Friday, January 21, 2011

پاکستان توہین رسالت قانون میں ترمیم کرے



ویٹی کن سٹی:( یو ٹی این) پوپ بینڈکٹ xviنے پاکستان کو تلقین کی ہے کہ وہ توہین رسالت قانون میں ترمیم کرے کیونکہ اس قانون کی آڑ میں غیر مسلوں کے خلاف پر تشدد کارروائی کی جاتی ہے۔پوپ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تمام حکومتیں ایسے حالات پیدا کریں کہ عیسائی بغیر خوف و دہشت کے اپنی عبادت کر سکیں۔پوپ نے سفیروں سے اپنے خطاب میں ایک بار پھر آزادی مذہب کی اپیل کی اور کہا کہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کا قانونی اور عملی طور پر تحفظ ہونا چاہئے۔مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں پر حملوں کی لہر کی مذمت کرتے ہوئے پوپ نے انتباہ دیا کہ مذہبی تعصب اور عدم رواداری عالمی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔انہوں نے چین سے نائیجیریا تک عیسائیوں سے نانصافی کی لہر کا ذکر کرتے ہہوئے تمام حکومتوں سے کارروائی کرنے کو کہا ۔انہوں نے مصر اور عراق میں عیسائیوں پر حالیہ حملوں کا خاص طور پر ذکر کیا ان حملوں کی وجہ سے عیسائیوں کو جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ عیسائی ان ملکوں کے معاشرے کے اصلی ممبر ہیں اور وہ ان ملکوں میں تمام شہری حقوق کے ساتھ رہنے کے مستحق ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یکے بعد دیگرے یہ حالیہ حملے اس امر کے متقاضی ہیں کہ خطہ کی حکومتیں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کریں۔انہوں نے جزائر عرب کی حکومتوں سے اپیل کی کہ عیسائیوں کو چرچ بنانےمیں اجازت دی جائے کیونکہ سعودی عرب میں انہیں صرف گھروں میں عبادت کرنے کی اجازت ہے۔انہوں نے مذہب پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہئے کہتے ہوئےچین کا ذکر کیا کہ بیجنگ حکومت چین میں کیتھولک چرچوں کو اپنے زیر انتظام لئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے چین اور ویٹیکن سٹی میں کشیدگی ہے۔پوپ بینڈکٹ نے پاکستان سے کہا کہ وہ ناموس رسالت قانون میں،جس کی رو سے اسلام کی توہین کرنے والے کو سزائے موت دی جاتی ہے،ترمیم کرے اوراس سلسلہ میں انہوں نے ناموس رسالت قانون میں ترمیم کرنے کی جدوجہد میں لگے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کی حالیہ ہلاکت کا ذکر کیا۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ ان مقامات پر جہاں تمام مذاہب اتنے غیر اہم ہو گئے ہیں کہ معاشرہ میں وہ اجنبی یا غیر مستحکم ہو رہے ہیںمذہبی آزادی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے یورپ اور مغرب کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment