Thursday, January 27, 2011

یمن میں بھی حکومت مخالف مظاہرین سرکوں پر نکل آئے


صنعا: برسوں سے مسلط حکمرانوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ تیونیشیا سے ہوتے ہوئے مصر کے بعد اب یمن تک پہنچ گیا اور صنعا میں ہزاروں یمنی باشندوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے 30سال سے بر سر اقتدار صدر علی عبداللہ صالح کی برطرفی کا مطالبہ کیا اورعبداللہ گدی چھوڑو کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔یمن کے اپوزیش ممبران اور ملک کا نوجوان طبقہ حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے شہر کے چاروں حصوں میں جمع ہو گیا اور ان مظاہروں کی وآنچ صنعا یو نیورسٹی میںبھی پہنچ گئی اور وہاں بھی طلبا سڑکوں پر نکل آئے۔مظاہرین اقتصادی اصلاحات اور کرپشن کے خاتمہ کے مطالبہ میںبھی نعرے لگا رہے تھے۔اس وقت یمن جنوب میں علیحدگی کی تحریک اور شمال میں شیعہ حوثی باغیوں کے سر اٹھانے سمیت کئی سیکورٹی معاملات میں الجھا ہوا ہے۔یہاں یہ خوف بھی دامنگیر ہے کہ ملک میں بڑھتی بے روزگاری کی وجہ سے اسلامی انتہا پسند گروپوں کو بے روزگار نوجوانوں کی شکل میں بہترین اثاثہ نظر آرہا ہے۔ ہفتہ کو بھی اگرچہ مظاہرے ہوئے تھے جس میں صنعا یونیورسٹی کے طلبا پیش پیش تھے لیکن ان میں سے کچھ صدر صالح کی برطرفی چاہتے ہیں اور ایک گروپ انہیں بر سر اقتدار دیکھنا چاہتا ہے۔اواخر ہفتہ میں پولس نے ایک مشہور خاتون ورکر توکل کامران کو حکومت مخالف مظاہرے کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا جس کی وجہ سے صنعا میں مظاہروں میں اور شدت آگئی۔لیکن پیر کو انہیں رہا کر دیا گیا ۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment