Friday, January 07, 2011

جامع مذاکراتی عمل کی بحالی کی ہندستانی پیشکش پر پاکستان کی سرد مہری

نسیم احمد
وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام متنازع امورپربات چیت کیلئے اےک بار پھر آمادگی کا اعادہ کیاہے اور اس حوالے سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ بھی کیا ہے ۔ اس پیشکش پر پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے اپنی نیت ظاہر کردی ہے۔ اسی لئے ہندستان کے مرکزی وزیر خزانہ پرنب مکھر جی اور خارجہ سیکرٹری نروپما راو نے جامع مذاکراتی عمل کی بحالی کو پاکستان کے مثبت ردعمل سے مشروط کرتے ہو ئے کہا ہے کہ پاکستان کو ہندستان کیخلاف دہشت گردی بند کرنا ہوگی کیونکہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا نہ دینے کی وجہ سے دونوں ممالک میں اعتماد کا فقدان ہے۔
پاکستان ممبئی حملوں کی سازش تیارکرنے والے لوگوں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کرنے میں ناکام ہوگیا اور وہ اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔ پاکستانی حکومت ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف مخصوص وقت کے اندر اندرکارروائی عمل میں لانے اورہندستان مخالف دہشت پسندانہ کارروائیوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کا اعلان کرنے سے بھی بچ رہی ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے الزامات بے بنیاد ہیں کہ ہندستان میں حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل کی بحالی میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ پاکستان کو اپنی سرزمین پرہند مخالف دہشت گردانہ سرگرمیوں پر قدغن لگاکر اس کے ڈھانچے کو فوری طور پر منہدم کرنا چاہیے اور دو سال قبل ہوئے ممبئی حملوں میں ملوث سازشی عناصرکو منظر عام پر لاکر ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہے،دہشت گردی کے حق میں کسی بھی طورکوئی جواز پیدا نہیں کیا جاسکتا، چاہے یہ ملکی سطح پر ہو یا غیر ملکی سطح پر۔ ہندستان نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بہتر رشتوں کی کوشش کی، ہندستان تمام تنازعات کو آپس میں حل کرنے کے لیے بات چیت کو تیار ہے، سوال جامع مذاکرات کا ہے جو26/11کے حملوں کے بعد سے معطل ہیںہندستان ہرمعاملے پربات چیت کیلئے تیار ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان مذاکرات کی میزپر آنا نہیں چاہتا اور ابھی تک پاکستان نے مذاکرات کی بحالی کیلئے کوئی جواب نہیں دیا علاوہ ازیں پاکستانی وزیرخارجہ کو طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوری میں ہندستان کے دورے پرآنا ہے تاہم ابھی تک اس بارے میں بھی حتمی فیصلے سے ہندستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے اس پیشکش کے جواب میں سرحد پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے اپنی نیت ظاہر کردی ہے۔ پاکستان نے دسمبر کے آخری ہفتے میں24گھنٹے کے وقفے میں دوبار دو طرفہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد کے رام گڑھ میں ہندوستانی چوکیوںپر فائرنگ کی جہاں سمبا ضلع کی بلاد سرحدی چوکی پر تقریباً45منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔جموں کے شمال مغرب میں 45کلو میٹر کی دوری پر واقع بلاد سرحدی چوکی پر پاکستانی فوج نے یہ فائرنگ در اندازوں کے ہند میں داخل ہونے کے لئے وہاںتعینات فورس کی توجہ بھٹکانے کے مقصد سے کی تھی۔اس سے قبل بھی پاکستانی فوج نے پونچھ ضلع میں لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی چوکیوں پر فائرنگ کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔
حقیقت میں پاکستان بیرونی خطرہ سے زیادہ اندرونی خطرہ سے دوچارہے تاہم پاکستانی حکام میںسنجیدگی کا فقدان ہے۔ مذہبی انتہا پسندی، خاص طور پر طالبان اور القاعدہ مکتبہ ہائے فکر، پچھلے تیس برسوں میں ہونیوالی خرابیوںاور انتہا پسندانہ رو ےے کی حوصلہ افزائی سے چشم پوشی نے مزید بگاڑ پیداکیا ہے۔پاکستان جغرافیائی طور پر اتنا مالامال ملک تھا جو مشرق و مغرب کے سنگم پہ واقع ہونے کی وجہ سے ہندستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان ایک پل بن سکتا تھالیکن مشترکہ اسٹرٹیجک وسعت، افغانستان میں غیر ضروری دلچسپی اور ہندستان سے نمٹنے کیلئے پالی گئی خوفناک خواہشوں نے پاکستان کودہشت کی آماجگاہ اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔
پاکستانی حکام کو پر امن بقائے باہم کے اصول کو مقدم رکھتے ہوئے ملک کو انتہا پسندی کے عذاب سے نکالنا چاہئے۔سیاسی اعتبار سے بھی پاکستان اس وقت اکھاڑہ بنا ہوا ہے جہاںچھ بڑے کھلاڑی برتری کے لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔ان میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن) ، مسلم لیگ(ق)سیاسی کھلاڑی کے طور پر اور غیر سیاسی کھلاڑیوں میں پاک فوج، عدلیہ اور میڈیا شامل ہیں۔ بیرونی محاذ پر امریکہ ، سعودی عرب اور چین بڑے کردار ہیں،ان تمام کھلاڑیوں کو مقابلے کی صورتحال کا سامنا رہتا ہے اور یہ اپنے لئے بہترین لائحہ عمل کا تعین کرتے ہیں، ان میں سے ہر کوئی اپنے اقدامات پر دوسروں کے ردعمل کا پہلے سے بندوبست کرکے اپنے فائدے کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان آرمی کو اس اکھاڑے کا رنگ ماسٹر کہا جا سکتا ہے، فوج طویل عرصے تک ملکی سیاست اور معیشت پر حاوی رہی ہے، فوج ملکی معیشت میں گہری دلچسپی رکھتی ہے ۔جیسے ”رول ماڈل“ ہوں گے ویسا معاشرہ ہی معرض وجود میں آئے گا۔ اوپر افراتفری انتشار ہوگا تو نیچے بھی یہی کچھ دکھائی دے گا۔ اوپر حیوانیت طاری ہوگی تو نیچے بھی حیوانیت ہی جاری و ساری ہوگی۔اس سبب ہی2001 سے لے کر اب تک کے سالوں میں 2010 پاکستانی عوام کیلئے بدترین خونیں سال ثابت ہواہے جس میںاب تک ملک کے مختلف حصوں میں ہونیوالے50سے زائد خود کش دھماکوں میں تقریباً1400 پاکستانی ہلاک ہوئے اور تقریباً 2500افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح 2010 میں ایک بمبار نے اوسطاً ہر ہفتے 23 سے زیادہ اور ہر روز 3 افراد کو ہلاک کیا۔ 2010 میں اوسطاً ہر ماہ 4 خود کش حملے ہوئے۔عام ہلاک شدگان میں 151 شیعہ ‘ 103 احمدی یا قادیانی جبکہ 81 بریلوی مسلمان تھے۔ پاکستان میں2010 میں دہشت گردی کے تمام پچھلے ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے۔اس دوران صحافی برادری کو بھی نہیں بخشا گیا۔2010میں105صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں میں 529صحافی قتل کر دیئے گئے۔ گزشتہ برس پاکستان اور میکسیکو صحافیوں کے لیے قاتل ترین ممالک ثابت ہوئے۔جہاں پیشہ ورانہ فرائض کے دوران105صحافیوں کو ہلاک کر دیا گیا۔2009کی نسبت یہ سال صحافیوں کے لیے بھی ویسا ہی خطر نا ک رہا،2009میں122 جب کہ 2008میں91صحافی اپنی ڈیوٹی کے دوران ہلاک کر دیئے گئے تھے۔
دنیابھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے سروے رپورٹس تیار کرنے والے بین الاقوامی ادارے میپل کرافٹ نے سال 2010 کی اپنی رپورٹ میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کے حوالے سے پاکستان کو دنیا کے پہلے3 ممالک میں شامل کیا ہے۔ جب کہ مجموعی طو پر ہندستان کا نمبر21 واں ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے میپل کرافٹ(Maplecroft) نامی ادارے نے ہیومن رائٹس رسک اٹلس2011 جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان، چین، روس، کولمبیا، بنگلہ دیش، نائیجریا میں انسانی حقوق کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدترین انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کا شمار تیسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان سے بدتر حالات صرف کانگو اور صومالیہ میں ہیں۔اسلامی ملک ہونے کا دعوا کرنے والے پاکستان میںایک کروڑ پاکستانی شراب نوشی کرتے ہیں اور وزراءبھی تقریبات میں شراب پیتے نظر آتے ہیں۔ پرویز مشرف نے شراب کے شوق کو چھپانے کا زیادہ اہتمام نہیں کیا۔ پاکستان میں1977سے شراب پر پابندی عائد ہے لیکن اس قانون کو نظر انداز کردیا گیا۔ شراب وافر مقدار میں ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہے۔ شادیوں اور تجارتی تقریبا ت میں ویٹرز مہمانوں کوشراب پیش کرتے ہیں۔ وزراءتقریبات میں سرعام شراب نوشی کرتے ہیں ۔ پاکستان کے29سالہ ایک ٹیسٹ بالر بھی راولپنڈی میں شراب کے نشے میں دھت پائے گئے تھے۔ پاکستان میں آخری بار شراب نوشی کے جرم میں کوڑوں کی سزا ضیاءالحق کے دور میں80کی دہائی میں دی گئی تھی۔ اب پاکستانی معاشرے کا مزاج تبدیل ہو گیا ہے۔ مشرف نے شراب کے شوق کو چھپانے کا زیادہ اہتمام نہیں کیا اور نہ ہی ان کے بعد آنے والے صدر زرداری نے۔کچھ عرصہ قبل ارکان پارلیمنٹ نے شراب کے قانون کو ختم کرنے کی تجویز دی لیکن طالبانائزیشن کے فروغ کے خوف سے ایسا نہ کرسکے۔ اس وقت پاکستانی حکمراںحکمرانی کرنے میں مست ہیں، اصولی سیاست کے نام پر اپنی کم ہمتی، اپنی کوتاہ نظری اور اقتدار کی ہوس کو چھپا رہے ہیں، اس کے علاوہ ساری پارٹیاں اپنے مفاد کے تحفظ میں الجھی ہوئی ہیں ملک کا مفاد ا ±ن کے پیش نظر اتنا نہیں ہے جتنا کہ اس وقت ہونا چاہئے ضرورت ہے کہ پاکستانی حکام ہندوستان کے ساتھ اعتماد کے فقدان کا خاتمہ کرکے منجمد خارجہ پالیسی میں تحریک پیدا کریں ۔
(مضمون نگار سے 09873709977یا naseem987@yahoo.co.in یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)
 

0 comments:

Post a Comment