Thursday, January 27, 2011

کیا سوامی اسیمانند کی جان بھی خطرے میں تھی؟


سہیل انجم
جیسے جیسے قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیاں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں سازش کی گرہیں کھولتی جا رہی ہیں، رفتہ رفتہ دو سوالات اٹھنے لگے ہیں۔پہلا یہ کہ کیا شر پسندوں کا وہ ٹولہ جو گجرات کے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث رہا ہے، ان واقعات میں بھی شامل ہے؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا آر ایس ایس کے سابق پرچارک اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کے اصل سوتر دھار سنیل جوشی کو جس طرح قتل کر دیا گیا ، سوامی اسیمانند بھی قتل کر دیے جاتے؟ یہ سوالات خود بخود نہیں اٹھ رہے ہیں بلکہ جو ثبوت اور شواہد ایجنسیوں کے ہاتھ لگ رہے ہیں ان کی روشنی میں فطری طور پر یہ سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق این آئی اے کے تفتیش کارگجرات فسادات میں ملوث ودودرہ کے رمیش جینتی اور مہیش گوہل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان پر سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ انھوں نے اجمیر دھماکہ کے ایک ملزم ہرشد سولنکی کے ساتھ سنیل جوشی کے گھر میں پناہ لی تھی۔ بعد میں اسی جوشی کا قتل کر دیا گیا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ 2004میں انھوں نے اس وقت گجرات کو خیرباد کہہ دیا تھا جب سپریم کورٹ نے بیسٹ بیکری کیس کو دوبارہ کھولنے کی ہدایت دی تھی۔ ایک طرف تفتیش کار ان لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف سنیل جوشی کے قتل کے الزام میں بی جے پی کے ایک کونسلر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سنیل جوشی کے قتل کی آنچ مالیگاوں دھماکے میں گرفتار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر تک بھی پہنچنے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر سنیل جوشی کے قتل کے روز اس کے گھر گئی تھی اور اس نے وہاں سے ایک بریف کیس لیا تھا اور چلی گئی تھی۔ اس کا انکشاف مقتول کی بھتیجی چنچل جوشی نے کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وقت تک اس کو اس کے چچا کے قتل کا علم نہیں ہوا تھا۔
سنیل جوشی کا قتل اس لیے کر دیا گیا کہ بھگوا بریگیڈ کو اندیشہ تھا کہ کہیں وہ سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں کی قلعی نہ کھول دے۔ در اصل جب سے ملک میں ہونے والے بم دھماکوں کی جانچ میں سنگھی دہشت گردوں کا نام سامنے آیا ہے، ان پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی ہے۔ انھوں نے ہر اس ثبوت کو مٹانے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی کارستانیوں پر نظر پڑے۔ لیکن سادھوی پرگیہ سنگھ، کرنل پروہت اور دوسرے لوگوں کی گرفتاری نے معاملے کو اتنے آگے تک پہنچا دیا ہے کہ اب ان کو اسے روک پانا آسان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے سوامی اسیما نند کے اعتراف نے اس حلقے میں مزید بوکھلاہٹ پیدا کر دی ہے۔ ان کو اندیشہ ہے کہ کہیں جانچ کی آنچ مزید لوگوں تک نہ پہنچ جائے۔ کیونکہ آر ایس ایس کے ایک بڑے لیڈر کا نام فرد جرم میں داخل ہونے کے بعد سے خوف وہراس میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کا نام کئی حیثیتوں میں سامنے آیا ہے۔ اس پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے ساز باز کا بھی الزام ہے۔ اس پر جعلی نوٹوں کے دھندے کا الزام ہے۔ اس پر سمجھوتہ بلاسٹ کے لیے 75ہزار روپے ادا کرنے کا بھی الزام ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ سی بی آئی جلد ہی اس سے پوچھ گچھ کرے گی۔ سمجھوتہ بلاسٹ کے لیے فنڈنگ کا انکشاف ایک گرفتار ملزم نے کیا ہے۔ اس نے جانچ ایجنسیوں کو اس بارے میں بہت کچھ بتایا ہے۔ اگر اس بڑے لیڈر کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور اس کو گرفتار کر لیا جاتا ہے تو اس ٹولے پر مزید بوکھلاہٹ طاری ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ عجلت میں اس سے ایسی کوئی حرکت سرزد ہو جائے کہ دوسرے لوگ بھی بے نقاب ہو جائیں۔ کچھ جانکاروں کا کہنا ہے کہ جانچ ایجنسیاں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہیں اور بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
ادھر سوامی اسیمانند کے بارے میں جانکاروں کا خیال ہے کہ ان کا پوری طرح ”ہردے پریورتن“ ہو گیا ہے۔ وہ اب خود کو اس بھگوا بریگیڈ سے جوڑ کر دیکھے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی لیے جب آر ایس ایس سے وابستہ دو وکلا جو کہ سمجھوتہ کیس کے دوسرے ملزموں کی طرف سے عدالت میں پیروی کر رہے ہیں، ان کے پاس وکالت نامہ لے کر گئے اور ان سے کہا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں تاکہ وہ ان کا کیس لڑ سکیں تو اسیمانند نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ان کو اپنا وکیل بنانا نہیں چاہتے۔ اس کے عوض انھوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ ان کے لیے ایک وکیل کا انتظام کرے۔ ان کے اس رویے سے اندرون خانہ بڑی ہلچل ہے اور آر ایس ایس کے لوگوں کاخیال ہے کہ سوامی انہیں اور بے نقاب نہ کر دیں۔ حالانکہ سوامی کے ونواسی کلیان آشرم کے پروگراموں میں آر ایس ایس کے ٹاپ لیڈر شرکت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب وہی سوامی ان لوگوں سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتے۔ ان کے اس رویے سے بڑے سنگھی لیڈران کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ناراض ہیں۔ لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتے۔ ادھر نچلے رینک کے لیڈروں میں بھی اس پر غم وغصہ ہے۔ ا س لیے ممکن ہے کہ وہ اندر ہی اندر سوامی کے خلاف زہر افشانی کی تیاری کر رہے ہوں۔جانکاروں کا کہنا ہے کہ سوامی نے جو انکشاف کیا ہے اس کے بعد ان کو بھی حالات کا اندازہ ہے اور کم از کم وہ اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ ان کا اقبالیہ بیان ان کے خلاف ایک پختہ ثبوت ہے۔ ان کو اس کا بھی اندازہ ہے کہ انہیں پولیس مظالم کا نشانہ نہیں بننا پڑے گا کیونکہ بہر حال وہ اب بھی ایک ”گاڈ مین“ ہیں اور پولیس ہو یا کوئی اور کسی گاڈ مین کو ٹارچر نہیں کرے گا۔ لیکن ان کو اس کا بھی احساس ہے کہ اگر انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تو ممکن ہے کہ کوئی سرپھرا ان کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکالے۔ اس لیے وہ یہی چاہتے ہیں کہ سردست ان کی ضمانت نہ ہو۔
ادھر سنیل جوشی کے قتل کے الزام میں جس مسلم خاندان کو مصیبتیں جھیلنی پڑی ہیں اب بھی اسے انصاف نہیں مل پا رہا ہے۔ حالانکہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جوشی کا قتل گھر کے بھیدیوں نے ہی کیا ہے۔ جب سنیل جوشی کا قتل ہوا تو اس کا الزام سیمی پر عائد کیا گیا اور دیواس سے تیس کلو میٹر دور ستر کھیڑا گاوں میں ایک مسلمان خاندان کے گھر پر لوگوں نے حملہ کر دیا۔ انھوں نے وہاں پہنچ کر تشدد آمیز حرکتیں کیں ، آتش زنی کی اور ایک 65سالہ شخص رشید کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ اس واردات میں ان کا 27سالہ بیٹا جلیل زخمی ہو گیا۔ دو مزید بیٹو ںکو چوٹیں آئیں اور ایک بیٹی کو جلنے سے زخم آئے۔ 30دسمبر2007کو پیش آنے والے اس واقعے کو گھر کی بزرگ خاتون شیراز بی یاد کرکے کانپ جاتی ہیں۔ نصف گھنٹے سے زائد تک چلے اس خونیں کھیل کے بعد جس میں اس کا شوہر اور ایک بیٹا ہلاک ہوا، انھوں نے اپنا گھر چھوڑ دیا۔ گیارہ جنوری 2008کو اندور کے ایم وائی اسپتال میں جلیل کی موت ہو گئی تھی۔
دہشت گردی خواہ وہ کہیں کی ہو اور کسی بھی مذہب سے وابستہ لوگوں کے ذریعے کی گئی ہو، قابل مذمت ہے اور کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ابھی گذشتہ دنوں پاکستان میں گورنر سلمان تاثیر کا قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد مذہبی انتہا پسندی میں کافی جوش آگیا ہے۔ ملک کے قانون کو ہاتھ میں لے کر ایک شخص کو قتل کرنے والے کی عزت افزائی کی جا رہی ہے۔ جب تاثیرپر گولیاں چلانے والے ممتاز قادری کو عدالت میں لے جایا گیا تھا تو وہاں موجود وکلا نے اس پر پھول برسا کر اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ جس پر ہندوستان سمیت دنیا بھر میں اظہار حیرت کیا گیا تھا۔ لیکن ایسا صرف پاکستان ہی میں نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہندوستان میں بھی ہو چکا ہے۔ جب مالیگاو ¿ں بم دھماکہ کے الزام میں کرنل پروہت کو گرفتار کیا گیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وکلا کے ایک گروپ نے اس پر پھولوں کی بارش کی تھی۔ یا تو اس کو بے قصور سمجھ کر ایسا کیا گیا تھا یا اس کو اس کی کارستانیوں کی وجہ سے عزت دی جا رہی تھی۔ لیکن یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دہشت گردی موجودہ عہد میں دنیا کا سب سے بڑا خطرہ ہے اور وہ ایک ناسور ہے جس کا ہر حال میں آپریشن کیا جانا چاہئے۔ اگر کچھ مسلم نوجوان بھٹک کر دہشت گردی میں مبتلا ہو گئے ہیں تو انہیں بھی انصاف کے کٹہرے تک لانا چاہئے اور اگر کچھ وسرے مذاہب کے لوگ بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے اورجو لوگ بھی قصور وار ہوں ان کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے او رکسی ایک شخص کی کا رستانی کے چلتے اس مذہب کے ماننے والے تمام لوگو ںکے خلاف تعصب اور منافرت کا جذبہ پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ اب جبکہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ سمجھوتہ بلاسٹ میں وہ لوگ شامل نہیں رہے ہیں جن کو گرفتار کیا گیا ہے اور دوسرے معاملات میں بھی بہت سے بے قصوروں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے، ایسے لوگوں کو رہا کرنے کی کارروائی حکومت کی جانب سے جلد از جلد ہونی چاہئے تاکہ کسی بھی بے قصور کو اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا نہ دی جا سکے۔(یو ٹی این)
s_anjum11@yahoo.com- یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929

0 comments:

Post a Comment