Wednesday, January 12, 2011

اسلام ، خاندان اور جدیدیت

اصغر علی انجینئر
کچھ عرصہ قبل خاندان کے موضوع پر ایک سمینار میں شرکت کے لئے میرا ترکی جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے ترکی کے سفر کی روداد بھی لکھی لیکن یہاں میرا مقصد اس کانفرنس میں اپنے خیالات کے اظہار سے واقف کرانا ہے۔ یہ بہت اثر انگیز بین الاقوامی کانفرنس تھی جس میں 50سے زائد ملکوں کے 300ادانشوروں، سائنسدانوں اور رضا کاروں نے شرکت کی تھی۔بہت سے مقالے پڑھے گئے اور خاندان کے حوالے سے ہمہ پہلو کافی سیر حاصل بحث ہوئی۔عام خیال یہ تھا کہ خاندان کا تصور دھندلا پڑتا جا رہا ہے اور خاندان کو، جو ہماری تہذیب کی اصل اساس ہے ، ٹوٹنے اور اس کا شیرازہ بکھرنے سے بچایا جائے۔
مجھ سے کہا گیا کہ میں اسلام اور خاندان کے رواج پر اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ در حقیقت پیغمبر اسلام حضورﷺ نے چند ناگزیر حالات کے علاوہ تجرد کی زندگی کو پسند نہیں فرمایا۔ وہ رہبانیت کے بھی قطعاً قائل نہیں تھے بلکہ دنیا میں رہ کر ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔قرآن میں جگہ جگہ خاندانی زندگی، نکاح، طلاق اور اولاد کا ذکر ہے۔ قرآن ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ اگر تمہارے پاس گذر بسر کے لئے اتنا نہیں ہے کہ تم شادی کر سکو اور اپنے کنبہ کی کفالت کر سکو تو دین داری و تقویٰ اختیار کرو تاوقتیکہ اللہ تمہارے حالات بہتر نہ کر دے۔علاوہ ازیں اللہ حرام کاری، زنا کاری اور فسق و فجور کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دینے کا حکم دیتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کے بعد ہی جنسی اختلاط کی اجازت ہے اور محض لذت و جنسی تسکین کے لئے اس کی اجازت نہیں ہے۔جنسی ملاپ کا بنیادی مقصد خاندان کا فروغ ہے۔ آج مغربی ملکوں میں لوگ خاندان بڑھانے کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتے لیکن محض لذت کی خاطر جنسی اختلاط چاہتے ہیں اور کسی صنف مخالف کے ساتھ رہنے کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خاندان کی توسیع یا اس کے قیام پر کاری ضرب پڑ رہی ہے۔اور یہ ایسا انتظام ہے کہ مرد عورت جب چاہیں اپنی راہیں جدا کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں۔اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ نہ صرف دونوں فریق ایک دوسرے کی ذمہ داری اٹھانے سے بچ جاتے ہیں بلکہ بچوں کی ذمہ داری اٹھانے سے بھی بچ جاتے ہیں۔در حقیقت ہر کوشش یہ ہوتی ہے کہ بچے پیدا نہ ہوں اور اگر بالفرض محال بچے پیدا ہو بھی گئے تو تو ان بچوں کی ذمہ داری کسی ایک فریق خاص طور پر ماں کے سر آن پڑتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرد تو اپنی شہوانی لذت حاصل کرنے کے لئے کئی شریک حیات رکھ لیتا ہے اور ماں بچوں کی پرورش و نگہداشت میں الجھ کر نفسیاتی امراض اور دماغی تھکاوٹ کی شکار ہو جاتی ہے۔
قرآن کے احکام کے مطابق نکاح کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ خاندان کی توسیع ہو اور شوہر و بیوی ایک دوسرے کے رفیق حیات بنیں۔شادی کے اصل فلسفہ کی بنیاد محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کے ساتھ زندگی بسر کرنا ہے۔ قرآن کہتا ہے ”اور اس کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے ہی اندر سے تمہارے لئے ایک ساتھی پیدا کیا کہ تم اس پر غور و فکر کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحم کا جذبہ پیدا کیااور بلا شبہ سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت سی علامات ہیں “۔
اس طرح قرآن کے مطابق خاندان کا قیام زندگی کی اعلیٰ ومہذب قدروں کی بنیادوں ہونا چاہئے۔محض نفسانی خواہشات کی تکمیل کبھی بھی کسی کواعلیٰ تہذیب اور مستحکم زندگی کی جانب نہیں لے جا سکتی ۔ استحکام ،رحم ، ترس اور محبت انسانی تہذیب کی اصل بنیادیں ہیں اور خاندان تہذیب کو بنانے کے عمل میں ایک اہم ادارہ ہے۔جہاں تک ممکن ہو سکے خاندان ٹوٹنا نہیں چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ طلاق کو حلال اور جائز قرار دیتے ہوئے بھی اسے انتہائی قبیح فعل سے تعبیر کیا گیا ہے اور حضورﷺ کی حدیث کے مطابق جس وقت مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو جنت بھی تھرا اٹھتی ہے کیونکہ طلاق ایک خاندان کے قیام پر کاری ضرب ہے۔
آج عصری دنیا میں جدیدیت کی وجہ سے ہماری زندگی میں زبردست تضادات کے سبب لفظ خاندان کا قیام تیزی سے کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ جدید دور میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور ملازمتیں کرتی ہیں اور اتنی آزاد اور خود مختار ہو جاتی ہیں اپنے شوہر کی حکم عدولی شروع کر دیتی ہیں اور ان کے آگے سرنگوں ہونے سے صاف انکار کر دیتی ہیں۔ماضی میں عورتیں مردوں کی مکلف ہوتی تھیں اور شوہروں پر ہی ان کا اقتصادی انحصار ہوتا تھا نیز شوہر کی خواہشات کو مقدم رکھنے میں ہی وہ عافیت محسوس کرتی تھیں اور خود کو محفوط و مامون بھی سمجھتی تھیں۔شوہر کو اس کا مالک اور اس کے سر کا تاج (سرتاج) تصور کیا جاتا تھا۔ آج متوسط طبقہ کی خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اونچی اونچی تنخواہوں پر ملازمتیں کر رہی ہیںاس لئے وہ اپنے شوہروں کے آگے جھکنے سے انکار کر دیتی ہیں۔
اس لئے بہت سے دقیانوسی مسلمان یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ یہ عورتوں کو تعلیم سے بہرہ ور کر کے انہیں بر سر روزگار کر دینے کا ہی نتیجہ ہے۔یہ خاندان کے قیام کے تصور کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔لیکن یہ تصور غلط ہے کیونکہ ہم کئی خاندانی و موروثی قدروں سے لپٹے ہوئے ہیں۔ در اصل اگر خواتین اپنی عزت نفس اور عزت و وقار چاہتی ہیں تو ان کو شوہر کا تابعدار بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ کوئی بھی خاندان اعلیٰ قدروں کے بجائے اگر حاکمیت کی بنیاد پر قائم کیا جائےگا تو وہ کبھی مضبوط نہیں ہو سکتا اور اعلیٰ تہذیب کی جانب ہمیں نہیں لے جا سکتا۔قرآن جہاں ایک طرف عورت کوحق روزگار و ملکیت دیتا ہے تو اسے مساوی عظمت و عزت نفس بھی دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ خاندان کی بنیاد محض شوہر کی حاکمیت پر ہی نہیں ہونی چاہئے بلکہ ایک دوسرے کے تئیں جذبہ محبت و صلہ رحمی پر ہونی چاہئے۔
اگر ان قدروں پر عمل کیا جائے اور شوہر و بیوی کوئی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے صلاح و مشورہ کریں اور ایک دوسرے کا احترام کریں تو عورت کی تعلیم اور اس کی آمدنی خاندان کو مزید مستحکم اور خوشحال بنا سکتی ہے۔اگر ہم خاندانی رسم و رواج پر ہی اٹل رہے اور شوہر کی حاکمیت کو مقدم رکھتے رہے تو جس خاندان میں عورت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگی اور عزت نفس اور وقار کا خاص دھیان رکھتی ہوگی تو وہ ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر ٹوٹ جائے گی۔اعلیٰ جدید سوسائٹیوں میں بھی اہم معاملات میں کوئی فیصلہ کرنے میں عورت کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے زندگی دوبھر ہو جاتی ہے اور اور عورت کا شوہر کے آگے جھکنے سے انکار طلاق کی شرح میں اضافہ کر رہا ہے۔
اس کا حل خاندان کا تصور ترک کر دینے اور کسی صنف مخالف کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنے میں مضمر نہیں ہے ۔ اس قسم کی زندگی میں حقیقی محبت اور رحم کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ اس کا حل یہی ہے کہ عورتوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے انہیں برابر کی عزت واور وقار بخشا جائے اور فیصلے کرنے میں انہیں برابر کا شریک رکھا جائے۔اسی سے خاندان کا قیام مضبوط ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر خاندان سے متعلق قراآنی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو کوئی خاندان منتشر نہیں ہوگا بلکہ مزیدمستحکم ہوگا۔
سینٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی ایند سیکولرازم ممبئی
ترجمہ : سید اجمل حسین
Read In English

0 comments:

Post a Comment