Wednesday, January 12, 2011

آخر سوربھ گنگولی کا کیا قصور تھا کہ کسی ٹیم نے انہیں نہیں خریدا

WHY SAURAV GANGULI SHOWN THE DOORسید اجمل حسین
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی جاندار یا بے جان شے کی خواہ وہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ اس کی نیلامی میں ہر خریدار اپنی پسند نا پسند کا اظہار کرنے اور نیلامی میں رکھے سامان کی بولی لگانے نہ لگانے کا اختیار رکھتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہوتا کہ کوئی شے کافی مشہور ہو اور کافی کارآمد بھی ہو پھر بھی بولی لگانے والی پارٹیوں میں سے کوئی اس کی بولی لگانا تو دور کی بات اس پر نظر ڈالنا بھی گوارا نہ کرے ممکن نہیں ۔ لیکن آئی پی ایل کے چوتھے ایڈیشن کے لئے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران کئی انٹر نیشنل کھلاڑیوں خاص طور پر سوربھ گنگولی کو جس طرح حقارت بھری نظروں سے دیکھا گیا اور کسی فرنچائزی نے ان کی بولی نہیں لگائی اس سے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور ہندوستان کا سابق کپتان جس نے محمد اظہر الدین کے بعد نہ صرف سب سے زیادہ ٹورنامنٹ جیت کر ٹرافیوں کوہندوستانی کرکٹ بورڈ کے دفتر کی زینت بنایا بلکہ ملک کے کچھ نوجوان اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ایسی حوصلہ افزائی کی اور کھلاڑیوں میں ایسا جوش و جذبہ پیدا کیا کہ ان میں جیت کی امنگیں ایسی جاگ اٹھیں کہ آج ٹیم انڈیا ہر قسم کی کرکٹ میں اپنی دھاک جما رہی ہے اور ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی اور ون ڈے میچوں کی رینکنگ میں دوسری پوزیشن پر ہے وہ سیاسی سازش کا شکار ہو گیا۔اگر صرف کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے ہی انہیں نظر انداز کیا ہوتا تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے تین سال کے بعد ان کی جگہ دوسرے کھلاریوں کو لینے کو ترجیح دی لیکن ہر ٹیم ان کو نظر انداز کرے تو اس سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ سیاست کی بھینٹ چڑھے ہیں ۔لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کہنے کو تو آئی پی ایل صرف کرکٹ کے کھیل کی ہے لیکن چونکہ اس نے کاروباری شکل اختیار کرلی ہے اور اس میں دولت کی چمک دمک دیکھ کر صنعتکار ہی نہیں بلکہ فلم اسٹار تک دولت کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے چھلانگ لگا چکے ہیں اس لئے ہر ٹیم کے مالکان کھلاڑیوں کے کھیل کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کھلاڑی کی سیرت پر بھی گئے تو اس میں سوربھ گنگولی کے شاہانہ اور ہٹ دھرمی کے رویہ نے شائد ہر فرنچائزی نے انہیں شجر ممنوعہ گردان کر ادھر رخ نہ کرنے میں ہی عافیت جانی ہوگی کیونکہ اگر محض صلاحیت و پرفارمنس اور کھلاڑی کی شہرت و مقبولیت کو ہی معیار بنایا گیا ہوتا تو سوربھ گنگولی کو نظانداز کرنا ناممکن تھا کیونکہ گذشتہ آئی پی ایل میں سوربھ گنگولی نے 493رنز بنائے تھے جو اس سیزن میں کسی کھلاڑی کے ذریعہ بنائے گئے سب سے زیادہ انفرادی رنز تھے اور جہاں تک مقبولیت اور شہرت کا سوال ہے تو پورا مغربی بنگال اور ملک کے مختلف حصوں میں کرکٹ شیدائیوں کی اکثریت انہیں بہت پسند کرتی ہے کیونکہ سوربھ گنگولی میں بے پناہ خوبیاں ہیں وہ ایک اچھے اور جوشیلے کپتان بھی ہو سکتے وہ اننگز کا آغاز بھی کر سکتے ہیں اور مڈل آرڈر کے بھی کامیاب بلے باز ہو سکتے ہیں اور وقت ضرورت ہی جز وقتی بولر کی طرح نہیں بلکہ ایک ریگولر بولر کا بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود سوربھ گنگولی کو درخوراعتنا نہ سمجھنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ سوربھ گنگولی کا شاہانہ دماغ اور خود سری و بد دماغی ان کے لئے مائنس پوائنٹ بن گئی کیونکہ کوئی بھی فرنچائزی نہیں چاہے گا کہ اس کی ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہو ۔ اور سوربھ گنگولی کا کولکاتا نائٹ رائیڈرز کا کوچ اور ٹیم مالکان سے تینوں سیزن میں جو تنازعہ رہا اور جس طرح میڈیا میں اس تعلق سے خبریں آئیں اس نے تمام ٹیموں کے مالکان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہوگا جس کی وجہ سے ایک اچھے کرکٹر سے کرکٹ شیدائی قبل از وقت محروم کر دئے گئے۔لیکن اس چوتھے ایڈیشن میں ایک بات نمایاں طور پر سامنے آئی کہ اس بار غیر ملکی کھلاڑیوں کی نسبت ہندوستانی کھلاڑیوں کی زبردست ڈیمانڈ رہی جس کی وجہ سے کرس گیل، برائن لارا، سنتھ جے سوریہ اور چمندا واس جیسے کھلاڑیوں کا کوئی خریدار نہیں تھا۔ اس سارے کھیل میں ہندوستان کی پٹھان فیملی کی سب سے زیادہ کمائی ہوئی ۔ دونوں پٹھان برادران عرفان اور یوسف پٹھان نے 4لاکھ ڈالر (یوسف 2.1اور عرفان 1.9ڈالر) کمائے۔ ان دونوں کو مجموعی طور پر 18کروڑ سے بھی زائد روپے ملے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان دونوں پر زبردست دباﺅ بڑھ گیا کہ وہ اپنی اتنی بھاری قیمت کا جواز اچھی پرفارمنس دے کر پیش کریں اور و ¿ئی پی ایل کے بعد انٹرنیشنل سطح پر بھی ملک کے لئے بیش قیمت اثاثہ ثابت ہوں ۔
شاہ ر خ خان کی کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے جن نئے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کی ہین ان میں دہلی کو اوپننگ بلے باز گوتم گمبھیر،رااجستھان رائلز کے یوسف پٹھان، بریڈ ہیڈن، بنگلا دیش کے ثاقب الحسن، رائل چیلنجرز بنگلور کے جیک کیلسکنگز الیون پنجاب کے بریٹ لی، ممبئی اندئینز کے منوج تیواڑی شامل ہیں۔ اس بار کی نیلامی میں گوتم گمبھیر سب سے مہنگے کھلاڑی ثابت ہوئے ان کی بنیادی قیمت 92لاکھ روپے تھی اور انہیں نائٹ رائیڈرز نے 11کروڑ میں خریدا جبکہ یوسف پٹھان کو شاہ رخ خان نے ہی 9کروڑ 70لاکھ روپے میں خریدا ان کی بنیادی قیمت 1کروڑ 40لاکھ روپے تھی۔ یہ اس بار کی آئی پی ایل کے دوسرے مہنگے ترین کھلاڑی ہیںجبکہ ان کے چھوٹے بھائی عرفان پٹھان کو دہلی ڈئیر ڈیولز نے 8کروڑ 70لاکھ میں خریدا ان کی بنیادی بولی 92لاکھ روپے سے شروع ہوئی تھی ۔دیگر کھلاڑیوں کی فروخت اس طرح رہی: تلک رتنے دلشان 3کروڑ(رائل چیلنجرز بنگلور)ظہیر خان 4کروڑ 10لاکھ(رائل چیلنجرز بنگلور) روز ٹیلر 4کروڑ 60لاکھ(راجستھان) کیون پیٹرسن 3کروڑ(دکن چارجرز) جے وردھنے 6کروڑ 90لاکھ ( کوچی) یو راج سنگھ 8کروڑ 30لاکھ (پنے ) ڈی ویلئیرز 5کروڑ 10لاکھ (بنگلور) کیمرون وائٹ 5کروڑ 10لاکھ (دکن) روہت شرما 9کروڑ 20لاکھ ممبئی انڈئینز) اینڈریو سائمنڈز3کروڑ 90لاکھ (ممبئی) کمار سنگ کارا 3کروڑ 20لاکھ (دکن) ایڈم گلکرسٹ 4کروڑ 10لاکھ (پنجاب) راہل دراوڑ2کروڑ 30لاکھ (راجستھان) گریم اسمتھ 2کروڑ 30لاکھ(پنے) روبن اوتھاپا 9کروڑ 70لاکھ(پنے ) جان بوتھا 4کروڑ 40لاکھ (راجستھان) لکشمن 1کروڑ 84لاکھ(کوچی)ڈینیل ویٹوری 2کروڑ 50لاکھ (بنگلور) برینڈن میک کولم 2کروڑ 20لاکھ(کوچی) سر سانت 4کروڑ 10لاکھ(کوچی) آر پی سنگھ 2کروڑ 30لاکھ(کوچی)مائیکل ہسی 2کروڑ )چنئی) شان مارش 1کروڑ 84لاکھ(پنجاب) ڈومینی 1کروڑ 40لاکھ (دکن) شیکھر دھون 1کروڑ 40لاکھ (دکن) سوربھ تیواڑی 7کروڑ 40لاکھ(بنگلور) ڈیوڈ ہسی 6کروڑ 40لاکھ (پنجاب)ثاقب الحسن 2کروڑ (کولکاتا)پنے وارئیر کلب نے نیوزی لینڈ کے جیسی رائیڈر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر میں اور ہندوستانی اسپنر مرلی کارتک کو 4لاکھ ڈالر میں کرخرید لیا جبکہ سب سے آخر میں محمد کیف بھی رائل چیلنجرز بنگلور کی شکل میں خریدار پانے میں کامیاب ہو گئے وہ ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر میں بکے۔وی آر وی سنگھ سٹی تھیرن اور لینڈل سمنز کو بھی کسی نے نہیں خریدا۔اجیت اگرکر کو دہلی ڈئیر ڈیولز نے اویس شاہ کو کوچی نے اور مناف پٹیل کو ممبئی انڈئینز نے خریدا۔اس آئی پی ایل 4میں 10ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ۔ آئی پی ایل کے دوسرے دن کی نیلامی میں آسٹریلیا کے نوجوان بلے باز ڈینیل کرسٹیان سب سے مہنگے کھلاڑی رہے انہیں دکن چارجرز نے 9لاکھ ڈالر میں خریدا۔


For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu News

0 comments:

Post a Comment