Friday, January 21, 2011

کشمیر تنازعہ پاکستان کا ہی پیدا کردہ ہے


Root cause: Nasir Ansari believes the problems in Kashmir are caused by Pakistan's policy of armed aggression(ڈاکٹر شبیر چودھری ایشین افیرس)
ناصر انصاری ایک قوم پرست ، مفکر اور ایک خاص نظریہ کے حامل سمجھے جانے والے ایک کشمیری مصنف عبد الخالق انصاری کے بیٹے ہیں۔خالق انصاری وہ کشمیری مصنف ہیں جنہوں نے متحد اور آزاد جموں و کشمیر کی خاطر اپنی زندگی داﺅ پر لگا دی۔مقبول بھٹ کم و بیش تمام قوم پرست کشمیریوں کا لیڈر تھا لیکن خالق انصاری مقبول بھٹ کے بھی لیڈر تھے۔خالق اور ان کے قبیلے کے افراد کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بہت پریشان کیا اور ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں تھا۔ نہ تو انہوں نے پاکستان کے خلاف کبھی ہتھیار اٹھائے اور نہ ہی ہندوستان سے کسی قسم کی کوئی امدا د، خواہ وہ مالی ہو یا کوئی اور امداد ہو، حاسل کی۔انہیں اور ان کے افراد خاندان کو ان کی پارٹی جموں و کشمیر پلیبیسائٹ فرنٹ کے لیڈروں کے ہمراہ مختلف اذیتیں پہنچانے کے لئے قائم سیلوں میں ڈالا گیا اور وہاں ان پر کئی مہینوں تک تشدد کیا گیا۔کئی کتابچوں میں شائع ہوئی روداد کے مطابق ان اذیت گاہوں میںوہ بڑے اذیت ناک دور سے گذرے اور ان پر اس قدر ظلم و ستم کیا گیا کہ ان مظالم کے سامنے نازیوں کے مظالم بھی ہیچ ہیں اور ان کے مقابلے میں نازی زیادہ رحمدل اور نرم دل کہے جا سکتے ہیں۔
پھر بھی خالق اور ان کے ساتھیوں نے یہ سب کچھ ہنسی خوشی اور صبر و تحمل سے برداشت کیا اور انہیںفخر تھاکہ انہوں نے یہ تمام مصائب ایک آزاد کشمیر کے لئے جھیلے ہیں جس نے آزاد کشمیر کے عوام کو ایک نئی سوچ اور تحریک دی۔اپنی تنظیم کے منتشر ہو جانے اور دیگر قبیلوں اور عوام تک اپنی تحریک پہنچانے میں ناکامی کے باوجود کوئی بھی خالق انصاری کے عزم و حوصلے، خود کو تحریک کے لئے وقف کردینے اوران کی یک جہتی و خلوص کو چیلنج نہیں کر سکتا ۔ناصر انصاری سے میری پہلی ملاقات کچھ سال قبل اس وقت نیو یارک میں ہوئی جب ہم وزارت خارجہ اور کچھ امریکی مفکرین و دانشوروں سے ملاقات کے لئے گئے۔میں نے اسے بہت جلد گھل مل جانے والا، قابل تعریف حد تک خود کو وقف کردینے والا اور انسان دوست پایا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ کشمیر تنازعہ اصل میں کیا ہے اور مسائل کہاں کہاں ہیں۔آزاد کشمیر اور بلتستان کے مطالعاتی دورے کے دوران اس کے ساتھ دو بار ملاقات کا وقت طے ہو جانے کے باوجود میں ناصر سے ملاقات کرنے میں ناکام رہا۔عام طور پر میں وقت کا بہت پابند رہتا ہوں اور جس سے ملاقات طے ہو چکی ہوتی ہے اس کے مطابق اس سے ملاقات کو جاتا ہوں۔لیکن آزاد کشمیر اور پاکستان میں وقت کی قلت کی وجہ سے طے پروگرام کے مطابق ملاقات ممکن نہیں تھی۔ اور جب آخر کار میں ناصر سے دوبارہ ملا تو میں نے اس سے ملاقات نہ کرنے کی معذرت کر لی۔
پوری گفتگو کے دوران ناصر نے قطعیت سے کہا کہ کشمیر تنازعہ کا دو قومی نظریہ سے کوئی سروکار نہیں ہے اور ان ہی اس سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔اس نے کہا کہ تنازعہ کا تعلق ہمارے پیدائشی حق خود مختاری سے ہے۔1947میں ہم آزاد تھے۔ پاکستان نے جوں کی توں حالت معاہدے(standstill agreement)کی خلاف ورزی کی اور جموں و کشمیر پر بلا اشتعال حملہ کر دیا۔ کشمیر مسئلہ پاکستان کا ہی پیدا کردہ ہے کیونکہ حملہ ہونے کی وجہ سے جموں و کشمیر کے مہاراجہ نے ہندوستان سے مدد مانگی۔ اگر یہ قبائلی حملہ نہ ہوا ہوتا تو ہم ایک آزاد ملک ہوتے۔با الفاظ دیگرہماری پریشانیوں اور مسائل کی اصل جڑ وہ پاکستانی پالیسی ہے جو اس نے جارحیت کے ذریعہ کشمیر پر تسلط کے لئے وضع کی ہوئی ہے۔
ناصر اس بات پر اڑا ہوا تھا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ جموں و کشمیر میں رائے شماری ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں پاکستان کو جموں و کشمیر کے وہ تمام علاقے خالی کرنے پڑیں گے جو اس کے قبضہ میں ہیں اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ وہ رائے شماری میں ہار جائے گا۔
ناصر نے مزید کہا کہ مہاراجہ کے خلاف 1931کی تحریک بنیادی حقوق انسانی کے لئے نہیں بلکہ یہ دراصل مہاراجہ یا ان کا تختہ پلٹنے کے لئے تھی ہمیں ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ مہاراجہ بھی اسی سرزمین کے سپوت تھے۔ اگر کچھ لوگ ان حقائق کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں یا کشمیر سے متعلق ا پنے ایجنڈے کے مطابق انہیںڈھالنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی اپنی رائے ہے۔
ناصر نے کہا کہ قبائلی لوگ ہمیں آزاد کرانے نہیں آئے جیسا کہ پاکستانی حکام کہتے آئے ہیں بلکہ انہوں نے ہمیں اپنا تابع اور غلام بنانے کی نیت سے ہماری مادر وطن پر حملہ کیا تھا۔ جموں و کشمیر پر دو ملکوں کا قبضہ ہے اور کچھ کشمیریوں کی یہ سوچ اور پالیسی غلط ہے کہ وہ ایک غاصب کو فرشتہ اور دوسرے کو شیطان قرار دیں۔ہمیں اس حقیقت سے باخبر رہنا چاہئے کہ دونوں ملکوں کے جموں و کشمیر سے مفادات وابستہ ہیں اور دونوں میں ملی بھگت ہے اور دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اوروہ ہماری جدوجہد کو دہشت گردی کا نام دے کر اسے تباہ کر رہے ہیں۔جب اس سے یہ معلوم کیا کہ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے تو اس کا کیا فیصلہ ہوگا تو اس نے کہا کہ یہ ہمارے حق خود مختاری اور ہماری جد وجہد کی توہین ہے۔ ناصر نے کہا کہ یہ تو ایسی ہی بات ہوئی کہ قیدی سے پوچھا جائے کہ دو جیلروں میں سے اسے کون سا جیلر پسند ہے یا کسی قیدی سے یہ معلوم کیا جائے کہ اسے کون سی جیل اچھی لگتی ہے۔
ناصر کو یقین ہے کہ ہر وہ شخص جو آزاد کشمیر کا متوالا ہے اور اس کاز کی کامیابی کے لئے اس نے عزم کیا ہوا ہے اور اس کی کوئی سیاسی حیثیت بھی ہے تو اس پر کسی کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام عائد کر دیا جاتا ہے اور کشمیر نواز پالیسیوں کو فروغ دینے والے اصل کشمیریوں کو بدنام اور رسوا کرنے کے لئے یہ سب کیا جاتا ہے۔تاہم یہ بھی سچ ہے کہ کچھ عناصر خفیہ ایجنسیوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور کشمیری جدوجہد کو نقصان پہنچا چکے ہیں۔اس نے مجھ سے کہا کہ کوئی بھی آسانی سے یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ ڈاکٹر شبیر چودھری کسی کی ایماءپر ایک سروے کر رہا ہے اور رپورٹ تیار کر رہا ہے اور یہ بات آپ کو دفاعی حالت میں لاکھڑا کرے گی۔ناصر نے کہا کہ میری تمام قوم پرستوں سے درخواست ہے کہ وہ کسی کے بھی خلاف کسی ثبوت اور مناسب تفتیش کے بغیر الزامات عائد نہ کریں۔وادی کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آزاد کشمیر والوں نے آزادی کے لئے کچھ نہیں کیا جبکہہم نے انتہائی نامساعد حالات میںآزاد کشمیر کے کاز کے لئے زبردست جدوجہد کی ہے۔یہ ہم ہی ہیں جو جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں جبکہ وادی کی اکثریت جوں کی توں حالت کو تقریباً قبول کر چکی ہے۔ناصر نے کہا کہ منقسم کشمیر کے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم ایک دوسرے کو سمجھ سکیںاور اپنے اعزاءو اقرباءاور دوست احباب سے ملاقاتیں کر سکیں۔اس مقصد کے لئے دونوں خطوں میں آمد و رفت آسان بنائی جائے۔ وادی میں جانے کی کچھ درخواستیں درخواستوں کے اندراج سے پہلے ہی مسترد کر دی جاتی ہیں۔عام طور پر ایک درخواست دہندہ کو 8فوٹو،8شناختی ثبوت اور 8فارم دینے ہوتے ہیں اور دونوں مللکوں کی ایجنسیاں ویزا جاری کرنے سے پہلے مکمل تحقیقات کرتی ہیں۔یہ طریقہ بہت نامناسب اور لمبا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس سے خفیہ ایجنسیوں کو بہت سے اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی پریشانی اٹھاتا ہے۔
(مضمون نگار نے مشہور و معروف قوم پرست کشمیری خالق انصاری کے بیٹے ناصر انصاری سے ایک یادگار ملاقات کو قلمبند کیا ہے)
Read In English

0 comments:

Post a Comment