںطریقہ کار میں غلطی ہو گئی ہو۔ یہ رشوت کی پردہ پوشی کی بہترین تشریح ہے جسے حوالوں کی کتابوں کی زینت بننا چاہئے۔اگر کپل سبل پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ رہے ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنا استعفیٰ بھیج دینا چاہئے تاکہ راجا کو ان کے عہدے پر بحال کیا جاسکے۔ اگر راجا معصوم تھے تو انہیں کابینہ سے اتنی بڑی سیاسی قیمت ، ذاتی تکلیف اور کروناندھی خاندان کی دل شکنی کر کے ، کیوں نکالا گیا؟ وزیر اعظم ڈاکٹر منمو ہن سنگھ کو اپنی خودداری کا جنازہ نکالتے ہوئے کم از کم راجا سے معافی تو مانگ لینی ہی چاہئے۔ در حقیقت تور اجا کو توہین آمیز تحریر کے لئے ڈاکٹر سنگھ اور مسز سونیا گاندھی کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہئے۔ کیونکہ کپل سبل کی تشریح کے مطابق راجا کو ان کی وزارت سے محروم کرنےکے فیصلے سے قومی سطح پر راجا کی رسوائی اور تذلیل ہوئی ہے۔ راڈیا کے ٹیپ جس وقت ٹی وی چینلوں کی نشریات اور اخبارات کے صفحات کی زینت بنے ہوئے تھے ، شاید اس وقت کپل سبل یا توچھٹی منا رہے ہوں گے یا عوامی خدمات کے اپنے فرائض منصبی کے تحت اس درجہ مصروف رہے ہوں گے کہ انہیں اس کا بالکل پتہ ہی نہیں چل سکا کہ میڈیا کیا کہہ رہا ہے۔ یا شاید ایک اچھے وکیل کی طرح انہیں ان حقائق سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ہو گی جن کی حیثیت استغاثہ کےلئے بامعنی دلائل کی تھی۔
کیونکہ سبل کو اپنے استعفے کے بعد بھی ملازمت کی ضرورت پڑے گی تو ایسی صورت میں وہ بآسانی وزارت داخلہ کی خالی آسامی کو پر کر سکتے ہیں پی چدمبرم کو اب بہر صورت استعفیٰ دینا ہوگا۔ کیونکہ چدمبرم نے وزیر اعظم کو ایک مراسلہ بھی بھیجا تھا جس میں راجا پر ” طریق کار کی غلطیوں “ کا نہیں بلکہ غلط کاموں کا الزام لگایا گیا تھا۔ چدمبرم نے موجودہ حالات اور واقعات سے شدید طور پر پر متاثر ہو کر ہی شاید یہ مراسلہ وزیر اعظم کو بھیجا ہوگا ۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ چدمبرم کو قوانین کی معلومات نہ رہی ہوں، کیونکہ وہ سبل سے اگر بہتر نہیں تو ان کے ہم پلہ وکیل ضرور ہیں۔ اس سے ایک نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چدمبرم نے جان بوجھ کر ایک عوامی اہمیت کے معاملے میں اور ممکنہ طور پر جانبدارانہ وجوہات کی بنا پر وزیر اعظم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس لئے انہیں اس معاملے میں جواب دہ اور ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ در حقیقت فی الحال دہلی میں اس طرح کی افواہیں تیزی سے گشت کر رہی ہیں کہ چدمبرم کا بینہ کی آئندہ ردوبدل میں اپنی وزارت گنواسکتے ہیں۔ یہ بھی قرین از قیاس ہی ہے کہ راجدھانی کے سیاسی منظرنامے پر گشت کرنے والی یہ افواہیں حقیقت کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔
کوئی نہ کوئی کارروائی اس تکلیف دہ کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ونودرائے کے خلاف بھی کرنی ہوگی ، کیونکہ وہ ایسے حالات میں بھی خاموشی اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں جب کہ سبل جیسی خود ساختہ اہم شخصیات راجا کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں سبل کی جانب سے مداخلت کئے جانے کے بعد بھی وہ برابر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سرکار ی خزانے کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور پرائیوٹ سیکٹر کی ٹیلی کام کمپنیوں کو اسی تناسب سے اس کے فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عدلیہ بھی اتنے اعلیٰ اور طاقتور وزرا کے دباو میں آنے سے پوری طرح انکار کر رہی ہے۔ یقینا چڈھا جیسے ججوں کا تبادلہ انڈمان اور نیکوبار جزائر کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو ضرور موجود ہوگا۔
سبل نے ڈی ایم کے ذریعہ بیحد رعایتی شرحوں پر اسپیکٹرم کی فروخت کی بنا پر کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان پیدا شدہ فاصلے کو پوری طرح ختم کر دیا ہے۔ چند وجوہات کی بنا پر ایک عام تاثر عوام کے درمیان یہ پیدا ہو گیا تھا کہ مسز سونیا گاندھی اور وزیر اعظم دونوں ہی پارٹیوں کے بیچ پیدا شدہ اس دوری کو بڑھانے کے خواہاں ہیں، لیکن اب معلوم ہو رہا ہے کہ یہ عوامی تاثر سراسر غلط تھا۔ یہ ناممکن ہے کہ سبل نے مذکورہ بیان وزیر اعظم اور اپنی پارٹی کی صدر دونوں کی مرضی کے بغیر ہی دے دیا ہو۔ اب ڈی ایم کے اورکانگریس اتحاد تامل ناڈو اسمبلی کے آئندہ انتخابات کی جانب شانہ بشانہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اور اسپیکٹرم گھوٹالے کو ایک شرمناک کارروائی ماننے کی بجائے قابل فخر قدم قرار دے سکتے ہیں۔ اس کا بھی اب کوئی امکان نہیں ہے کہ حکومت بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن سے کوئی سمجھوتہ کر لے گی۔ اگر راجا نے کچھ بھی غلط کیا ہی نہیں ہے تو پھر چھان بین کس بات کی؟
جب کسی اچھے وکیل کے پاس کوئی خراب مقدمہ آجاتا ہے تو اسکی چھٹی حس اسے بیان بدلنے کے لئے اشارہ کر دیتی ہے۔ سیاسی وکلا سمجھتے ہیں کہ وہ رائے عامہ کی عدالت کو بھی اپنی موافقت میں کر سکتے ہیں، تاہم شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی بھی نتیجے یا فیصلے پر پہنچنے سے پہلے عوام اس معاملے کے محض چند حقائق پر ہی نہیں ، بلکہ پورے شواہد پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں اور عوام بہترین جج بھی ہوتے ہیں۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment