Friday, January 21, 2011

نوکرشاہوں کا کام چلتا رہتا ہے


ایم جے اکبر
نوکر شاہی کا انتہائی عروج برطانوی راج تھا۔ برطانوی سپاہیوں کی فوجوں نے ایک دن میں پلاسی سے سرنگا پٹنم اور الوائی جنگ جیتی ہوگی لیکن یہ1857سے پہلے کے مصنف اور 1857کے بعد کی انڈین سول سروس کے صاحب ہیں جنہوں نے ایک دن کو دو صدیوں میں بدل دیا۔کوئی فوج اپنی فتوحات کو محفوظ نہیں رکھ سکتی یہ ذمہ داری ملک کی نوکر شاہی پر عائد ہوتی ہے۔
ہرسامراج نوکرشاہی کے لئے ایک جاگیر اور بندہ بے دام بن جاتا ہے۔ مصنف یا کاتب اتنے طاقتور تھے کہ انہوں نے اس ڈر سے پرنٹنگ نامی نئی تکنیک کی زبردست مخالفت کی کہ کہیں اس سے ان کی روزی روٹی نہ چھن جائے۔ اس کی قیمت بالآخرسلطنت عثمانیہ کو چکانی پڑی۔ جو پرنٹنگ پریس کی طرف سے لائے گئے اطلاعاتی انقلاب کا فائدہ نہیں اٹھاسکا جبکہ قریب ہی میں واقع یورپ نے مختلف نچلے طبقوںتک ہر قسم کی معلومات بہم پہنچانے کےلئے پرنٹنگ کی تکنک کا استعمال کرنا شروع کر دیا جس سے آخر کار صنعتی انقلاب کی شروعات ہوئی اور 19ویں صدی تک یورپ دنیا کا مالک بن گیا۔ نوکرشاہی طاقت کے ایک منبع اور پلانوں کو لاگو کرنے کے لئے کھلی آزادی کو ترجیح دیتی ہے۔ جب برٹش راج کو کوئی للکار نہیں سکتا تھا تب نوکر شاہوں نے وائسرائے کی کونسل تشکیل دے دی تھی۔ جمہوریت نے اس کےلئے ایک کنٹرول بھی بنایا ۔ پالیسی منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں تھی۔لیکن نوکرشاہی اسی پالیسی یا پلان کو لاگو کرنے میں تاخیر کر کے یا غلطی کر کے انتقام لے سکتا ہے۔ لیکن وہ اپنے وزیر کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا ۔ نہ ہی وزیر ایک تانا شاہ کی طرح سلوک کر سکتا ہے۔ یہاں ہمیشہ اندورنی یا بیرونی جوابدہی ہوتی ہے۔کوئی بھی پالیسی ایک وزیر سے کابینہ تک جاتی ہے اور کیبنٹ ایک اچھے گلو کار کے بجائے ایک بے سرا گانے والوں کے گروپ کی طرح ہوتی ہے ۔ ہندوستانی ریاست کشمیر کو درپیش کئی حساس مسائل میں سے ایک میں اہم اور بڑی پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے لئے ایک بیوروکریٹ کو نامزد کیا گیا۔ جمعہ کوہوم سیکریٹری جی کے پلئی نے ایک سمینار جس میں میڈیا کو بھی مدعو کیا گیا تھا میں کہا کہ سرکار ایک برس میں وادی سے 25فیصد نیم فوجی فورسز کو ہٹانے ، ملٹیپل اینٹری، کشمیریوں کےلئے پاکستان مقبوضہ کشمیر ، کشمیر جا نے کے لئے چھ مہینے کے ٹریول پرمٹ ( ہندوستانی پاسپورٹ نہیں لیکن خصوصی طور پر ڈیزائن پر مٹ جس میں قومیت کے سوال کو خالی رکھا گیا ہے کولاگو کرنے کا پلان بنایا ہے۔ اس سے کشمیر میں رہنے والے کسی بھی شخص کو پاکستان جانے کی چھوٹ ہو جائے گی اور آگے کہیں بھی جانے پر پاکستان کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ فوجی سربراہ جنرل بی کے سنگھ جو کشمیر میں سیکورٹی کے لئے خاطور پر ذمہ دار ہیں کو ایسے پلانوں کو لاگو کرنے کے بارے میں جانکاری نہیں دی گئی۔ عام طور پر ایسی اہم تبدیلیوں کا اعلان وزیر داخلہ پی چدمبرم یا پھر وزیر اعظم منمو ہن سنگھ کی طرف سے کیا جاتا ہے۔
انہو ںنے ایسا کیوں نہیں کیا کیا اس کی صر ف ایک ہی وجہ ہے۔ وہ عوام کے رد عمل اور سیاسی رائے کا جائزہ لینے کے لئے پلئی کا استعمال کر رہے ہیں ۔ ایک سوال جو یقینی طور پر جنرل سنگھ کے دماغ میں بھی کلبلا رہا ہوگا کہ دہشت گردی کے دو خطرے جن میں سے زیادہ تر پاکستان اسپا نسرڈ ہیں اور پاکستانی فوج کے عناصر کی طرف سے گھس پیٹھ کی کوششیں 25فیصد کم کر دی گئی ہیں اس سے ایک اور سوال اٹھتا ہے کہ ہمارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے کہ ہندوستان کے خلاف پاکستان کی خفیہ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے؟ ممبئی پر دہشت گردانہ حملے تک ہندوستان پاکستان کے درمیان تعلقات میں سدھار ہو رہا تھا۔ دہلی کا مطالبہ ہے کہ اس مذموم حرکت کے قصور وار لوگوں کوجو لاہور میں آزادانہ دندناتے پھر رہے ہیں، کو سزا دی جائے ۔
پاکستان کا ایسا خیال نہیں ہے اس نے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان کے تئیں نئی پالیسی امکانی امن تصور کو دھیان میں رکھ کر لاگو کی جا رہی ہے یا پھر کرپشن اور مہنگائی سے لوگوں کا دھیان ہٹانے کے لئے اگر ایک طرف ممبئی یا کر گل ہوتا ہے تو یو پی اے کو اس کی بہت مہنگی قیمت چکانی پڑے گی۔ نوکر شاہوں کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا جب کہ سیاست دانوں کا کام ختم ہو جاتا ہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment