Monday, January 24, 2011

بھاجپا لیڈروں کو جموں ہوائی اڈے سے باہر نہیں جانے دیا گیا


نئی دہلی: یوم جمہوریہ کے موقع پر سری نگر کے لال چوک پر ترنگا لہرانے کامعاملہ سلجھنے کے بجائے نہ صرف الجھ رہا ہے بلکہ اس نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب ایکتا یاترا میں شامل ہونے کے لئے کشمیر جانے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر لیڈروں سشما سوراج، ارون جیٹلی اور اننت کمار کو جموں ہوائی اڈے پر ہی روک لیا گیا۔ان لیڈروں کو جموں ہوائی اڈے پر ہی روک لئے جانے کی خبر پھیلتے ہی جموں کے بی جے پی کے کارکن سڑکوں پرآگئے اورنعرے بازی شروع کر دی۔ ان لیڈروں کو ایکتا یاترا کی قیادت کرنے والے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے صدر انوراگ ٹھاکر سے ملاقات کرنے تھی۔ اننت کمار نے کہا کہ عمر عبداللہ حکومت نے جموں و کشمیر میں ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ان کا طیارہ اترا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ طیارے میں داخل ہوا اور انہیں واپسی کے آرڈر تھما دیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی پرچم لہرانے میں کیا قباحت ہے ۔ یہ عمر عبداللہ اور مرکزی حکومت کا فرض ہے کہ وہ قومی ترنگا لہرانے والوں کی حفاظت کرے۔دریں اثنا انوراگ ٹھاکر نے اعلان کیا ہے کہ لال چوک پرترنگا لہرانے کی مخالفت کرنے والی کانگریس کو لال قلعہ کی دیوار پر پرچم لہرانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ، 'اب چاہے جان چلی جائے ، کولکاتہ سے شروع ہوئی ایکتا یاترا نہیں رکے گی لیکن بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے اسے غلط بتایا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی کو یاترا روک دینی چاہیے۔جموں سے سری نگر کے درمیان منگل کو ٹریفک نظام درہم برہم رہے گا کیونکہ بی جے پی کی ترنگا یاترا کے پیش نظر ریاستی پولیس نے امن وقانون برقرار رکھنے کے لئے ٹریفک کو ون وے کر دیا ہے۔ جموںو کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ریاست میں امن و قانون کی صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے اعلی سطحی اجلاس طلب کر لیاہے۔
Read In English

For news in Urdu visit our page : Latest News, Urdu News

0 comments:

Post a Comment