Friday, January 21, 2011

پاکستان ہی دہشت گردی کا اصل مرکز: ہندوستان


SM Krishnaمیلبورن : پاکستان کو دہشت گردی کے مرکز سے تعبیر کرتے ہوئے ہندوستان نے ممبئی حملوں کے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان میں اتنی ہمت اورصلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ان حملوں کے ملزموں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔یہاں ہندوستانی برادری سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا کہ پاکستان کو ہماری کچھ تشویشات کو محسوس کرنا چاہئے۔مسٹر کرشنا نے کہا کہ صرف دہشت گردی ہی نہیں بلکہ دہشت پسندوں اور دہشت گردی سے پاکستان کیسے نمٹتا ہے بھی ہماری تشویشوں میں سے ایک ہے۔مسٹر کرشنا کا یہ رد عمل اس وقت سامنے آیا جب ان سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بارے میں معلوم کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ کشمیر سمیتمعرض التوا میں پڑے تمام معاملات حل کرنے کے لئے تعمیری اور بار آور مذاکرات کے حق میں ہے۔پاکستان مقیم دہشت گردوں کے ممبئی حملوں سے متعلق مسٹر کرشنا نے کہا کہ پاکستان ان حملوں کی سازش رچنے والوں کو سزا دینے کے قابل ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پاکستان گئے تھے تو انہوں نےبڑے جوشیلے انداز میں یہ بات محمود قریشی سے کہی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب پاکستان ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزا دے دے گا تبھی ہندوستانی عوام کو ٹھنڈک ہو گی اور انہیں دلاسا ملے گا۔پاکستان نے لشکر طیبہ کے سربراہ ذکی الرحمٰن لکھوی سمیت سات ملزموں کو ممبئی حملوں کے سلسلہ میں گرفتار کیا ہے لیکن مقدمہ میں غیر ضروری تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔مسٹر کرشنا نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان پاکستان کو ایک مستحکم اور جمہوری ملک دیکھنا چاہتا ہے۔مسٹر کرشنا نے آسٹریلیائی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن سے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا اصل مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ناٹو قیادت والی فوج کوباہمی دلچسپی کے امور میں پاکستان کو ایک حلیف کے طور پر شامل کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا چاہئے۔اس سے قبل ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیائی حکومت نے ہندوستانی طلبا کے تحفظ اور سلامتی کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ اور ان اقدامات کے مثبت نتائج بر آمد ہو رہے ہیں۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment