Friday, January 07, 2011

اندرا کے قاتلوں کو فوری پھانسی ، مگر افضل۔اجمل کا معاملہ کھٹائی میں

نئی دہلی : آج 6جنوری ہے اور1989میں آج ہی کے دن ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قاتلوں کو پھانسی دی گئی تھی۔ان کے خلاف 4سال تک مقدمہ چلا اور 16دسمبر 1988کو سپریم کورٹ نے ستونت سنگھ اور کیہر سنگھ کو سزائے موت دینے کافیصلہ سنایا تھا۔اور فیصلہ سنانے کے چند دنوں بعد ہی انہیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا ۔ کیہر سنگھ اور ستونت سنگھ کی جانب سے بے انت سنگھ کی بیوہ نے رحم کی اپیل کی عرضی اس وقت کے صدر جمہوریہ آر وینکٹ رمن کے پاس بھیجی گئی تھی جنہوں نے اس پر فوری فیصلہ صادر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھاجبکہ اس اپیل کا نمبر بہت پیچھے تھا اس وقت راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے اور ان کی کابینہ نے بھی رحم کی درخواست خارج کر دی تھی۔جبکہ دوسری جانب پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گورو کو 2002میں دہلی کی ایک عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کی 29اکتوبر 2003کو دہلی ہائی کورٹ نے توثیق کر دی تھی اور پھر 2005میں 4اگست کو سپریم کورٹ نے بھی اس کی اپیل خارج کر کے اس کی سزائے موت برقرار رکھی اس کے بعد افضل نے صدر جمہوریہ سے رحم کی اپیل کی ۔ عدالت کے حکم کے مطابق افضل گورو کو 20اکتوبر 2006کو پھانسی دی جانی تھی لیکن افضل کی بیوی کی جانب سے معافی کی فریاد کرنے پر اس پر عمل آوری روک دی گئی تھی اور اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کی در خواست کا نمبر چونکہ 28واں ہے اس لئے اس وجہ سے اور کئی تکنیکی خامیاں ہونے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہو رہی ہے ۔اسی طرح 26نومبر 2008کو ممبئی حملوں کے مجرم اجمل عامر قصاب کو بھی سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا اور معاملہ صرف فیصلہ سنائے جانے کی حد تک ہی محدود ہے۔قصاب کو تو چار الگ الگ معاملوں میں 6مئی 2010کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اس پر 86الزامات عائد کئے گئے تھے۔ قصاب نے ممبئی ہائی کورٹ میں اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت جاری ہے

0 comments:

Post a Comment