Thursday, December 23, 2010

Former Pakistan cricketers shower praise on Tendulkar

ویں سنچری بنانے پرپاکستانی کرکٹروں نے بھی سچن ٹنڈولکر کی زبردست تعریف کی

http://urdutahzeeb.net/current-affairs/news/former-pakistan-cricketers-shower-praise-on-tendulkar


Former Pakistan cricketers shower praise on Tendulkarلاہور : پاکستان کے 20سے لے کر 76سال تک کی عمر کے تمام موجودہ اور سابق کرکٹ کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کیرئیر کی 50ویں سنچری بنانے پر ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر کوزبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کرکٹ کے آئیکن سچن ٹنڈولکر نہ صرف کرکٹ کی پہچان ہیںبلکہ نوجوان ہی نہیں اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے سینئیر اور تجربے کار کھلاڑیوں کے لئے بھی مشعل راہ ہیں اور اتنے طویل عرصہ تک کرکٹ کی خدمت کرنے اور کرکٹ شوقینوں کو ہر قسم کی کرکٹ میں لطف اندوز کرنے اور اپنی خوبصورت بلے بازی سے ان کے دل جیت کر کرکٹ کا بھگوان کا اعزاز پانے کا انہیں جو فخر حاصل ہے وہ شائد رہتی دنیا تک اب کوئی کرکٹ کھلاڑی نہیں پا سکے گا۔ کیونکہ ٹیسٹ سنچریوں کی ہاف سنچری کے ساتھ ساتھ دونوں قسم کی کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری کے قریب پہنچنے کے علاوہ کم و بیش تمام ریکارڈوں پر قبضہ کر لینا کسی کرکٹر کے بس کی بات نہیں ہے اور سچن ٹنڈولکر جیسا بلے باز شائد کبھی کوئی دوسرا پیدا ہی نہ ہو سکے جو ہر قسم کی کرکٹ میں ریکارڈ قائم کر سکے۔سابق وکٹ کیپر و کپتان راشد لطیف نے کہا کہ سچن ٹنڈولکر بلا شبہ اس بات کا دعویٰ کر سکتے ہیں کہ کرکٹ کی تاریخ میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے اور وہ کرکٹ تاریخ کے عظیم ترین بلے باز ہیں۔راشد لطیف نے مزید کہا کہ اگر کسی کو سچن کی عظمت پر شبہ ہے تو اس بات پر تو بہر حال کسی کو کوئی شبہ نہیں ہوگا کہ وہ انتہائی بہتیرین اور کثرت سے رنز بنانے والے بلے باز ہیں نیز وہ ایک بے نقص رن مشین ہیں اور 50ویں سنچری اس بات کا بین ثبوت ہے۔ ایک اور سابق پاکستانی کرکٹر اور اپنے دور کے بہترین بلے باز جاوید میاں داد نے کہا کہ انہیں سچن ٹنڈولکر کی 50ویں سنچری پر بہت خوشی ہے ۔ جاوید میاں داد اس وقت پاکستانی کرکت ٹیم میں تھے جب 1989میں ٹنڈولکر نے پاکستان کے ہی خلاف اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ جب کہ اس ٹیم کے کپتان عمران خان تھے ۔جاوید میاں داد نے کہا کہ جب بہت ہی کم عمری میں سچن ٹنڈولکر اس ٹیسٹ میں بیٹنگ کرنے آیا تب ہی پوت کے پاﺅں پالنے میں ہی نظر آنے کے مصداق ان کی صلاحیتیں محسوس کر لی گئی تھیںکہ بہت جلد یہ کم عمر بلے باز دنیا میں اپنا نام روشن کرے گا۔اور 21سال تک مسلسل کرکٹ کھیلتے رہنا اور کبھی بھی خراب فارم کی بنیاد پر ڈراپ نہ کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کے اندر خدا داد صلاحیتیں ہیں اور ہر قسم کی کرکٹ میں اپنا لوہا منوانے کی صلاحیتیں دراصل خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی ہیں۔میاں داد نہ کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ مستقبل میں کوئی ان کی 50سنچریوں کا ریکارڈ توڑ پائے گا۔پاکستان کے ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر 76سالہ حنیف محمد نے سچن ٹنڈولکر کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ٹنڈولکر ٹیسٹ میچوں میں بیٹنگ کرتے ہیں تو نظارہ قابل دید ہوتا ہے۔اور میری یہی کوشش رہتی ہے کہ جس ٹیسٹ میں وہ کھیل رہا ہو اس میچ کو ضرور دیکھوں۔انہوں نے کہا کہ مین نے کسی بھی بلے باز کو نہیں دیکھا جس میں ایسی خداد داد صلاحیت رہی ہو یا ہے۔انہوں نے بھی یہی کہا کہ سچن بلا شبہ ہر کھلاڑی کے لئے مشعل راہ ہیں۔ایک اور سابق کپتان معین خان نے کہا کہ انہوں نے سچن ٹنڈولکر کے خلاف بہت سے میچ کھیلے ہیں اور وہ ان کے تقابلی جذبہ اور رنز کی بھوک کی تعریف کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ جتنے جارح بلے باز ہیں میدان میں اور میدان سے باہر اتنے ہی نرم گفتار اور عجز و انکساری کا پیکر ہیں۔ایک اور سابق ٹیسٹ کرکٹر اور اب سلیکٹر شعیب محمد نے جو خود بھی اس ٹیسٹ میچ میں کھیل رہے تھے جس میں سچن ٹنڈولکر نے ڈیبو کیا تھا، کہا کہ اس چیمپئین بلے باز کی کامیابیوں کا اصل راز اس کا اپنی بیٹنگ پر بھرپور توجہ دینا اور خود کو ہمیشہ فٹ رکھنا ہی ہے۔نیز اس پر طرہ یہ کہ ان میں خدا داد صلاحیتیں ہیں جس نے انہیں کرکٹ کی دنیا میں یکے بعد دیگرے نئے نئے ریکارڈ قائم کرنے کے مواقع دئے۔سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر جلال الدین ، عبدا لقادر،وسیم اکرم، وقار یونس،انضمام الحق، باسط علی، شعیب اختر اور ظہیر عباس سمیت کم و بیش تمام سابق و موجودہ کرکٹروں نے بھی سچن ٹنڈولکر کی زبرداستتعریف و توصیف کی ۔
Read In English

0 comments:

Post a Comment