Thursday, January 13, 2011

سنگھی دہشت گردی: جانچ کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

سید منصور آغا
ہمیں شکرگزار ہونا چاہئے یوپی اے سرکار اور اس کے وزیر داخلہ پی چدمبرم کاکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے حقائق سامنے آگئے ہیں جن سے یہ امیدبندھی ہے کہ اب وطن عزیزکوداخلی دہشت گردی کی لعنت سے اور مسلمانانِ ہند کو اس میں ملوّث ہونے کے الزام سے نجات مل جائےگی ۔شہید ہیمنت کرکرے نے مالیگاﺅں بم دھماکے کی سازش کو بے نقاب کرکے اندرون ملک سرگرم سنگھی دہشت گردی کے جس بھیانک کھیل پر سے پردہ ہٹا دیا تھا، اب اس کی مزید پرتیں کھل رہی ہیں۔ سوامی اسیمانند نے مجسٹریٹ کے سامنے جو اقبالیہ بیان قلم بند کرایا ہے اس سے آر ایس ایس کے چوٹی کے لیڈر اندریش کمار، تین ضلع پرچارکوں سنیل جوشی، دیوندر کمار، سندیپ ڈانگے اور کئی دیگر لیڈروں کے دہشت گردانہ کردارکی تصدیق ہوگئی ہے۔ سوامی اسیمانند کا یہ اعتراف اس لئے اہم ہے کہ وہ سنگھ پریوار کے قریب کے آدمی ہیںاورسنگھ کی نظر میں وہ دہشت گرد نہیں،’ ہیرو‘ ہیں۔(ملاحظہ ہو ’پنج جنیہ ‘ کے سابق مدیر اور بھاجپا کے موجودہ رکن راجیہ سبھا ترن وجے کا ’آرگنائزر‘(26 فروری 2006ئ) میںشائع طویل مضمون "The Grand Mingling in the Shabri Kumbh")۔
سوامی اسیمانند کا سنگھ کے اعلیٰ قیادت سے گہرے روابط جگ ظاہر ہیں ۔سنگھ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے وہ سرپرست رہے ہیں۔ یہ دعویٰ بے اصل ہے کہ سنگھ کا اپنے بعض کارکنوںکی ان سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مہو کے اپنے سابقضلع پرچارک سنیل جوشی کی سرگرمیوںسے سنگھی قائد بخوبی واقف تھے۔ نہ ہوتے تو ان کا قتل ہوتے ہی ان کے گھر سے ان کی ذاتی ڈایریاں،پستول، موبائل فون اورکچھ دیگر دستاویزات غائب نہ کر دی گئی ہوتیں تاکہ وہ پولیس کے ہاتھ نہ لگنے پائیں۔گمان غالب یہ ہے کہ ان کو کیونکہ ان خفیہ سرگرمیوںکی ذمہ داری دیدی گئی تھی اس لئے ان کو ضلع پرچارک کے منصب سے سبکدوش کردیا گیا تھا اور دکھاوے کے لئے آر ایس ایس سے خارج بھی کردیا گیا، حالانکہآئی بی کو اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ قتل کے زمانے تک وہ سنگھ کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں تھے۔مسٹر جوشی سشو مندر اسکول کے تعلیم یافتہ تھے اور کم سنی سے ہی سنگھ کے نفرت انگیز نظریات میں شرابور تھے اور سنگھیوںکے نقطہ نظرسے مطلوب مثالی کردار میں ڈھلے تھے۔ یہ ممکن نہیںکہ سنگھی قیادت کی ایماءکے بغیر انہوں نے اتنے سارے بم دھماکوں کی سازش رچی ہو اور سنگھیوں کی معاونت کے بغیر ان کو عملی جامہ پہنا دیا ہو۔ مدھیہ پردیش پولیس نے ، جہاں۸ دسمبر 2003ءسے بھاجپا کی سرکار ہے، آر ایس ایس کے دباﺅ میں قتل کی جانچ گہرائی سے نہیںکی، جس میں اب یہ شک کیا جارہا ہے کہ یہ قتل اندریش کمار کے اشارے پر ہوا یا کم از کم وہ قاتلوں اور قتل کے مقصد سے واقف ہیں ۔ اب یہ بھیپتہ چلا ہے سازش میں شریک ایک اور ملزم رام جی کا بھی قتل ہوچکا ہےجس نے بم سازی کا سامان فراہم کیا تھا۔
دہشت گردی کے واقعات میں سنگھیوں کے امکانی ہاتھ کو نظر انداز کردینے کے سنگین نتائج سامنے آچکے ہیں ۔اگرکانپور اور ناندیڑ کے بم دھماکوں کے بعد ، جو آر ایس ایس کے کارکنوںکے گھروں میں ہوئے تھے اور جن میں بم بناتے ہوئے کم از کم چار سنگھی کارکن ہلاک ہوئے تھے، جانچ ایجنسیاں غفلت سے کام نہ لیتیں تو سنگھی دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوتے ہی ختم ہوجاتا۔ لیکن سنگھیوں کے زیر اثر افسران اور میڈیا نے ایسی فضا بنا دی تھی جس میں یہ سوچنا بھی محال تھا کہ دہشت گردی کے کسی واقعہ میں کسیہندو گروہ کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ۔چنانچہ تفتیش کاروں نے ہر دھماکہ کے بعد اندھا دھند مسلمانوں کی گرفتاریاں کیں، ان کے خلاف اخباروں اور ٹی وی چینلز پر نفرت انگیز پروپگنڈہ بھی خوب کیا مگر ان سراغوں پر مطلق توجہ نہیں دی جو ہندو تنظیموںکی طرف اشارہ کرتے تھے۔
ٹائمز آف انڈیا (9جون 2011ء) نے حال میں ریٹائر ایک سینئر انٹیلی جنس آفیسر کا یہ قول نقل کیا ہے: ”ایسے بہت سے اہم سراغ تھے، جن کے بدولت ہمیں ان دھماکوں کی جانچ کو وسیع تر کرناچاہئے تھا، لیکن سیکیورٹی اور تفتیشی ایجنسیوں میں یہ نظریہ اس قدر حاوی تھا کہ اس طرح کی شدید حملے جیسے سمجھوتا ایکسپریس اور مکہ مسجد میں ہوئے ہیں، بس اسلامی گروپوں کا ہی کیا دھرا ہوسکتے ہیں، چنانچہ ہم نے کبھی دیگر امکانات پر مناسب طو ر سے غورہی نہیںکیا۔“ افسر مذکور نے مزید کہا:” ۶۰۰۲ءمیں ناندیڑ میں بم دھماکے میں آر ایس ایس کے دو کارکنوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کے بعد جب بعض افسران کو خیال آیا کہ مالیگاﺅںکے قبرستان میں دھماکوں میں ہندوگروپوں کے ملوّث ہونے کے زاویہ پر بھی غور کیا جاسکتا ہے تو ان کو یہ کہہ کر چپ کردیا گیا کہ” مسلمانوں کے ایسے گروہ نے یہ حملہ کیا ہے جو ان رسومات کو معیوب جانتے ہیں جو شب برات کے موقع پر ایک مخصوص مسلک میں عام ہیں۔“ مکہ مسجد، درگاہ اجمیر شریف اور دیگر مساجد میں بم دھماکوں کے بعد بھی اسی طرح کی دلیلیں دے کر ان افسران کو پست کردیا گیا جو غیر مسلم ہاتھ ہونے کے بارے میں شک کا اظہار کر تے تھے۔ اجمیر دھماکہ کے بعد اس وقت کے داخلہ سیکریٹری مدھوکر گپتا نے کہا تھا :” یہ دھماکہلشکر طیبہ نے کیا ہے جوہمیشہ صوفی بزرگوں کے خلاف رہا ہے ۔‘ یونین ہوم سیکریٹری کے اس بیان کے بعد کسی افسر کی کیا مجال تھی کہ اس کے خلاف جانچ کرتا۔اسی طرح جب ہریانہ پولیس سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوںمیںسراغوں کا پیچھا کرتے ہوئے اندور پہنچی اور اس میں سنگھیوں کا ہاتھ نظرآنے لگا تو مدھیہ پردیش پولیس نے اس کی معاونت سے انکار کردیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جانچ ایجنسیاں وہم اور گمان کی بنیادیا سیاسی آقاﺅں کے اشارے پر ہی مسلمانوںکے پیچھے پڑی رہیں اور سنگھی دہشت گردوں کی پردہ پوشی کرتی رہیں۔
اور جب ہیمنت کرکرے کی قیادت میں مالیگاﺅں تفتیش کے دوران ایک ملزم لفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت نے نارکوٹیسٹ میں بتایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کےلئے وی ایچ پی لیڈر ڈاکٹر پروین تو گڑیا ذمہ دار ہیں تو اس سراغ کو دبا دیا گیا اور کرکرے کے قتل کے بعد اس پر آج تک مزید جانچ نہیںہوئی۔ جب مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کرنل پروہت کی پولس تحویل میں توسیع کی درخواست کرتے ہوئے ناسک کی عدالت کو بتایا کہپروہت نے ہی سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوںکےلئے آرڈی ایکس فراہم کی تھی (ٹائمز آف انڈیا ، 6۱نومبر 2008ئ) توشیو راج پاٹل کی قیادت میں مرکزی وزارت داخلہ اور آئی بی کے کان کھڑے ہو گئے۔ مذکورہ اخبار کی رپورٹ (18 نومبر2008)مظہر ہے کہ عدالت میںاے ٹی ایس کے اس انکشاف کے فوراً بعد آئی بی نے، جو اس معاملہ کی تفتیش پر نظر رکھے ہوئے تھی،مرکزی سرکار کو خبردار کیا کہ ٹرین دھماکہ کے فوراً بعد آئی بی کے سراغ کے بنیاد پر اس حملہ کےلئے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرایاجا چکا ہے۔ چنانچہ اب اس موقف کو بدلنے سے ہندستان کی سبکی ہوگی۔چنانچہ اگلے ہی دن ہیمنت کرکرے کو یہ کہنا پڑا تھا کہ اے ٹی ایس کے وکیل میسر نے عدالت میںایسا کچھ نہیںکہا۔
اب جب کہ مکہ مسجد ، سمجھوتا ایکسپریس، مالیگاﺅں مسجد اور اجمیر شریف وغیرہ کے بم دھماکوں میںسنگھی دہشت گردوں کا ہاتھ ہونے کے واضح ثبوت اور اسیمانند کا اعتراف سامنے آیا ہے تو مشاہدین حیران ہیں کہ آئی بی (اورساتھ ہی امریکی سرکار بھی)کس بنیاد پران جرائم کےلئے آئی ایس آئی اور پاکستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کو ملزم گردانتی رہیں؟ امریکی سرکار نے ان دھماکوں کےلئے پہلے الیاس کشمیری کا نام لیا ۔ گزشتہ سال عارف قاسمانی (کراچی ) کا نام آیا اور ان دونوں کا نام مطلو ب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرلیاگیا اور اس کی ایماءپر یو این اونے بھی ان کودہشت گردی کےلئے مطلوب افرادقراردیکر ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگادی اور ان کے اثاثے ضبط کرلینے کا اعلان کردیا۔سنگھیوں کے خلاف ثبوت مل جانے کے باوجود آئی بی اور امریکا کے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیکر مستردنہیں کیا جاسکتا۔ یہ امکان بھی تو ہے کہ ان میں صرف سنگھی ہی نہیں بلکہ پاکستانی دہشت گرد گروپ اور آئی اےس آئی بھی ملوّث ہیں۔یہ امکان اس لئے اور قوی ہوگیا ہے سوامی اسیمانند نے اپنے اقبالیہ بیان میں بتایا ہے اندریش کمار کا آئی ایس آئی رابطہ ہے جس کے پختہ ثبوت ہونے کا دعوا کرنے پرساد پروہت نے کیا ہے۔لہٰذا امریکا اور آئی بی کے ا ن دعووں اور تازہ تحقیقات میں منکشف ہونے والے حقائق کے درمیان تال میل بٹھانے کی ضرورت ہے۔
جرم کی تفتیش میںبنیادی اصول یہ ہے کہ کسی زاویہ کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ان اطلاعات اور انکشافات سے کیایہ بات قرین قیاس نظرنہیں آتی کہ ہندستان میںدہشت گردی کی سبھی وارداتیں، جن میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ بھی شامل ہے، القاعدہ، حوجی، لشکر، آئی ایس آئی اور سنگھ پریوار کی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں۔ مختلف دہشت گرد گروہوں کے درمیان ساز باز خارج از امکان نہیںہے۔ چنانچہ اس پہلو کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے۔حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی اوریہ سب دہشت گرد گروہ ہندستان کی معیشت، معاشرت اور سیکولرنظام کو تباہ کرنے پر تلے ہوئےہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد کے درمیان تال میل میں ان کا مذہب ، وطن اور رنگ و نسل آڑے نہیں آتا۔ سنگھی دہشت گردی اور نام نہاد حوجی ، القاعدہ اورلشکر طیبہ(اور ساتھ ہی موساد) کی سرگرمیوں کا اگر بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ صاف ہوجاتا ہے کہ یہ سارے گروہ خطے میںعدم استحکام پھیلانا چاہتے ہیں، ہند پاک رشتوں میں استواری کے دشمن ہیں اوراس طرحصہیونیوں کے مفادات کے نگراں ہیں۔ان سب کی حرکتوںسے امت مسلمہ پریشانیوں میںگرفتار ہے اور اسلام بدنام ہورہا ہے۔ اس لئے اس جرم کے اس پہلو کو نظر انداز نہیںکیا جاسکتا کہ ہندستان میں مسلمانوںکے خلاف جو سنگین وارداتیں ہورہی ہیں وہ نام نہادالقاعدہ، حوجی، لشکر، آئی ایس آئی ، موساد اور سنگھی دہشت گردوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہیں ۔ ممبئی حملوں میںجس طرح پاکستانی دہشت گردوں کا ہاتھ واضح طور پر نظر آتا ہے اسی طرح یہ بھی واضح نظرآتا ہے کہ ایسا طویل اورسنگین حملہ اعلیٰ سطح پرداخلی سازشیوں کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔اس گمان کو اس حقیقت سے تقویت ملتی ہے کہ جب ممبئی حملے کے بعد داخلی سازش کا ذکر آیا تو آڈوانی سمیت بھاجپا قیادت نے اس کی سخت مخالفت کی۔ اس سازش میں اور کرکرے کے قتل میںسنگھ پریوار اوراس سے وابستہ آئی بی و پولیسکے بعض افسران کے ملوّث ہونے کو بھی خارج از امکان قرار دینا غلط ہوگا،چنانچہ مرکزی جانچ ایجنسی کویہ پہلو بھی نظرا نداز نہیںکرنا چاہئے اور جانچ کا دائرہ وسیع کرکے اس میں 2009ءسے اب تک کی سبھی دہشت گردانہ وارداتوں کو شامل کرنا چاہئے۔
(مضمون نگار فورم فار سول رائٹس کے جنرل سیکریٹری ہیں۔email: ۷ syyedagha@hotmail.com

0 comments:

Post a Comment