Tuesday, November 02, 2010

Technologies That Should Be Extinct

نئی ایجادوں نے بدل دی دنیا

http://urdutahzeeb.net/world-affairs/articles/technologies-that-should-be-extinct-2



ایس اے ساگر S A Sagar
ایس اے ساگر
جہاں جانوروں اور نباتات کی کئی اقسام دنیا سے مٹ گئی ہیں یا مٹتی جارہی ہیں وہیں تکنیکی میدان میں بھی ناپید ہونے والی اشیاءکی تعداد اب تیزی سے سامنے آرہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ نیا ہے بلکہ ان دنوں محسوس کیا جارہا ہے کہ ان برق رفتاری پہلے کبھی نہیں پائی گئی تھی۔بڑے ریڈیو سیٹ‘ ٹیپ ریکارڈر‘ ٹائپ رائٹر اورٹیلی پرنٹرہی نہیں بلکہ لمبریٹا اور ویسپا جیسے اسکوٹر آج ماضی کی چیز بن چکے ہیں۔ماہرین کے نزدیک مٹنے والے حیوانات اور نباتات کرہ ارض کی آب وہوا میں رونما ہونے والی وتبدیلیوںکا شکار ہوئے ہیں۔اب یہ خطرہ صرف پودوں اور جانوروں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ خودانسان کے ہاتھوںوجود میں آئی ایجادات پر بھی بڑھ رہاہے۔ بہت سی ایجادات جو چند دہائیوں پہلے تک بہت مقبول تھیں ‘آج حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی سے غائب ہوچکی ہیں۔ کئی ایسی چیزیں جو کل تک اردگردکے ماحول میں کثرت سے دکھائی دیتی تھیں آج مفقود ہوچکی ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں کچھ مزید ایجادات ہماری زندگی سے نکل جائیں گی۔چند مہینے پہلے یوروپ میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر پرانے انداز کے بجلی کے قمقوں کی خریداری کی۔ روشن کرنے کے لیے نہیں بلکہ محفوظ رکھنے کے لیے تاکہ وہ اپنے بچوں کو یہ دکھاسکیں کہ ان کے زمانے میں کس طرح کے بلب جلائے جاتے تھے کیونکہ یوروپ کے اکثر ملکوں میں پرانے انداز کے برقی قمقوں کی فروخت قانوناً بند کردی گئی ہے اور اب وہاں صرف انرجی سیور بلب استعمال کیے جارہے ہیں۔مندرجہ ذیل آج کے دور کی چند ایسی ہی مقبول ایجادات پیش کی جارہی ہیں جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی رخصتی کا وقت آچکاہے۔ قارئین چاہیں تو انھیں ابھی سے اپنی یادوںمیںمحفوظ کرسکتے ہیں۔مثلاّ
فیکس مشین:
fax machineزیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ فیکس مشین کا بڑا والہانہ انداز میں استقبال کیا گیا تھا۔ غالباً دو ڈھائی دہائی پہلے کی بات ہے کہ کئی کاروباری ادارے اپنے اشتہاروں میں بڑے فخر سے یہ ذکر بھی کرتے تھے کہ ان کے ہاں فیکس مشن نصب ہے جبکہ آج ماہرین کا کہنا ہے کہ ای میل، سمارٹ فونز اور ٹچ اسکرین ٹیکنالوجی نے فیکس مشین کی ضرورت تقریباً ختم کردی ہے۔ مہنگے داموں فروخت ہونے والی فیکس مشینوں کو اب کوئی کوڑیوں کے مول اٹھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ فیکس مشین تیار کرنے والی کمپنیوں نے ترقی یافتہ ممالک کی مارکیٹوں سے اب اپنے اسٹاک اٹھا کر ترقی پذیر ممالک بھیجنے شروع کردیے ہیںتاکہ ٹھکانے لگانے سے پہلے وہ جتنی بک جائیں غنیمت ہے۔CB Radios
ٹیلی فون:
پندرہ بیس سال پہلے تک برصغیر ہند-پاک میں ٹیلی فون کنکشن لگوانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ بڑی سفارشوں اور کئی برس تک انتظار کرنے کے بعد ٹیلی فون نصیب ہوتا تھا۔ اکثر ترقی یافتہ ممالک کو بھی اسی طرح کے ملتے جلتے حالات کا سامنا تھاجبکہ موبائل فون اور آن لائن آڈیو اور ویڈیو چیٹنگ کی سہولت نے لینڈ لائن فون کو قصہ ماضی بنا دیا ہے۔ایک زمانہ تھاکہ فون لگوانے کے لیے سوسو پاپڑ بیلے جاتے تھے اور ایک یہ دور ہے کہ لوگ دھڑا دھڑ اپنے لینڈ لائن فون کنکشن کٹوا رہے ہیں۔ صرف امریکہ میں حالیہ چند برسوں میں ایک چوتھائی فون کٹوائے جاچکے ہیں اور یہاں 25 سے 29 سال کی عمروں کے 50 فی صد سے زیادہ افراد صرف موبائل فون استعمال کررہے ہیں۔اس کی وجہ صاف ہے کہ موبائل فون کم خرچ ہونے کےساتھ ساتھ ہر جگہ آپ کو دنیا سے جوڑے رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی مانیں تو لینڈ لائن فون کا زوال شروع ہوچکاہے کہ اس کی رخصتی اب زیادہ دور کی بات نہیں ہے۔
ڈی وی ڈیز:
محض چند دہائی قبل ڈی وی ڈی کا بڑا شہرہ تھا جبکہ اس کی شہرت کا سورج بہت جلد ڈھل گیا ہے۔ آج امریکہ اور یوروپی مارکیٹوں سے ڈی وی ڈی نکلتی جارہی ہیں اور اس کی جگہ لے رہی ہے بلیو رے ڈسک جن پر بہت اچھی کوالٹی کی ویڈیوریکار ڈ کی جاسکتی ہیں۔ بلیورے ڈسک چونکہ عام ڈی وی ڈی پلئیروں میں نہیں چل سکتی‘اس لیے مارکیٹ میں ڈی وی ڈی پلیئر اور ریکارڈروں کی فروخت کم ہوتی جارہی ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ آئندہ چند برسوں میں ڈی وی ڈی مارکیٹ سے مکمل طورپر غائب ہوجائیں گی۔
فلم پروجیکٹر:
سینما ہالوں پر مبنی فلمی صنعت ایک عرصے سے روبہ زوال ہے اور سینما ہالوں کو گرا کر ان کی جگہ شاپنگ پلازے اور شادی ہالوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں فلمی صنعت بدستور ترقی کررہی ہے اوربڑی بڑی ٹیلی ویژن اسکرینوں کی آمد کے باوجود لوگوں کی اکثریت اب بھی فلم دیکھنے کے لیے سینما ہالوں کا رخ کرتی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ میں سینما ہالوں سے پرانے انداز کے فلم پروجیکٹر غائب ہوتے جارہے ہیں اور ان کی جگہ لے رہے ہیں ڈیجیٹل فلم پروجیکٹر۔ 2005میں امریکہ بھر میں صرف ایک سو سینما ہالوں میں ڈیجیٹل فلم پروجیکٹر نصب تھے اور آج2010میں یہ تعداد 16ہزار سے بڑھ چکی ہے جن میں سے پانچ ہزار پروجیکٹر ایسے ہیں جن میں تھری ڈی فلمیں دکھانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ چندبرسوں میں پرانے فلم پروجیکٹر یکسر غائب ہوجائیں گے اور سلولائیڈ کے بڑے بڑے فلم رول صرف عجائب گھروں میں ہی دیکھے جاسکیں گے۔
کمپیوٹر ماؤس:
کمپیوٹر کے استعمال کو آسان بنانے میں ماؤس کا بڑا ہاتھ ہے۔ شاید ہی کوئی کمپیوٹر ایسا ہو، جسے ماؤس کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر آپریٹر تو اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ بھی ماؤس استعمال کرتے ہیں اگرچہ ان میں ٹچ پیڈ موجود ہوتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر ماؤس کو الواع کہنے کا وقت قریب آرہاہے اور اس کی وجہ ہے تیزی سے مقبول ہوتا ہوا میجک ٹریک پیڈجس کے لیے تار کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پیڈ بلیو ٹوتھ فریکونسی پر کام کرتا ہے اور اس کی کارکردگی نہ صرف روایتی ماؤس سے بہتر ہے بلکہ اس کا استعمال بھی زیادہ آسان ہے۔
موبائل فون چارجر:
موبائل فون رکھنے والوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ اس کی بیٹری چارجنگ کرنے کا ہوتا ہے۔ ہر فون کمپنی اپنا مختلف انداز کا چارجر بناتی ہے۔ اکثر اوقات ایک گھر میں کئی کئی چارجر لگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اور اگر کہیں جاتے ہوئے آپ اپنا چارجر بھول گئے ہیں تو آپ کو دقت کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ اس کا نیا حل ہے وائرلس چارجر۔ مختلف پنوں اورتار کا جھنجھٹ ختم۔ آپ کہیں بھی اپنا موبائل فون اور جی پی ایس چارج کرسکتے ہیں۔ اس چھوٹے سے آلے کو آپ اپنے گھر میں یا کسی بھی جگہ پلگ کے ساتھ نصب کردیں تووہ اس چاردیواری میں موجود تمام موبائل فونوں ، جی پی ایس اور اسی طرح کے دیگر آلات کو خود بخود چارج کردے گایہی نہیں بلکہ جب بیٹری پوری طرح چارج ہوجائے گی تو وہ اپنا کام بند کردے گا، جس سے بجلی کی بچت بھی ہوسکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں وائرلس چارجر ایسے مقبول ہوں گے کہ روایتی چارجراپنا وجود کھودیں گے۔
پلازما ٹیلی ویژن:
حالاںکہ اکثر ترقی پذیر ملکوں میں اب بھی ٹیوب ا سکرین کے ٹیلی ویژن کام کررہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ملکوں میں فلیٹ اسکرین پلازما ٹیکنالوجی اپنے جلوے دکھا کر واپسی کے راستے پر ہے۔ ٹیلی ویژن بنانے والی اکثر کمپنیوں نے پلازما ٹیکنالوجی کا استعمال ترک کرکے اس کی بجائے ایل سی ڈی ٹیلی ویژن بنانے شروع کردیے ہیں، جو نہ صرف یہ کہ مقابلتاً سستی ٹیکنالوجی ہے بلکہ اس میں بجلی کا استعمال بھی کم ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایل سی ڈی فلیٹ ا سکرین ‘کسی عام اسکرین سے زیادہ دیر پا بھی ہے۔
کریڈٹ کارڈ:
کچھ لوگ ترقی یافتہ ممالک کی تیز رفتار ترقی کا کریڈٹ ، کریڈٹ کارڈوں کو بھی دیتے ہیںجس نے خرید و فروخت کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں بھی کریڈٹ کارڈ تیزی سے مقبول ہورہے ہیں لیکن ماہرین کا کہناہے کہ کریڈٹ کارڈ اپنی عمر عزیز کے آخری دور میں داخل ہوچکے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں وہ ہماری زندگی سے رخصت ہوجائیں گے۔ کریڈٹ کارڈوں کی جگہ لینے کے لیے جوچیز تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، وہ ہے موبائل فون۔ اسمارٹ فونوں میں ان دنوں ریڈ یو فریکونسی کے ذریعے شناخت کی سہولت فراہم کی جارہی ہے جو مالیاتی لین دین کے کام آتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب خریدو فروخت کے موقع پر ان سے کریڈٹ کارڈ کا کام لیا جارہاہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ جب موبائل فون کے ذریعے آپ لین دین کرسکتے ہوں تو پھر ایک اضافی کارڈ اپنی جیب میں رکھنے کی کیا ضرورت ہوگی!
آئی پاڈ:
آئی پاڈ کی ایجاد نے اپیل کمپیوٹر کمپنی کو نہ صرف ڈوبنے سے بچایا بلکہ الیکٹرانک کی دنیا کی صف اول کی کمپنیوں میں لاکھڑا کیا ہے۔ آئی پاڈ ، دیجیٹل میوزک پلیئر ہے جو بالخصوص نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہوا۔ ہر چند کہ مارکیٹ میں بہت سے ڈیجیٹل میوزک پلیئر موجود ہیں مگر مقبولیت کے اعتبار سے آئی پاڈ اب بھی سب سے آگے ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب آئی پاڈ اور ڈیجیٹل میوزک پلیئر اپنی رخصتی کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور چندبرسوں کے بعد وہ بمشکل ہی کہیں دکھائی دیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو چیز ڈیجیٹل میوزک پلیئر کی جگہ لے رہی ہے ‘ وہ ہے موبائل فون۔ا سمارٹ موبائل فونوںمیں میوزک ذخیرہ کرنے کی تقریباً اتنی ہی گنجائش موجود ہے جتنی کہ ڈیجیٹل میوزک پلیئروں میں ہوتی ہے مگر ان میں میوزک کے علاوہ اور بھی بہت سے اضافی فوائد موجود ہیںجبکہ حیرت کا پہلو یہ ہے کہ آئی پاڈ کی جگہ لینے کے لیے جو چیز تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے وہ اپیل کمپنی کا ہی آئی فون ہے جو مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہاہے۔
Read In English


0 comments:

Post a Comment