Friday, January 07, 2011

سری کشن رپورٹ میں حیدرآباد کو مرکزی علاقہ کا درجہ دینے کی تجویز

نئی دہلی: تلنگانہ مسئلے سے متعلق سری کرشن کمیٹی کی رپورٹ آج آندھرا پردیش کی سیاسی پارٹیوں کے سامنے پیش کر دی گئی جس میں چھ راستے تجویز کئے گئے ہیں کہ ریاست کے تین حصوں ساحلی آندھرا، تلنگانہ اور رائل سیما کا معاملہ کیسے طے کیا جائےلیکن ان میں سے تین کو ہی اس نے قابل عمل بتاتے ہوئے ان پر عمل آوری کی سفارش کی ہے۔ ان چھ میں سے پہلا یہ ہے کہ آندھرا پردیش کی حیثیت جوں کی توں رکھی جائے اور اس کی تقسیم نہ کی جائے ۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ان میں سے دو کو ریاست کا درجہ دے کرسیماندھرا اور تلنگانہ ریاست بنائی جائے اور حیدر آباد کو مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنادیا جائے اور دونوں ریاستیں اپنی راجدھانی خود بنائیں۔ تیسرا راستہ یہ بتایا گیا ہے کہ ریاست کو ریالہ ۔تلنگانہ اور ساحلی آندھرا خطوں میں تقسیم کر دیا جائے اور حیدر آباد کو ریالہ تلنگانہ کا اٹوٹ حصہ بنا دیا جائے ۔ چوتھی تجویز یہ ہے کہ آندھرا پردیش کو سیماندھرا اور تلنگانہ میں تقسیم کر دیا جائے اور حیدر آباد کو وسعت دے کر اسے علیحدہ مرکزی علاقہ بنا دیا جائے۔ پانچواں راستہ یہ ہے کہ موجودہ سرحدوں کے ساتھ آندھرا پردیش کو تلنگانہ اور سیماندھرا میں منقسم کر دیا جائے اور حیدرآباد کو تلنگانہ کا دارالحکومت بنا دیا جائے اور سیماندھرا اپنی راجدھانی کسی اور شہر کو بنائے ۔ چھٹا اور آخری راستہ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ریاست کو متحد رکھتے ہوئے تلنگانہ خطہ کو سماجی اقتصادی اور سیاسی اختیارات تفویض کرنے کے لئے آئینی اقدامات کئے جائیں۔ لیکن یہ چھ راستے بتانے کے بعد کمیشن نے پہلے تین راستے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دئے کہ وہ قابل عمل نہیں ہیں ۔ اس لئے چوتھا ،پانچواں اور چھٹا راستہ قابل عمل ہے اور اسے ہی تلنگانہ مسئلہ کا ممکنہ حل سمجھا جائے۔ اس میٹنگ میں کئی ریاستی و قومی سطح کی پارٹیاں شامل نہیں ہوئیں۔تلنگانہ تحریک میں شامل اہم سیاسی پارٹی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی ( ٹی آر ایس) کے ساتھ ساتھ ٹی ڈی پی اور بی جے پی نے بھی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے میٹنگ کے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کو افسوسناک بتایا ۔ پانچ رکنی جسٹس سری کرشن کمیٹی نے 31دسمبر کو وزارت داخلہ کو کو اپنی رپورٹ سونپ دی تھی۔ کمیٹی نے حیدرآباد کے معاملے پر کئی تجاویز پیش کی ہیں ۔ ان میں ایک یہ ہے کہ حیدرآباد کو مرکز کا زیر انتظام علاقہ بنانے کی بھی تجویز شامل ہے ۔ میٹنگ میں ریاست میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی ، پرجا راجیم پارٹی ( پی آر پی) ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی ( سی پی ایم) مجلس اتحادلمسلمین ( ایم آئی ایم) اور لوک ستا کے نمائندے شامل تھے۔ ان تمامسیاسی پارٹیوں نے کہا کہ رپورٹ پڑھنے کے لئے وقت درکار ہے اسی کے بعد اس پر کوئی خیال ظاہر کیا جاسکتا ہے اور تبھی اس پر عمل آوری کے لئے اگلا قدم اٹھایا جائے۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment