Tuesday, January 04, 2011

اسرائیل غزہ پر نئی جنگ میں پھر ناکام ہوگا

محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
ایک ایسا ملک جو اپنے وجود کو دنیا کے سامنے منطقی طریقے سے اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر آج تک ثابت نہیں کر سکا، مشرق وسطیٰ میں مسلسل جنگ و خونریزی کی وجہ بنا ہوا ہے ۔ یہ ملک تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے۔ فلسطینی عوام پر مظالم کے علاوہ وہ لبنان پر حملہ کرتا ہے اور شام کی گولان پہاڑیوں پر قابض رہتا ہے اوردنیا کا نام نہاد سپر پاور امریکہ نہ صرف ان مظالم پر خاموش رہتا ہے بلکہ اس کی حفاظت کے لئے کبھی عراق۔ایران جنگ کراکے پورے خطے کے مسلم ممالک کو کمزور کر تا ہے اور کبھی عراق اور افغانستان پرقابض ہوجاتا ہے۔ وہی انسانی حقوق کا نام نہادعلمبردار مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لئے ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر ایٹم بم بنانے کاالزام کے سہارے خطہ میں ہتھیاروں کی دوڑ میںاضافہ کرتا ہے۔ اسی میں دشمن کو اپنے ہتھیار فروخت کرنے اور اسرائیل کے خلاف ابھرتی ہوئی ممکنہ طاقتوں کو کمزور کرنے میں کامیابی ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔
اسرائیل کو جسے دنیا میں چوتھے نمبر کی فوجی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا تھا ‘ 2006میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے اور 2008میں غزہ میں حماس نے جیسی ذلت آمیز شکست دی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ چند ماہ قبل اسرائیل نے غزہ کو انسانی کمک پہنچانے والے فلوٹیلا قافلے پر جس طرح وحشیانہ حملہ کر کے کئی افراد کا قتل کیا اور قبلہ اول مسجد الاقصیٰ کی تباہی کا جس طرح پلان افشا ہوا ہے اس سے اسرائیل کے ناپاک ارادے دنیا کے سامنے واضح ہو چکے ہیں۔
24دسمبر کو ملی خبر کے مطابق اسرائیل غزہ کے نزدیک ایسے ٹینک تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جن پرمیزائل شکن نظام نصب ہوگا ۔خدشہ ہے کہ اس نظام کے نصب کئے جانے کے بعد اسرائیل فوجی کارروائی تیز کرے گاجس سے جنگی صورتحال پیدا ہوگی۔ اسی خبر میں اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جب تک غزہ کا علاقہ حماس کے زیرحکومت رہے گا اس وقت تک ایک اور جنگ کبھی بھی شروع ہو سکتی ہے۔ اس اسرائیلی افسر نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ 2008میں اس علاقہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد حماس نے خود کو اس قدر مسلح کر لیا ہے کہ وہ ایک مضبوط فوج کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
ان خبروں کے تین روز بعد ہی غزہ میںاسلامی تحریک حماس کی آئینی حکومت کے وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ پٹی پر حملے کے لئے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میںوزیر اعظم ہانیہ نے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل غزہ پر ایک بار پھر بڑی جنگ مسلط کرنے کی تیاری کر چکا ہے۔ اس کے لئے اب صرف جواز کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کو کسی بھی جارحیت پر خبردار کرتے ہیں کہ اس میں دونوں طرف ہونے والے نقصان کا ذمہ دار اسرائیل ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی تحریک مزاحمت حماس اور مجاہدین کی طاقت 2008کی گزشتہ جنگ سے کہیں زیادہ مضبوط ہے ۔ حملہ ہوا تو اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑے گی۔اسمعٰیل ہانیہ نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن صہیونی دشمن نے اگر جنگ مسلط کی تو اس کا پوری قوت سے جواب دیاجائے گا۔ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی راہ میں مغربی کنارے میں فتح حکمراں محمود عباس ابومازن کا گروپ رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ اب فلسطین کے اکثر علاقوں پر اسرائیل نے اپنا قبضہ کیا ہوا ہے اور محض غزہ اور مغربی کنارہ میں فلسطینی (یعنی مسلمانوں کی)اکثریت باقی رہ گئی ہے ۔ غزہ میں جمہوری طریقہ سے قائم حماس کی حکومت ہے جسے مغربی ممالک تسلیم نہیں کرتے اورمغربی کنارہ پر یاسر عرفات کے جانشین موجودہ صدر محمود عباس کی جماعت فتح کی حکومت ہے جو مغرب نواز ہے ۔ اسی گروپ کے رہنما و ¿ں کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر پیش کرکے دنیا کودھوکہ دیا جاتا ہے اور ان نام نہاد مذاکرات کو بار بار ملتوی کرتے ہوئے امیدافضا اور نا امیدی والے بیانات جاری کر کے فلسطینی تحریک کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط کرانے کے پروگرام پر عمل کیا جاتاہے۔
27دسمبر کو ہی ایک اوردلچسپ خبر موصول ہوئی ۔ مصر میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک جاسوس سے تفتیش کے دوران موساد کے عرب ممالک میں جاسوسی نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد قاہرہ میں تعینات اسرائیلی سفیر اسحٰق لیفانون مقامی حکومت کو بغیر اطلاع دئے مع اہل خانہ وطن واپس چلے گئے۔اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مصر کے ایک قومی اخبار ’الیوم السابع‘ نے کہا ہے کہ قاہرہ میں تعینات اسرائیلی سفیر حکام کی طلبی یاگرفتاری کے خدشہ کے تحت قاہرہ چھوڑ کر تل ابیب واپس چلے گئے ہیں۔دوسری طرف اسرائیلی ٹیلی ویزن چینل ’ ٹی وی 10‘نے کہا ہے کہ لیفانون کی مصر سے واپسی معمول کا حصہ ہے ، تاہم فی الحال اسرائیل کی داخلی صورتحال ایسی نہیں ہے کہ اس پرکوئی تبصرہ کیا جاسکے ۔ اس کے مطابق لیفانون کی قاہرہ واپسی کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔
ادھر وکی لیکس کی جانب سے افشا کئے جانے والے ایک امریکی سفارتی پیغام سے یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ تین برس قبل شام میںمشتبہ جوہری ری ایکٹر کی تباہی کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا ۔ یہ پیغام سابق امریکی وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے ۔ اسرائیل اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کی تصدیق یا تردید سے انکار کرتا رہا ہے۔ تاہم اس حملے کے بعد عام خیال یہی تھا کہ یہ اسرائیل کا کام ہے جبکہ شام اس بات سے انکار کر تا رہا ہے کہ تباہ ہونے والی عمارت کسی جوہری ری ایکٹر کی تھی۔ادھر اسرائیل -فلسطین کے درمیان نام نہاد مذاکرات کی ناکامی کے امریکی اعتراف کے بعد نئی سازش شروع کی گئی ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا ہے کہ اگر بڑے اور اہم معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تو بھی اسرائیل -فلسطین کے درمیان عبوری امن معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر یروشلم اورپناہ گزینوں کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتا اور تعطل کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تب عبوری معاہدہ ممکن ہے ۔ نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی عبوری معاہدہ کی تجویز پر بات نہیں کریں گے۔ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو یہ تجویز رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے یہ اعتراف نہیں کیا کہ ہمیشہ اسرائیل کی وجہ سے ہی مذاکرات ناکام ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں امریکہ حکومت نے فلسطینی رہنماوں سے کہا تھا کہ اسرائیل جدید یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے معاملے پر کسی کی نہیں سن رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری معاہدہ کے بہانے فلسطینی مزاحمت پر روک لگائے جانے کی تیاری ہے تاکہ اس پر بھروسہ کر کے فلسطینی خاموش رہیں اور اسرائیل اپنی نئی یہودی بستیاںتعمیر کرتا رہے اور اسے دفاعی طور پرمزید مضبوط ہونے کا موقع مل سکے۔ میرا یقین ہے کہ اسرائیل کا مصر اور اردن کے ساتھ تبھی تک امن معاہدہ باقی رہے گا جب تک اسے حماس اور حزب اللہ سے خطرہ لاحق ہے۔ جب بھی وہ مستحکم محسوس کرے گا وہ مصر اور اردن کو بھی آنکھیں دکھائے گا اور تمام امن معاہدے ناکارہ ہوجائیں گے۔
اسرائیل کے تمام مظالم ظاہر ہونے ، سازشوں کا پردہ فاش ہونے اور اس کے فوجی طور پرکمزور ثابت ہونے کے باوجود اکثر عرب حکمراں اپنے آقا امریکہ کی خوشنودی کی خاطر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہیں ایران کے جوہری پروگرام سے خوفزدہ رکھ کر امریکہ پر منحصر رکھا جا رہا ہے ۔ انہیں یہ حقیقت نہیں معلوم کہ اگر وہ اپنے ممالک میں عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کر لیں تو عوام ان کی دیگرگناہوں کو بھی فراموش کر دیںگے۔ میں نے عراق جنگ 2003کے بعد کئی عرب ممالک کا سفر کیا ہے اور خطے کے بہت سے سیاسی مشاہدین سے تبادلہ خیال کیا ہے۔اس کے نتیجہ میں یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ پورے خطے میں عوامی سطح پر سب سے زیادہ نفرت امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہے جبکہ عوام حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو سب سے زیادہ پسند کرتی ہے۔اس نظریہ نے سنی اور شیعہ کے درمیان مسلکی فرق کو بھی ختم کردیا ہے۔ عوامی سطح پر میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ عراق ، ایران، کویت اور متحدہ عرب عمارات جیسے ممالک میں مسلکی تفریق بہت کم ہے جبکہ سعوی عرب میںحکومت کی سرپرستی والے شدت پسند نظریہ کی وجہ سے مسلکی نفرت باقی رکھنے کے لئے کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ایسے وقت میں جبکہ امریکہ اقتصادی بحران کی وجہ سے عراق اور افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنے میں جلدی کر رہا ہے۔ اس بات کے امکان بہت کم ہیں کہ امریکہ اسرائیل کو دفاعی طور پر اس حد تک مدد کرپائے گا جتنی اس نے 2006یا 2008میں دی تھی۔ امریکہ کی اقتصادی کمزوری اور اسرائیل کی دفاعی کمزوری ظاہر ہونے کے بعد اب یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ اسرائیل نئی جنگ شروع کرنے کی حالت میں ہے۔ اگر اسرائیل نے عزہ کے خلاف نئی جنگ شروع کی تو یہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اسے اس بار مزید ذلت آمیز ناکامی کاسامنا کرناپڑے گا۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا ahmadkazmi@hotmail.com یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

http://urdutahzeeb.net/world-affairs/articles/israel-will-not-suceed-in-gazza-again

For information in Urdu visit our Blog : Composite Culture, Latest Urdu News , Urdu News

0 comments:

Post a Comment