Friday, January 07, 2011

امریکی اسکول میں کرپان لانے پر پابندی لگانے سے سکھوں میں غم و غصہ

واشنگٹن:امریکہ کے مشیگن شہر کے کینٹن علاقہ میں ایک اسکول میں سکھوں پر ان کی مذہبی علامت کرپان لانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اسکول انتظامیہ کے اس فیصلہ سے سکھوں میں تشویش اور ناراضگی پیدا ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب چوتھی کلاس کے ایک سکھ طالبعلم کے پاس کرپان ملنے کے بعد کچھ طلبا کے والدین نے اس پر اعتراض کیا۔اس واقعہ سے اس شہر میں آباد سکھوں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے عوام کو اس بات سے واقف کرانے کے لئے کہ کرپان محض ایک مذہبی علامت ہے اور قطعی بے ضرر ہے عوامی سطح پر مہم شروع کر دی ہے ۔ قانونی جائزہ لینے کے بعد پلائی ماﺅتھ کین ٹن کمیونیٹی اسکول نے یہ کہتے ہوئے کرپان لانے پر پابندی عائد کر دی کہ یہ اسکول میں ہتھیار یا ہتھیار جیسے آلات یا سامان لانے کے خلاف مقامی، ریاستی اور وفاقی پالیسیوں کے منافی ہے۔اسی قسم کے تنازعات امریکہ کے دیگر علاقوں میں بھی پیدا ہو گئے ہیں جس سے سکھ والدین اور سکھ لیڈروں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرپان برائیوںکے خلاف ان کے عزم کا اظہار کرتا ہے اور اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment