Tuesday, January 04, 2011

رضائے الٰہی

وسیم
اجمان (یو اے ای)
اکثر و بیشتر ہم یہ سنتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے تما م کام اور اعمال ایسے ہونے چاہئیں جس سے خدا راضی ہو جائے اور ہماری آخرت سنور جائے۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا اور ہر مومن یہی چاہتا ہے اور اس کی جدو جہد بھی کرتا ہے۔تاہم جن موقعوں پریہمذکورہ جملہ رٹا جاتا ہے اس پر از سرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس مذکورہ بالا جملے کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہمیں ایک بچاﺅ کا راستہ فراہم کرتا ہے اور ساری بحث کایک لخت خاتمہ ہو جاتا ہے۔اس کو مزید طول دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ہماری تمام عملی زندگی کے پہلوﺅں کو اس ایک جملے سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایک یہ جملہ ہمارے مقصد کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔ہم اس جملے کی اہمیت و افادیت سمجھے اور اس پر غور کئے بغیر کہ اس کے ہم سے کیا تقاضے ہیں اور اس کو عمل میں کیسے بدلا جا سکتا ہے ا س جملے کابار بار استعمال کرتے ہیں۔”ہمیں اپنے مقصد ترجیحات اور ان کے حصول کے طریقہ کار کی بار بار تشریح نہیں کرنی چاہئے“ کو اس طرح پڑھا جائے” ہمیں اپنے مذہبی احکام و آدرشوں کومقدم رکھنے کے نظریہ سے اپنی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کے ساتھ انہیں نہیں جوڑنا چاہئے ۔“ہمیں بار بار یہبتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ ہم ان احکامات و آدرشوں کے مطابق کیسے خود کو ڈھال سکتے ہیں۔ ہمیں صرف ان کو رٹتے رہنا چاہئے۔یہ بالکل عین ان افراد کی منشاکے مطابق ہوگا جو اس کے لئے خود کو وقف کر چکے ہیں۔ان کے نقش قدم چلا جائے ورنہ آپ سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے۔کیا آپ اس سے واقف نہیں ہیں کہ شیطان ہمارا بڑا اور کھلا دشمن ہے۔ہم انتہائی خلوص نیت کے ساتھ نصیحت اور تلقین کرتے ہیں کہ پ سب سے پہلے تو ایمان کی بنیادوں کو سمجھا جائے۔ اگر ہم نے توحید کے مطلب کو اچھی طرح نہ سمجھا تو ہماری پوری زندگی ضائع ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ جملہ بہترین پند و نصیحت ہونے کے باوجوبحث کو قبل از وقت اور یک لخت ختم کر دیتا ہے۔ عام طور پر ہم اس کے بعد مزید سوالات نہیں کرتے۔ کوئی کیوں اور کیسے کا سوال نہیںکرتا۔ ہم اسے اس لئے بار بار دہراتے ہیں کہ ہم لا تعداد لوگوں کو بارہا اس جملے کورٹتے دیکھ چکے ہیں۔ یہ جملہ ہماری جلد پیچھا چھڑانے والی ذہنیت کی عکاسی اور آسان راستہ سے ہمارے لگاﺅ کی نشان دہی کرتا ہے۔یہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم راستے میں آنے والے پریشان کن مقامات و حالات کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں۔توحید کوئی زندہ جاوید سامنے نظر آنے والی شے نہیں ہے بلکہ غیبی خیال ہے۔ لیکن ہماری صوتیاتی سوچ اور اندازہ در حقیقت توحید کے تصور سے بالکل مختلف ہوتا ہے جبکہ توحید کے معنی ہرلحاظ سے( واحد ) ہے۔توحید کے بارے میں اور اس کے حوالے سے ہماری بحث جتنا ممکن ہے ہماری زندگی سے جدا ہےیہ من و عن عمل کی متقاضی ہے۔توحید کا مطلب ہر شے کو واحد جاننا ہے اور ہم توحید کو بذات خود کئی زمروں میں تقسیم کرچکے ہیں۔یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم ترجیحات کا احساس کھو چکے ہیںاور ہم نے اسے اہم اور غیر اہم زمرے میں خلط ملط کر دیا ہے۔ایمان اور اسلام کی بنیادی معلومات کو اہمیت دئے بغیر ہم اپنی آخرت نہیں سنوار سکتے۔ اس کے لئے خدا کا خوف لازمی شرط ہے۔ یہ بھی ایک خوبصورت نصیحت ہے کہ سب سے پہلے ہمیں اسیپر توجہ مرکوز کرنی چاہئے کیونکہمیدان حشر میں سوائے ہمارے اعمال کے کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا جو ہم صحیح معلومات سے ہی کر سکتے ہیں۔ہم اسے اپنی زندگی سے کیسے مربوط کر سکتے ہیں یہ ایک دوسرا معاملہ ہے۔اعمال صالحہ کیا ہیں وہ وضاحت کے متقاضی نہیں ہیں۔ہمیں تو صرف انہیں بار بارکرنے کی ضرورت ہے۔ہم اس نصیحت کو ذہن نشین رکھے بغیر ہر بات پر بخوشی بحث کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ہمیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ اسے زبان سے کہے بغیر اسے بتانے کی کوشش کی جارہی ہے ہم اچانک بیدار ہو جاتے ہیںاور تجزیہ کرتے ہیں کہ اسلام خطرہ میں ہے اور اس جملےکافوراً ورد کرناشروع کر دیتے ہیں تاکہ سوائے اس ایک جملے کی روح کے سب کچھ مکمل رہے۔ایمان و توحید سے واقفیت اور اللہ کے خوف کو دنیا میں اپنیکامیابی و کامرانی کی کنجی اور اسا س بتانے کے بعد اور اس کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہی ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس سے ڈرنا چاہئے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کامیابی کیا ہے اور ہمیں پیدا کرنے والے کو جاننا پہچاننا اور اس کا خوف ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی بنیاد ہے۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی نے مندرجہ بالا بات سننے کے بعد یہ معلوم کیا ہو کہ” کیسے“؟ اس قسم کا کوئی جملہ فوری طور پر ہر ایک کو ساکت و جامد کر دیتا ہے یا وہ خموشی اختیار کرلیتاہے۔اور ہم روشنی لئے گھر چلے جاتے ہیں۔ اور کیوں نہ جائیں۔ آخر کار دنیا دین سے جدا ہو گئی۔ہم اتحاد پیدا کرنے کے بجائے بانٹنے اور تقسیم کرنے میں مہارت جو رکھتے ہیں۔اور پھر بھی ہم توحید سے محبت رکھتے ہیں۔ایک ہی جھٹکے میں اپنے خالق کو راضی کرلینا ممکن نہیں ہے۔ یہ ہمیں اس دنیا اور عالم آب و گلمیںرہ کر ہی کرنا ہوگا۔ یہ زندگی میں ذمہ داریوں سے فرار کا بہانہ نہیں ہے یہ زندگی کا ایک چیلنج ہے۔ محض یہ جملہرٹ رٹ کر ہی اللہ کو راضی کرنا ممکن نہیں ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کوئی ڈاکٹر نسخہ لکھ دے اور ہم دوا خریدے بغیر صرف نسخہ رٹنے لگیں اور نسخہ کو رٹ رٹ کر مرض سے چھٹکارہ نہیں پا یا جا سکتا۔خالق کائنات کی خوشنودی خدا کی طرف سے ودیعت کی گئیں خوبصورت صلاحیتوں کو ضائع یا معطل کر کے حاصل کرنا ممکن نہیںہے۔رضائے الٰہی اللہ کی جانب سے تفویض کی گئیذمہ داریوں کی ادائیگی کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہ وہ فرائض و ذمہ داریاں ہیں جو عمر کے ہر حصہ میں بجا لانی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ خدا کی رضا اسی میں مضمر ہے کہ ہم تجزیہ کریں کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہ طویل زندگی انتہائی مختصر ہے۔
Read In English

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu News

0 comments:

Post a Comment