Tuesday, January 25, 2011

ضرورت ہے: نغمہ سرا صفت کے حامل باز کی


ایم جے اکبر
پاکستان کے خارجہ سیکریٹری سلمان بشیر اس وقت دہلی میں زباں زد عام ہو گئے جب انہوں نے اپنی ہندوستانی ہم منصب نروپما راوکے ساتھ مذاکرات کے آخری دور کے بعدتضحیک آمیز انداز میں ہونٹ سکوڑے اور ممبئی پر دہشت گردانہ حملوں کی سازش رچنے والی تنظیم لشکر طیبہ کے خلاف ہندوستان کے ذریعہ بہت احتیاط سے تیار کئے گئے کیس کو محض تصوراتی تحریر یا تخئیل کہہ کر مسترد کر دیا۔ اگر میڈیا کی خبروں پر جائیں تو وہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سلمان بشیر ہی ہندوستان میں پاکستان کے اگلے ہائی کمشنر ہوں گے۔ نمعلوم یہ خبر اچھی ہے یا بری؟
عام طور پر باز یا عقاب امن کی اس سراب جیسی نظر آنے والی فصل بونے یا اس کی آبپاشی کرنے کے لئے قائم کیے گئے سفارتخانوں کے بہترین مکین نہیں ہوتے لیکن چونکہ ہند پاک کے درمیان تعلقات کی صورت حال غیر معتدل ہے اس لئے اس تقرر کی خبر کو محسوس کرنا فطری بات ہے۔ اس بات کے بھی اشارے مل رہے ہیں کہ ہند پاک تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی ہے کیونکہ دونوں کو ہی یہ احساس ہو چلا ہے کہ وہ ان اسکولی بچوں کی طرح برتاﺅ کر رہے ہیں جن کے کنچے یا گٹیاں کھو گئی ہوں۔ یہ آرٹیکل لکھے جاتے وقت پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری تعلقات خوشگوار کرنے کی زوردار مہم چلانے کے مشن پر دہلی آئے ہوئے ہیں اور اپنے دیرینہ دوست اور امن کے داعی منی شنکر ایر کے مہمان ہیں۔ قصوری اپنے اس دعویٰ کا اعادہ کر رہے ہیں کہ اگر مارچ 2007میں وکیلوں کی تحریک نے پرویز مشرف کو اقتدار سے بے دخل نہ کرایا ہوتا تو وہ طویل بات چیت اور مسئلہ کشمیرکا قطعی فیصلہ کرنے کے لئے کوئی معاہدہ کرنے کے لئے ڈاکٹر منمو ہن سنگھ کو اسلام آباد مدعو کرتے اور 15سال بعد اس معاہدہ کاجائزہ لیا جاتا۔ عام طور پر تمام وزراءخارجہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بہت پر امید نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی خود اعتمادی سے صرف نظر نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی اسے مسترد کرنا چاہئے ۔
ایک مدھم سے آواز اٹھی تھی کہ تھمپو میں بات چیت کا اگلا دور بڑا کارآمد ثابت ہو سکتا ہے اور کئی راستے کھل سکتے ہیں۔۔ ہندوستان کے داخلہ سیکریٹری جی کے پلے نے گذشتہ ہفتہ دہلی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں تعینات نیم فوجی فورسز کی تعداد میں 25فیصدی تخفیف کی جائے گی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگلے 24گھنٹوں کے اندر ہی انہوں نے پینترا بدل لیا اور کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے لئے کچھ نہیں کیا اور سچائی تو یہ ہے کہ وہ حافظ سعید اور اس کے جیسے لوگوں سے ملا ہوا ہے لیکن نیم براعظمی بیانوں میں اس طرح کا رقص جانا پہچانا ہے۔ ایک ٹانگ جبراً دوسری سے الگ دھن پر الگ سمت کی طرف جاتی ہے ۔ خورشید قصوری کی خود اعتمادی کی حقیقت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ ایک فوجی حکومت کے وزیر خارجہ تھے۔ یہ تو واضح ہے کہ فوج ’ بازوں‘ کی محافظ ہوگی اور اگر یہ مشرف قصوری کے کشمیر پلان کو جنرل ہیڈ کواٹر کی منظوری مل گئی ہوتی تو ایک موقع تھا کم سے کم تاریخ میں یہ چل جاتا ۔ آخر کار وقت تھیوری کا دشمن ہے۔ قصوری کے سیاسی کیرئر کے عروج سے لیکر پاکستان اب بدل چکا ہے۔ اس کے دہشت گردوں نے اپنے طریقہ کار بدل دئیے ہیں حال ہی میں سلمان تاثیر کے قتل سے ناموں کا ذکر کرنا ضروری نہیں لیکن پاکستان کے اعتدال پسند یقینی طور پر پچھلے قدموں پر ہیں کیونکہ پاکستان کا سیکورٹی ڈھانچہ اب تحفظ کی گارنٹی نہیں لے سکتا ۔ کیا شانتی کے بیوپاری پاکستان کے سیاستدانوں کی کلاس کے اس بااثر حصہ کو ختم کر پائیں گے کہ اسے اخری فتح سے پہلے کشمیر سے ’جہاد‘ ختم کر دینا چاہئے تب سری نگر میں پاکستان جھنڈا لہرانے کا ان کا ’ خیالی منصوبہ‘ سچ ہو جائے گا؟ ہند پاک تعلقات بند آنکھوں سے نہیں بنائے جا سکتے اور یہاں تک کہ ایک ہلکی سی جھلک بھی اس کی دخل انداز طاقت کو خلاصہ کر دےگی۔ سرکاریں بات نہیں کرسکتیں جب تک ان کا سیاسی طبقہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ہندوستانی سفیر جس کی تقرری دہلی یا اسلام آباد میں کی گئی ہو ، کے اس پاس یونانی دیوتا، جینس کے اوصاف ہو نے چاہئیں جس کے دو چہرے دو الگ الگ سمتوں میں دیکھ سکتے تھے۔ وہ اپنے ملک کو یقین دلانے میں اہل ہوںکہ وہ اپنے لوگوں کو ’ سستے میں نہیں بیچ رہا‘ ۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment