Thursday, January 27, 2011

اعتماد سازی کےلئے سیاست نہیں تجارت کیجئے

سید منصور آغا
عروس البلادممبئی پردہشت گردانہ حملہ انجام دینے والے ہند پاک مفاہمتی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں تو کامیاب رہے مگر خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کی ان کی مراد بر نہیں آئی۔ اگرچہ میڈیا نے، جس میں الیکٹرانک میڈیاکے کوتاہ اندیش اینکر ز پیش پیش رہے،ماحول کو خراب کرنے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی ،مگر یو پی اے سرکارنے دوراندیشی اورتحمل سے کام لیا اور اشتعال انگیزی کے باوجود اس دلیل کو قبول نہیں کیاکہ’ منتخب دہشت گرد ٹھکانوں‘ پر فضائی حملے کرکے اس حملے کا جواب دیا جائے۔یہ دلیل دینے والے بھول گئے کہ امریکا جیسی وحشی فوجی طاقت بھی ’دہشت گردی کے ٹھکانوں‘ پر حملے کرتے کرتے خود اقتصادی بحران میںمبتلا ہوگئی ہے اورکامیابی ہنوز نظر نہیں آتی۔
وزیر اعظم ہندڈاکٹر من موہن سنگھ اوران کے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے درمیان دو ملاقاتوں(16جولائی 2009ء، شرم الشیخ اور 29 اپریل 2010ءتھمپو) کے بعد مذاکرات کے سلسلہ کو آگے بڑھانے کی جو کوشش ہوئی تھی اس کو اس وقت سخت جھٹکا لگا جب گزشتہ جولائی میں وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے دورہ اسلام آبادکے دوران نئی دہلی میں ہند کے داخلہ سیکریٹری نے یہ کہہ دیا کہ ممبئی پر حملہ کی سازش میں آئی ایس آئی ملوّث تھی۔ اب اس سلسلہ کواز سر نو جوڑنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔بعض اقدام سفارتی سطح پر ہوئے ہیں۔ اب تھمپو میں سارک وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹریز نروپما راﺅ اور سلمان بشیر کے درمیان 6یا7فروری کو ملاقات ہوگی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق اگریہ ملاقات’ نتیجہ خیز‘ رہی تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہند کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کر سکتے ہیں اور چند ماہ بعددہلی کا دورہ کرسکتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان ’اعتماد سازی ‘ کے نظریہ کے تحت مذاکرات کا ٹوٹتا جڑتا یہ سلسلہ پرانا ہے، جس کا آغاز سابق وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کے تاریخی دورہ لاہور (19فروری 1999ئ)سے ہوا تھا۔ درمیان میں آس او ر یاس کے کئی مراحل آئے۔ کرگل کی لڑائی،نوازشریف سرکار کی برطرفی، آگرہ مذاکرات کی ناکامی، پارلیمنٹ ہاﺅس ، سمجھوتا ایکسپریس اور پھرممبئی پر دہشت گردحملے مذاکراتی عمل پر بھاری پڑے۔ کئی بار جنگ کے آثار پیدا ہوئے اور12 برس بعد بھی بے اعتمادی بدستوربرقرار ہے ۔ عالمی پلیٹ فارموں پرشہ ومات کا سیاسی کھیل بھی جاری ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’اعتماد سازی کےلئے جامع مذاکرات‘ کا نظریہ نتیجہ خیز ثابت نہیںہورہا ہے اور اب کوئی دوسرا متبادل اختیار کیا جانا چاہئے۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ اسکایہ گمان ہے کہ ہندستان اس کا ازلی دشمن ہے اور اس کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ فطور بقول عطاءالحق قاسمی فوج کا پیدا کردہ ہے۔ جب تک یہ انداز فکر نہیںبدلتا، باہمی اعتماد سازی ممکن نہیں ۔ اس وقت مذاکرات کو از سر نو جوڑنے کی جو کوشش ہورہی ہے اس سے کسی بہتری کی امیداسی صورت میںکی جاسکتی ہے، جب دونوں ممالک ’جانی دشمن‘ کے نظریہ کو ترک کرکے یہ تہیہ کرلیں کہ امن کے دشمنوں کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیںہونے دیں گے۔
اس وقت یہ خطّہ بڑے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ افغانستان سے ناٹو کاچل چلاﺅ ہے ۔چنانچہ ناٹو افواج سے نبرد آزما ’جہادیوں‘ کے حوصلے بڑھ رہے ہیںاور اندیشہ ہے کہ ناٹو کے ا فغانستان سے نکل جانے کے بعد کچھ جنگجو پھر کشمیر کا رخ کرسکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت چاہے گی تب بھی ان کو روک نہیں سکے گی، کیوں کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی اپنی حکمت عملی اور مفادات ہیں اور ان پر پاکستانی سیاسی قیادت کامطلق کنٹرول نہیں۔اس امکانی منظرنامہ کے پیش نظر یہ امرخطے کا مفاد میںہوگا کہ ہندوپاک تنازعات جلد از جلد حل ہوں ۔ جبکہ ہند میں سنگھ پریوار اور پاکستان میں نام نہاد ’جہادی‘ اور بعض بااثر عناصر یہ چاہیں گے کہ کشیدگی بدستوررہے۔اس صورتحال کی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ترکی کی طرح پاکستان میں سیاسی نظام مضبوط اور مستحکم ہو اور اس میںہمارابھی مثبت رول ہوتاکہ دونوں ممالک میں رائے عامہ سازگار ہو۔ ہندستانی رائے عامہ بڑی حد تک پاکستان سے دوستی کی حامی ہے۔ پاکستانی عوام کو بھی جذباتیت کی جگہ دانائی اور قومی و علاقائی مصالح کو اپنا رہنما بنانا ہوگا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی نظام کا استحکام ہند کی اولین ترجیح ہونا چاہئے اور اسلئے اسے دباﺅ ڈالنے اوراپنے نظریہ پر اصرار کی روش میں اصلاح کرنی ہوگئی۔
پاکستان کےلئے یہ بات اوربھی ضروری ہے کہ وہ ہندکے ساتھ محاذ آرائی کوترک کرے اور اس حقیقت کا ادراک کرے کہ ہند تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ ممبئی پردہشت گردانہ حملے اور عالمی کساد بازاری کے باوجود ہند کی صنعت اور تجارت نے جس مضبوطی اوراستحکام کا ثبوت دیا ہے وہ یہ سمجھ لینے کےلئے کافی ہے کہ لاکھ معاندانہ کوششوں اور حریفانہ پالیسیوں کے باوجود پاکستان ہندکامد مقابل نہیںبن سکتا۔ اس دور میں اصل طاقت جوہری اسلحہ نہیںصنعتی اور تجارتی بازارہیں۔ اس لئے اس کو اپنا طرز عمل بدل کر ہند کی ترقی سے فیض اٹھانا چاہیے، بلکہ اس میںشریک بننا چاہئے جس کےلئے ہند تیار ہے۔
گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے فوراً بعد امریکی نائب صدر جائے بیڈن کا اچانک دورہ پاکستان اور اس کے دو ہی دن بعد صدر آصف زرداری کی امریکی صدر بارک اوبامہ سے ملاقات اور صدرپاکستان کی سیکیورٹی کےلئے امریکی دستوں کی تعیناتی کے امکان سے متعلق خبریں ظاہر کرتی ہیں کہ سیاسی طورپر پاکستان میںسب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔اگر صدرکےلئے بیرونی سیکیورٹی پرمجبور ہوسکتے ہیں تو اسکا مطلب کیا ہوگا، یہ سمجھ لینا چاہئے۔اگرفوج کے پہرے میں بھی صدر غیر محفوط ہےں تو نیوکلیائی تنصیبات کیونکر محفوظ ہونگیں؟ ہر طرف قتل اور خون کا بازار گرم ہے ۔اوپرسے گرانی اور بدعنوانی نے عوام کوبرگشتہ کررکھا ہے،جسکا فائدہ شدت پسنداٹھا رہے ہیں۔اگرچہ گیلانی حکومت نے اس بحران پر قابو پالیا ہے جو ایم کیو ایم کی حمایت واپسی سے پیدا ہوگیا تھا،لیکن کون کہہ سکتا ہے کب کوئی نیا بحران آجائے ؟ تیونس کے حالیہ واقعات بھی پاکستانی حکمرانوں کےلئے نیک شگون نہیں ہیں۔ اس کی حالت اس مریض جیسی ہے جو امریکی آکسیجن پر زندہ ہے اور طرفہ تماشہ یہ ہے اس کے جملہ داخلی اورخارجی بحرانوں کی جڑ میں بھی امریکی سیاست ہی کارفرما ہے۔ ایسے میںہند کا رول کیا ہونا چاہئے؟ پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت کے ہاتھوںکو مضبوط کرنا، جو بہرحال جمہوری انتخاب کے ذریعہ اقتدار میں آئی ہے یا مختلف سیاسی اور سفارتی دباﺅ ڈال کر اس کےلئے کچھ اور دشواریاں پیدا کرنا؟ہم نہیںسمجھتے کہ اس موقع پر حکومت پاکستان خواہش کے باوجود کسی ایسے اقدام کی متحمل ہوگی جس کو موضوع بناکر کچھ طالع آزماعناصر کوئی نیا ہیجان پیدا کردیں۔ چنانچہ مذاکرات کی ترجیحات طے کرتے ہوئے ان حقائق کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔
پاکستان جامع مذاکرات کو پوری طرح بحال کرنے پر مصر ہے جبکہ ہند کی فوری ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ اورممبئی دہشت گردحملے کا معاملہ ہے۔ یہ بات سب کے مفاد میں ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہو اور عوام و خواص میں درآنے والی جنگجوئیت کامداوا ہو۔یہ کام فوج اور پولیس آپریشن سے نہیں بلکہ اقتصادی سرگرمیوںکی گہما گہمی سے ہوگا۔ ایک مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اقتصادی ابتری سے انتہا پسندی کو پھلنے پھولنے کاموقع ملتا ہے اور خوشحالی اس کو ختم کرتی ہے۔ ان دنوں پاکستان کی اقتصادی حالت اسقد سقیم اور خستہ حال ہے کہ براک اوبامہ سے ملاقات کے دوران زرداری کے ایجنڈہ میںاقتصادی ا مداد کا معاملہ سرفہرست تھا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ صدر امریکا تو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے ہندآتے ہیں اور بامراد جاتے ہیں لیکن پاکستان ہند کو دھتا بتاکر امریکا کی طرف دیکھتا ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں کہ سلامتی کونسل کے پانچوںمستقل ممبران نے ایک مختصر مدت کے دوران ہند کا دورہ کیا اور زاید از ۰۸ ارب ڈالر کے سودے کئے۔ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک تو اپنی اقتصادی بہبود کےلئے ہند کی طرف لپک رہے ہیں اور پاکستان پیازا ور کپاس میں اٹکا ہوا ہے۔ پاکستان کواگر اقتصادی ترقی کی طلب ہے اور بےروزگاری، ناخواندگی اور جنونیت کا خاتمہ مطلوب ہے تو سیاسی قلابازیوں کے بجائے اسے ہند کے ساتھ تجارت پر توجہ دینی چاہئے۔ ٹرین اور سڑک کے راستے ہندوستانی مال تجارت لانے لیجانے اورتاجروں کو اوپن اور ٹرانزٹ ویزا کی سہولت فراہم کرکے اقتصادی شراکت کا دروازہ کھولنا چاہئے۔ ایسی ہی سہولت ہند بھی پاکستان کو دے۔ جس طرح تمام تنازعات کو پس پشت ڈال کر ہند چین تجارتی رشتے مضبوط ہورہے ہیں، اسی طرح ہند پاک سیاسی مسائل کو حل کرنے کی کلید بھی تجارت کے فروغ میں ہے ، جس سے دونوں طرف رائے عامہ ایک دوسرے کے موافق ہوگی اور دونوں سرکاریں حساس سیاسی فیصلے لینے کی متحمل ہونگی۔
(مضمون نگار فورم فار سول رائٹس کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ email: syyedagha@hotmail.com

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment