Tuesday, January 25, 2011

ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم تاریخ دوہرا سکتی ہے


ٹیم انڈیا ایک بار پھر جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کھا گئی، لگاتار دو مےچ جےتنے کے باوجود ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا پانچوں ون ڈے اور سیریز ہارنے کاذمہ دار بلے بازوں کو ٹہراتے ہوئے ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ بلے بازوں کی ناکامی کا ٹیم کو بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا۔ دھونی نے مےچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ بلے بازی کے لحاظ سے پوری سیرز ہی مایوس کن رہی گیند باز نہ صرف وکٹ لے رہے تھے بلکہ بلے بازوں کا کردار بھی ادا کر رہے تھے اور رنز بھی بنا رہے تھے۔ویسے کسی بھی ملک کے خلاف سیریز میں سبقت حاصل کر لینے کے بعد اسے گنوا دینا ہندوستانی ٹیم کی پرانی عادت ہے اور ایک بار پھر ایسا ہی ہوا۔ہندوستانی ٹیم کو دنیا کی سب سے مضبوط بلے بازی صف کی حامل ٹیموں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ غیر ملکی سرزمین پر فلاپ ہونے کے مرض سے چھٹکارہ نہیں پارہی۔ نوجوان کھلاڑیوں سے آراستہ اس ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری نئے بلے بازوں کو بڑے کھلاڑےوں کا ساتھ نہ مل پانے کی ہے۔ آخری دو میچوں میں وراٹ کوہلی اور یوسف پٹھان نے ہی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی لیکن ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی دونوں ہی بلے بازوں کو دوسرے اینڈ سے مدد نہیں ملی اور ٹیم کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا کپتان دھونی نے سےرےز ہارنے کے بعد کہا ، "ہمارے بلے بازوں نے ہمیں ایک روزہ میچوں میں مایوس کیا، ہارنے کا سب سے بڑا سبب یہی رہا، وراٹ اور یوسف کو چھوڑ کر کسی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تاہم ورلڈ کپ کے پیش نظر یہ کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ ایک ٹیم کے لئے سب سے اہم ہوتا ہے کہ اس کا کپتان عمدہ کارکدگی کا مظاہرہ کرے کیونکہ اسی سے پوری ٹیم کو ترغیب ملتی ہے لیکن دھونی اس معاملے میں کمزور رہے اور پوری سیریز میں ان کی بلے بازی فلاپ رہی وہ کبھی بلے بازوں کو تو کبھی گےند بازوں کو الزام دیتے نظر آئے لیکن انہوں نے کبھی خود ایک بڑی اننگز کھیل کر ٹیم کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کی دھونی کا اس سےرےز میں سب سے زےادہ اسکور 38 رن کا رہا. انہوں نے پانچ میچوں میں 15 کی اوسط سے 75 رنز بنائے۔ ٹےم انڈےا کے لئے شکست کا ایک بڑا سبب تھا شروعات میں وکٹ نہ لے پانا۔ اہم گےندباز ظہےر خان اوراشیش نہرا ٹیم کو اچھی شروعات دینے میں ناکام رہے ظہیر اور نہرا نے وکٹ تو لیے لیکن تب تک جنوبی افرقی بلے باز بڑا سکور بنا چکے ہوتے تھے ۔ہندوستانی ٹیم کے لئے سب سے اہم گےند باز ہربھجن سنگھ فارم میں نہیں تھے اور وہ اس دورے میں اپنی گےند بازی کا کمال دکھانے میں ناکام رہے ان سے بہتر پارٹ ٹائم گےند باز یوراج سنگھ کا مظاہرہ رہا جنہوں نے 5وکٹ لئے جبکہ ہربھجن سنگھ پانچ میچوں میں صرف 4وکٹ ہی لے سکے۔ ورلڈ کپ سے ٹھیک پہلے جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریزہارنے سے ٹیم انڈیاکی مشکلیں بڑھ گئی ہیںغیر ملکی سرزمین پر ناکامی کا بھوت ایک بار پھر دھونی اینڈ کمپنی پر بھاری پڑ گیالیکن شکست کے باوجود کپتان مہندر سنگھ دھونی کے لیے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مڈل آرڈر بلے باز محمد یوسف پٹھانزبردست فارم میں ہیں ۔سنچورین میں سنچری بنا کر پٹھان نے خود کو بھروسہ مند اور زبردست ہٹر ہونے کے ساتھ ساتھ آڑے وقتوں میں ٹیم کی نیا پار لگانے کی صلاحیت رکھنے والے بلے باز کے طور پر منوا لیا۔پٹھان نے نہ صرف بلے سے تعاون دیابلکہ ان کی اسپن گےند بازی بھی ٹیم کے لئے سود مند ثابت ہوئی۔یوسف پٹھان نے سےرےز مےں کھےلے تین ون ڈے میچوں میں 55.33 کی اوسط سے ایک سنچری سمیت 166 رن بنائے دوسری طرف نوجوان بلے باز وراٹ کوہلی نے پورٹ ایلزبتھ ون ڈے میں ناٹ آوٹ 87 رن کی اننگ کھےل کر کپتان دھونی کو راحت دی اور انہیں یقین ہو گیا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران ایشیائی پچوں پر وراٹ کا جادو سر چڑھ کر بولے گا۔یوراج سنگھ کا فارم میں آجانا اور ساتھ ہی لیفٹ آرم اسپنر کی شکل میں پانچویں بولر کا کردار بخوبی نبھانا بھی دھونی کے لئے اطمینان بخش ثابت ہوا۔ تےز گےند بازوں میں مناف پٹیل اور ظہیر خان کا مظاہرہ بہت شاندار رہا۔ مناف نے 18.72 کی اوسط سے 11 وکٹ لئے۔ورلڈ کپ سے ٹھیک پہلے ان کھلاڑیوں کا فارم میں آجانا نیک شگون ہے اور برصغیر میں ہونے والے اس ورلد کپ میں ان کھلاڑیوں کی مدد سے ٹیم انڈیا 1983کی تاریخ دوہرا سکتی ہے۔ ( یو ٹی این)

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment